Showing posts with label وسیم ارشد. Show all posts
Showing posts with label وسیم ارشد. Show all posts

Sunday, 24 April 2022

تیری دنیا سے دور ہو جاتا ہوں

 تیری دنیا سے دور ہو جاتا ہوں

حکم تو کیجیے بےنور ہو جاتا ہوں

تجھ دیکھ کر بہکنا نہیں چاہتا لیکن

دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہوں

آپ کی ہی تو حکومت ہے ہم پہ سو

جیسے کہو ویسے حضور ہو جاتا ہوں

Sunday, 25 April 2021

سخن نہیں پڑھتے تصویر پہ مر جاتے ہیں

 سخن نہیں پڑھتے تصویر پہ مر جاتے ہیں

رانجھا نما کسی بھی ہیر پہ مر جاتے ہیں

اس نے منع نہیں کِیا، بس اشارہ دیا ہے

بے نوا خوابوں کی تعبیر پہ مر جاتے ہیں

ہم عشق کے اس قدر عقیدت مند ہیں کہ

کرامت دیکھے بنا ہی پیر پہ مر جاتے ہیں

Tuesday, 6 April 2021

دکھ سینے سے بڑے کرب سے نکلا ہے

 دکھ سینے سے بڑے کرب سے نکلا ہے

ایسے ہی نہیں سوز طرب سے نکلا ہے

عدو سامنے ہے، یہ گُتھی سلجھاؤ یارو

کہ خنجر کیسے مِرے عقب سے نکلا ہے

تم اس لیے بھی ہو اہم مِرے لیے کیونکہ

تیرا نام ہی میری ہر طلب سے نکلا ہے

Sunday, 4 April 2021

رخسار سے گیسوؤں کا بل نکالے

 رخسار سے گیسوؤں کا بل نکالے

اسے کہو مِرے مسئلے کا حل نکالے

میرا آج خوش آئند ہو سکتا ہے

گر مِرے ذہن سے وہ اپنا کل نکالے

اسےکہنا کوئی منتظر بیٹھا ہے تِرا

مصروفیتِ زندگی سے دو پل نکالے

Thursday, 25 February 2021

وہ ترک تعلق ترک آشنائی چاہتا تھا

 وہ ترکِ تعلق ترکِ آشنائی چاہتا تھا

ایسے ہی نہیں وہ جدائی چاہتا تھا

باادب ہو کر بھی نا بدلی فطرتِ دل

کُوئے یار سے پھر رُسوائی چاہتا تھا

ہر شخص فنکار تھا اس کی بزم میں

ہر شخص ہی مدح سرائی چاہتا تھا

Monday, 14 December 2020

ایسا نہیں کہ کھلا در ہی نہیں رہا

 ایسا نہیں کہ کھلا در ہی نہیں رہا

وہ مجھ کو بلا کر گھر ہی نہیں رہا

حسنِ کائنات بھی کم پڑ گیا ہے

پیمانۂ دل میرا بھر ہی نہیں رہا

کوئی تیار نہیں ہے معتبر بننے کو

دستار تو ہے پر سر ہی نہیں رہا