خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے
تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے
تیرے کوچے سے کوئی روز میرے گھر آ کر
ہمارے عشق کے قصے بتائے جاتا ہے
نیند کیا نیند کا تو نام بھی باقی نہیں ہے
خواب تجھ سے جدائی کا ڈرائے جاتا ہے
خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے
تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے
تیرے کوچے سے کوئی روز میرے گھر آ کر
ہمارے عشق کے قصے بتائے جاتا ہے
نیند کیا نیند کا تو نام بھی باقی نہیں ہے
خواب تجھ سے جدائی کا ڈرائے جاتا ہے
میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں
دعائیں میری تجھے مجھ سے ملا دیں نہ کہیں
رو بھی سکتا نہیں کھل کر تیری محبت میں
میرے آنسو تمہارا نام دکھا دیں نہ کہیں
میری توبہ جو محبت کروں میں دوبارہ
تمہارے طور ہی مجھ کو وہ دغا دیں نہ کہیں
وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے
وہ مجھ سے صاف دل عاشق سے کیونکر بیر لیتی ہے
جان بستی ہے میری تم میں جو یہ کہتی تھی
اب کہیں دیکھ بھی لے تو نگاہیں پھیر لیتی ہے
میں اپنے دیس کے رانجھوں کی کیا تعریف کروں
انہیں ہر دوسرے ماہ اک محبت گھیر لیتی ہے
نہ ملاقات نہ دیدار کی حسرت کی ہے
میں نے اُس شخص سے پاکیزہ محبت کی ہے
میں نے رُخصت کیا ہے اُس کو کسی غیر کے ساتھ
میں نے ہم عصر عاشقوں سے بغاوت کی ہے
سگا ہے وہ میرا نہ خون کا رشتہ ہے کوئی
بات یہ ساری میرے دوست عقیدت کی ہے
نگاہ اُٹھا کے وہ محفل میں جب سلام کرے
ہوش والوں کی مدہوشی کا انتظام کرے
ہر ایک شخص کو نِسبت بتانی پڑتی ہے
کون پاگل تمہارے شہر میں قیام کرے
ایک خواہش ہے میرے دل میں کہ وہ مہ جبیں
ملا کے نظر کبھی مجھ سے بھی کلام کرے
تمہارے پاس آ کے سب کو بھولتا جاؤں
تمہارے لب کو چوموں اور چومتا جاؤں
تیرے بدن کو دیکھتا ہوں تو دل کرتا ہے
تیرے بدن کے خد و خال گھومتا جاؤں
تیرے بدن کے ہر حصے میں ہے بلا کا حسن
میرا دل کرتا ہے یہ حسن ڈھونڈتا جاؤں
ترس کھایا ہوا اغیار کا سنبھالا ہوا
دربدر پھرتا ہوں جنت سے میں نکالا ہوا
اسی کی مہر سے جیون میں ہے اندھیر پڑا
جس کے آنے سے میری زیست میں اُجالا ہوا
اپنے بچے کا نام میرے نام پر رکھ کر
وہ سمجھتی ہے بے وفائی کا ازالہ ہوا