جنت
ٹہنیوں شاخوں والی جنت
پاس کھڑی شرمیلی حُوریں
چمکتی اور رنگیلی حُوریں
جنت میں تقسیم ہوئی ہیں
شیخ نے بولا ستر حوریں کافی کم ہیں
میں مسند پہ دور کہیں
جنت
ٹہنیوں شاخوں والی جنت
پاس کھڑی شرمیلی حُوریں
چمکتی اور رنگیلی حُوریں
جنت میں تقسیم ہوئی ہیں
شیخ نے بولا ستر حوریں کافی کم ہیں
میں مسند پہ دور کہیں
جہاں تنگ نظر سماج ہو
جہاں لٹیروں کا راج ہو
جہاں غریبوں کی آہ کا
اور نہ شہیدوں کی لاج ہو
جہاں فقیروں کی زندگی میں
نہ عیش ہو نہ اناج ہو
تصورِ یار فکر کی بیہودگی پہ تُھو
شبِ غم رہِ غم تِری باقاعدگی پہ تُھو
ہر روز آئے دن مایوسیوں پہ خاک
میری تمام عُمر، سبھی زندگی پہ تُھو
دشتِ جنون فرش کی وسعتوں پہ تُف
پھیلی ہوئی نجاست و آلودگی پہ تُھو
ارے واہ خدا تیری شان وہ چائے لائی
میں خود بھی ہوا حیران وہ چائے لائی
ہجر و وصل پہ تھا آج کا مضمون میرا
میں بتا ہی نہ سکا عنوان وہ چائے لائی
میں سوچ رہا تھا عشق کا پرچار کروں
حسرتوں کا ہُوا نقصان وہ چائے لائی
یہ علالت، یہ بے کسی توبہ
ہائے، میری یہ زندگی توبہ
اک محبت سے دُور رہ جاتے
ورنہ کیا تھی ہمیں کمی توبہ
لوگ زخموں پہ وار کرتے ہیں
دیکھی اتنی بھی بے حسی توبہ
حسرتوں سے فرار حاصل ہو
زندگی سے قرار حاصل ہو
اب خزاں سے نجات مل جائے
اب کہ ہم کو بہار حاصل ہو
دوستی کا مزہ تو تب ہے کہ
دوست جب رازدار حاصل ہو