زیست جس وقت ڈستی ہوتی ہے
موت اس وقت سستی ہوتی ہے
ہاتھ پکڑے کی لاج تم رکھنا
عشق میں ایک مستی ہوتی ہے
رنج و غم، درد و کرب، حسرت و یاس
نیستی میں بھی ہستی ہوتی ہے
زیست جس وقت ڈستی ہوتی ہے
موت اس وقت سستی ہوتی ہے
ہاتھ پکڑے کی لاج تم رکھنا
عشق میں ایک مستی ہوتی ہے
رنج و غم، درد و کرب، حسرت و یاس
نیستی میں بھی ہستی ہوتی ہے
جب کبھی ان سے بات ہوتی ہے
وجد میں کائنات ہوتی ہے
جب بھی آتی ہے اس کو انگڑائی
چاندنی حسن ذات ہوتی ہے
جب تلک کوئی ہم کنار نہ ہو
زندگی بے ثبات ہوتی ہے
وسائل میں اضافہ ہو رہا ہے
مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے
ہوا ہے پست فکر و فن کا معیار
رسائل میں اضافہ ہو رہا ہے
دماغ آسیب کی زد میں لیکن
فضائل میں اضافہ ہو رہا ہے
زندگی یوں تو اک عذاب لگے
تیرا ملنا مگر ثواب لگے
نیم شب اس کے خواب کا عالم
مجھ کو آنگن میں ماہتاب لگے
وہ تِرا قرب تھا، مِری تقریب
وہ حقیقت بھی اب تو خواب لگے