عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذکرِ شہ ابرارﷺ مدام اچھا لگے ہے
ہر آن درود اور سلام اچھا لگے ہے
رہتی ہے سدا پیشِ نظر پیروی انؐ کی
جو اچھا لگے ان کو وہ کام اچھا لگے ہے
دیوانہ کہے یا کوئی کچھ کہے مجھ کو
قرآن کے بعد انؐ کا کلام اچھا لگے ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذکرِ شہ ابرارﷺ مدام اچھا لگے ہے
ہر آن درود اور سلام اچھا لگے ہے
رہتی ہے سدا پیشِ نظر پیروی انؐ کی
جو اچھا لگے ان کو وہ کام اچھا لگے ہے
دیوانہ کہے یا کوئی کچھ کہے مجھ کو
قرآن کے بعد انؐ کا کلام اچھا لگے ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
سوچ رہا ہوں اب بھی یقیناً کوئی کمی کردار میں ہے
یٰسیںؐ طٰہٰؐ شان ہے جس کی رحمتِ عالمؐ جس کا لقب
ہائے وہ سنگ و خشت کی زد پر طائف کے بازار میں ہے
ملکوں ملکوں شہروں شہروں دیکھ چکے ہیں ہم لیکن
ایسا رنگ و نور کہاں جو کوئے شہِ ابرارﷺ میں ہے
یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے
خوابوں کو پلکوں پہ سجانا کتنا اچھا لگتا ہے
تیری طلب میں پتھر کھانا کتنا اچھا لگتا ہے
خود بھی رونا سب کو رُلانا کتنا اچھا لگتا ہے
ہم کو خبر ہے شہر میں اس کے سنگِ ملامت ملتے ہیں
پھر بھی اس کے شہر میں جانا کتنا اچھا لگتا ہے
کالے ہوں یا اجلے پتھر
ہوتے ہیں کب کس کے پتھر
پتھر سے امید عبث ہے
پتھر تو ہیں پگلے پتھر
درد و سوز کے پیکر انساں
ہو جاتے ہیں کیسے پتھر
خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کی
امیرِ شہر سے یاری نہیں کی
کسی منصب، کسی عہدے کی خاطر
کوئی تدبیر بازاری نہیں کی
بس اتنی بات پر دنیا خفا ہے
کہ میں نے تجھ سے غداری نہیں کی
دشتِ تنہائی، بادل، ہوا اور میں
روز و شب کا یہی سلسلہ اور میں
اجنبی راستوں پر بھٹکتے رہے
آرزوؤں کا اک قافلہ اور میں
دونوں ان کی توجہ کے حقدار ہیں
مجھ پہ گزرا تھا جو سانحہ اور میں
بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا
کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا
جوانوں کو جو درس بزدلی دیں
کبھی ہونٹوں پہ وہ قصے نہ رکھنا
اگر پھولوں کی خواہش ہے تو سن لو
کسی کی راہ میں کانٹے نہ رکھنا