Monday, 1 June 2026

بلا عنوان افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا

 بِلا عُنوان افسانہ کہے گا تم بھی سُن لینا

خِرد کی بات دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

رموزِ عشق دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

وہ کعبہ کو صنم خانہ کہے گا تم بھی سن لینا

دلِ غم آشنا جب تنگ آ کر زندگانی سے

شبِ فُرقت کا افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا

فِدا کیوں جان کر دیتا ہے بڑھ کر شمعِ محفل پر

کبھی یہ راز پروانہ کہے گا تم بھی سن لینا

جو بہکی بہکی باتوں سے محبت میں نہ باز آئے

تو عالم تم کو دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

بہت سے راز اس سے گُلستاں کے مُنکشف ہوں گے

اک ایسی بات وِیرانہ کہے گا تم بھی سن لینا

نہ بھُولیں گے قیامت تک بھی اربابِ چمن جن کو

وہ باطن آج دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

یہ ہونے کو تو دیوانہ ہے لیکن راز کی باتیں

با اندازِ کلیمانہ کہے گا تم بھی سن لینا

ابھی کیا ہے ابھی ہر ایک ساتھی ظُلم کی باتیں

با انداز رفیقانہ کہے گا تم بھی سن لینا

یہی رِند زیادہ نوش غریق بے خودی ہو کر

ابھی شیشے کو پیمانہ کہے گا تم بھی سن لینا

رضی! میرا مذاق عاشقی جس نے اُڑایا ہے

وہی اب اپنا دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا


رضی بدایونی

مولوی رضی احمد

No comments:

Post a Comment