Showing posts with label فیصل ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label فیصل ہاشمی. Show all posts

Saturday, 9 April 2022

ہمارے سینے میں جو خلا تھا

 ہمارے سینے میں جو خلا تھا

وہ سانس لینے سے بڑھ رہا تھا

زمیں مسلسل سرک رہی تھی

میں خود کو تھامے ہوئے کھڑا تھا

میں تیرے چُھونے سے ڈر رہا ہوں

میں تیرے ہاتھوں سے گر گیا تھا

Friday, 14 January 2022

عجب نہیں ہے جو آواز جابجا ہے مری

 عجب نہیں ہے جو آواز جابجا ہے مِری

یہ رفتگاں کے لیے آخری صدا ہے مری

فسردہ بام پہ رکھا ہوا دِیا ہے مِرا

لرزتے طاق میں جلتی ہوئی دعا ہے مری

میں ورد کرتے ہوئے جنگ جیت جاتا ہوں

عجیب اسم ہے اور تیغ پر لکھا ہے مری

Wednesday, 13 October 2021

بے رتبہ آنکھیں

 بے رُتبہ آنکھیں


کتنا آساں ہے یہ کہنا

یہ تیری ناکامی صلہ ہے تیرے کرموں کا

اسمِ اعظم سے پہچانے جانے والے

میری نیکی کی سچائی

میری جبیں اور مِرے سجدے

Tuesday, 7 September 2021

کتنا آساں ہے یہ کہنا یہ تیری ناکامی صلہ ہے

 بے رتبہ آنکھیں


کتنا آساں ہے یہ کہنا

یہ تیری ناکامی صلہ ہے تیرے کرموں کا

اسمِ اعظم سے پہچانے جانے والے

میری نیکی کی سچائی

میری جبیں اور مِرے سجدے

Friday, 25 June 2021

مجھے انتظار تھا شام سے میں بھرا ہوا تھا کلام سے

 مجھے انتظار تھا شام سے، میں بھرا ہوا تھا کلام سے

‎مِری اپنے آپ سے گفتگو، کوئی دیکھتا در و بام سے

‎کوئی نہر تھی نہ درخت تھا، یہ کئی زمانوں سے دشت تھا

‎یہاں شہر بستے چلے گئے، مِرے دل میں تیرے قیام سے

‎مِری بزم سے جو چلا گیا، تو پتا چلا اسے رنج تھا

‎اسے رنج تھا کہ میں دیکھتا، میں پکارتا اسے نام سے

Monday, 24 May 2021

راتوں کی دلدل سے نکل کر

 راتوں کی دلدل سے نکل کر


راتوں کی دلدل سے نکل کر

نا موجود زمانے کی

بوجھل تشنگیوں کی بابت

آوازوں کا شور سمندر

چاروں جانب پھیل گیا ہے

Wednesday, 13 January 2021

اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں

 زمیں پر آخری لمحے


اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں

چراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رِستا ہے

سمندر کشتیوں میں چھید کرتی مچھلیوں سے

بھر گئے ہیں 

منزلوں کی خواہشوں سے دور ہے اب ہر مسافر

Friday, 4 September 2020

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں 
ہم اپنے ہی خوف کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں 
⽹دیکھوں تو آئینے کا زنگار سلگتا ہے⽹ 
بند کروں تو آنکھوں کے انگارے جاتے ہیں 
ڈھونڈ رہے ہیں کب سے اپنے لہجے کا تِریاق 
لفظ ہمارے ہم پر ہی "پھنکارے" جاتے ہیں 

Monday, 26 December 2016

پہلے تیار کیوں نہیں ہوتا

پہلے تیار کیوں نہیں ہوتا
جسم بیدارکیوں نہیں ہوتا
میں نے بھیدوں سے بھر لیا خود کو
مجھ سے اظہار کیوں نہیں ہوتا
ٹوٹتا جا رہا ہوں بارش سے
سارا مسمار کیوں نہیں ہوتا

Wednesday, 14 December 2016

تمہارے نام کا ہم ورد کرنے والے تھے

تمہارے نام کا ہم ورد کرنے والے تھے 
کہ اس سبب سے کئی ڈر اترنے والے تھے
میں روز جاتا وہاں پھول رکھ کے آ جاتا 
تم ایک بار جہاں پاؤں دھرنے والے تھے
ہم ایسے لوگ جنہیں روشنی ڈراتی ہے
دِیا جلا کر تِرے نام کرنے والے تھے 

رواں دواں ہے تری سمت اس سبب سے کوئی

رواں دواں ہے تِری سمت اس سبب سے کوئی
زمیں لپیٹ رہا ہے، کہِیں عقب سے کوئی
جنہوں نے ساری گِرہیں کھول کر دکھائی تھیں
نفیس ہاتھ تھے اور لوگ تھے عجب سے کوئی
عجیب رنگ کا اک پھول کِھلتے دیکھتا ہوں 
جہاں نشان سا پڑتا ہے تیرے لب سے کوئی

ایک آواز مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے

ایک آواز مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے
اک پیالے کی طرح شور سے بھر جاتا ہوں
درد کرتے ہیں سرِ شام تلاوت میری
میں تِرا سوگ مناتے ہوئے گھر جاتا ہوں
رات ہوتے ہی مجھے نیند پکڑ لیتی ہے
آنکھ لگتے ہی تِرے ہجر میں مر جاتا ہوں

گو کہ موجود و میسر سے گریزاں تھا میں

گو کہ موجود و میسر سے گریزاں تھا میں 
بے نمو عہد میں آیندہ کا امکاں تھا میں
شامِ افسوس! مِرے دل نے مِرا ساتھ دیا
شہرِ ہم خواب میں اک رات کا مہماں تھا میں
ایک جیسے در و دیوار تھے چاروں جانب 
اتنے ہم شکل مکانوں میں پریشاں تھا میں

دستک کی دہلیز پہ

دستک کی دہلیز پہ 

دروازے پر دستک کا دم ٹوٹ رہا تھا
میرے لبوں کی تھکی ہوئی آواز نے پوچھا 
کون ہے بھائی؟ 
اب بستر سے دروازے تک جاتے جاتے
ایک زمانہ لگ جاتا ہے

Sunday, 16 October 2016

سکوت نیم شبی میں صدا لگاتا ہوا

سکوتِ نیم شبی میں صدا لگاتا ہوا
میں ایک حرف ہوں کوہِ ندا سے آتا ہوا
پھر ایک ہاتھ اسی خاک سے نمایاں ہوا
گزشت و رفت کے ہر نقش کو مٹاتا ہوا
کوئی تو ہے جو پسِ طاق رکھتا جاتا ہے
یہ سارے پھول تیرے ہونٹ سے لگاتا ہوا

مٹنے والا تھا جو اک نقش ابھارا میں نے

مٹنے والا تھا جو اک نقش ابھارا میں نے
اپنے ہونٹوں سے لگا زنگ اتارا میں نے
آئینہ، عمر کی تفصیل بتا دیتا ہے
اک نظر دیکھ لیا خود کو دوبارا میں نے
ویسی ہی شکل کا اک شخص مِرے سامنے تھا
ٹوٹتی نیند میں جو نام پکارا میں نے

بنا کے عرش معلی نماز پڑھتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بنا کے عرشِ معلّی، نماز پڑھتا ہے

امام خاک پہ بیٹھا نماز پڑھتا ہے

سوار گِرتے رہے ٹُوٹتی رہی تسبیح

بوقتِ عصر اکیلا نماز پڑھتا ہے

میں دیکھتا ہوں کہ قیدی امام کے پیچھے

ہر ایک ماتمی حلقہ نماز پڑھتا ہے

Monday, 6 January 2014

تو گزر گیا کسی موج میں جسے توڑ کر میرے کوزہ گر

تُو گزر گیا کسی موج میں، جسے توڑ کر میرے کُوزہ گر
میرے خال و خد کے نقُوش تھے، اسی چاک پر میرے کوزہ گر
ترے بعد کُوزہ فروش نے، مجھے طاقچے میں سجا دیا
جہاں ٹوٹ جانے کا خوف تھا، مجھے رات بھر میرے کوزہ گر
تیری کار گاہ کی خامشی، مجھے نا تمام نہ چھوڑ دے
تو دوام ہوتے سکوت میں، کوئی بات کر میرے کوزہ گر