ہمارے سینے میں جو خلا تھا
وہ سانس لینے سے بڑھ رہا تھا
زمیں مسلسل سرک رہی تھی
میں خود کو تھامے ہوئے کھڑا تھا
میں تیرے چُھونے سے ڈر رہا ہوں
میں تیرے ہاتھوں سے گر گیا تھا
ہمارے سینے میں جو خلا تھا
وہ سانس لینے سے بڑھ رہا تھا
زمیں مسلسل سرک رہی تھی
میں خود کو تھامے ہوئے کھڑا تھا
میں تیرے چُھونے سے ڈر رہا ہوں
میں تیرے ہاتھوں سے گر گیا تھا
عجب نہیں ہے جو آواز جابجا ہے مِری
یہ رفتگاں کے لیے آخری صدا ہے مری
فسردہ بام پہ رکھا ہوا دِیا ہے مِرا
لرزتے طاق میں جلتی ہوئی دعا ہے مری
میں ورد کرتے ہوئے جنگ جیت جاتا ہوں
عجیب اسم ہے اور تیغ پر لکھا ہے مری
بے رُتبہ آنکھیں
کتنا آساں ہے یہ کہنا
یہ تیری ناکامی صلہ ہے تیرے کرموں کا
اسمِ اعظم سے پہچانے جانے والے
میری نیکی کی سچائی
میری جبیں اور مِرے سجدے
بے رتبہ آنکھیں
کتنا آساں ہے یہ کہنا
یہ تیری ناکامی صلہ ہے تیرے کرموں کا
اسمِ اعظم سے پہچانے جانے والے
میری نیکی کی سچائی
میری جبیں اور مِرے سجدے
مجھے انتظار تھا شام سے، میں بھرا ہوا تھا کلام سے
مِری اپنے آپ سے گفتگو، کوئی دیکھتا در و بام سے
کوئی نہر تھی نہ درخت تھا، یہ کئی زمانوں سے دشت تھا
یہاں شہر بستے چلے گئے، مِرے دل میں تیرے قیام سے
مِری بزم سے جو چلا گیا، تو پتا چلا اسے رنج تھا
اسے رنج تھا کہ میں دیکھتا، میں پکارتا اسے نام سے
راتوں کی دلدل سے نکل کر
راتوں کی دلدل سے نکل کر
نا موجود زمانے کی
بوجھل تشنگیوں کی بابت
آوازوں کا شور سمندر
چاروں جانب پھیل گیا ہے
زمیں پر آخری لمحے
اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں
چراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رِستا ہے
سمندر کشتیوں میں چھید کرتی مچھلیوں سے
بھر گئے ہیں
منزلوں کی خواہشوں سے دور ہے اب ہر مسافر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بنا کے عرشِ معلّی، نماز پڑھتا ہے
امام خاک پہ بیٹھا نماز پڑھتا ہے
سوار گِرتے رہے ٹُوٹتی رہی تسبیح
بوقتِ عصر اکیلا نماز پڑھتا ہے
میں دیکھتا ہوں کہ قیدی امام کے پیچھے
ہر ایک ماتمی حلقہ نماز پڑھتا ہے