تیری دنیا سے دور ہو جاتا ہوں
حکم تو کیجیے بےنور ہو جاتا ہوں
تجھ دیکھ کر بہکنا نہیں چاہتا لیکن
دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہوں
آپ کی ہی تو حکومت ہے ہم پہ سو
جیسے کہو ویسے حضور ہو جاتا ہوں
تیری دنیا سے دور ہو جاتا ہوں
حکم تو کیجیے بےنور ہو جاتا ہوں
تجھ دیکھ کر بہکنا نہیں چاہتا لیکن
دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہوں
آپ کی ہی تو حکومت ہے ہم پہ سو
جیسے کہو ویسے حضور ہو جاتا ہوں
سخن نہیں پڑھتے تصویر پہ مر جاتے ہیں
رانجھا نما کسی بھی ہیر پہ مر جاتے ہیں
اس نے منع نہیں کِیا، بس اشارہ دیا ہے
بے نوا خوابوں کی تعبیر پہ مر جاتے ہیں
ہم عشق کے اس قدر عقیدت مند ہیں کہ
کرامت دیکھے بنا ہی پیر پہ مر جاتے ہیں
دکھ سینے سے بڑے کرب سے نکلا ہے
ایسے ہی نہیں سوز طرب سے نکلا ہے
عدو سامنے ہے، یہ گُتھی سلجھاؤ یارو
کہ خنجر کیسے مِرے عقب سے نکلا ہے
تم اس لیے بھی ہو اہم مِرے لیے کیونکہ
تیرا نام ہی میری ہر طلب سے نکلا ہے
رخسار سے گیسوؤں کا بل نکالے
اسے کہو مِرے مسئلے کا حل نکالے
میرا آج خوش آئند ہو سکتا ہے
گر مِرے ذہن سے وہ اپنا کل نکالے
اسےکہنا کوئی منتظر بیٹھا ہے تِرا
مصروفیتِ زندگی سے دو پل نکالے
وہ ترکِ تعلق ترکِ آشنائی چاہتا تھا
ایسے ہی نہیں وہ جدائی چاہتا تھا
باادب ہو کر بھی نا بدلی فطرتِ دل
کُوئے یار سے پھر رُسوائی چاہتا تھا
ہر شخص فنکار تھا اس کی بزم میں
ہر شخص ہی مدح سرائی چاہتا تھا
ایسا نہیں کہ کھلا در ہی نہیں رہا
وہ مجھ کو بلا کر گھر ہی نہیں رہا
حسنِ کائنات بھی کم پڑ گیا ہے
پیمانۂ دل میرا بھر ہی نہیں رہا
کوئی تیار نہیں ہے معتبر بننے کو
دستار تو ہے پر سر ہی نہیں رہا