Showing posts with label منظور الفت. Show all posts
Showing posts with label منظور الفت. Show all posts

Tuesday, 26 March 2024

ٹہنیوں شاخوں والی جنت پاس کھڑی شرمیلی حُوریں

 جنت


ٹہنیوں شاخوں والی جنت

پاس کھڑی شرمیلی حُوریں

چمکتی اور رنگیلی حُوریں

جنت میں تقسیم ہوئی ہیں

شیخ نے بولا ستر حوریں کافی کم ہیں

میں مسند پہ دور کہیں 

Tuesday, 12 March 2024

جہاں تنگ نظر سماج ہو جہاں لٹیروں کا راج ہو

 جہاں تنگ نظر سماج ہو 

جہاں لٹیروں کا راج ہو

جہاں غریبوں کی آہ کا 

اور نہ شہیدوں کی لاج ہو

جہاں فقیروں کی زندگی میں 

نہ عیش ہو نہ اناج ہو

Tuesday, 30 January 2024

تصور یار فکر کی بیہودگی پہ تھو

 تصورِ یار فکر کی بیہودگی پہ تُھو

شبِ غم رہِ غم تِری باقاعدگی پہ تُھو

ہر روز آئے دن مایوسیوں پہ خاک

میری تمام عُمر، سبھی زندگی پہ تُھو

دشتِ جنون فرش کی وسعتوں پہ تُف

پھیلی ہوئی نجاست و آلودگی پہ تُھو

Monday, 29 January 2024

ارے واہ خدا تیری شان وہ چائے لائی

 ارے واہ خدا تیری شان وہ چائے لائی

میں خود بھی ہوا حیران وہ چائے لائی

ہجر و وصل پہ تھا آج کا مضمون میرا 

میں بتا ہی نہ سکا عنوان وہ چائے لائی

میں سوچ رہا تھا عشق کا پرچار کروں

حسرتوں کا ہُوا نقصان وہ چائے لائی

Monday, 19 April 2021

یہ علالت یہ بے کسی توبہ

 یہ علالت، یہ بے کسی توبہ

ہائے، میری یہ زندگی توبہ

اک محبت سے دُور رہ جاتے

ورنہ کیا تھی ہمیں کمی توبہ

لوگ زخموں پہ وار کرتے ہیں

دیکھی اتنی بھی بے حسی توبہ

Sunday, 18 April 2021

حسرتوں سے فرار حاصل ہو

 حسرتوں سے فرار حاصل ہو

زندگی سے قرار حاصل ہو

اب خزاں سے نجات مل جائے

اب کہ ہم کو بہار حاصل ہو

دوستی کا مزہ تو تب ہے کہ

دوست جب رازدار حاصل ہو