Showing posts with label آصف میؤ. Show all posts
Showing posts with label آصف میؤ. Show all posts

Thursday, 2 December 2021

خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے

 خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے

تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے

تیرے کوچے سے کوئی روز میرے گھر آ کر

ہمارے عشق کے قصے بتائے جاتا ہے

نیند کیا نیند کا تو نام بھی باقی نہیں ہے

خواب تجھ سے جدائی کا ڈرائے جاتا ہے

Sunday, 21 November 2021

میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں

 میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں

دعائیں میری تجھے مجھ سے ملا دیں نہ کہیں

رو بھی سکتا نہیں کھل کر تیری محبت میں

میرے آنسو تمہارا نام دکھا دیں نہ کہیں

میری توبہ جو محبت کروں میں دوبارہ

تمہارے طور ہی مجھ کو وہ دغا دیں نہ کہیں

Thursday, 18 November 2021

وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے

 وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے

وہ مجھ سے صاف دل عاشق سے کیونکر بیر لیتی  ہے

جان بستی ہے میری تم میں جو یہ کہتی تھی

اب کہیں دیکھ بھی لے تو نگاہیں پھیر لیتی ہے

میں اپنے دیس کے رانجھوں کی کیا تعریف کروں

انہیں ہر دوسرے ماہ اک محبت گھیر لیتی ہے

Thursday, 26 August 2021

نہ ملاقات نہ دیدار کی حسرت کی ہے

 نہ ملاقات نہ دیدار کی حسرت کی ہے

میں نے اُس شخص سے پاکیزہ محبت کی ہے

میں نے رُخصت کیا ہے اُس کو کسی غیر کے ساتھ

میں نے ہم عصر عاشقوں سے بغاوت کی ہے

سگا ہے وہ میرا نہ خون کا رشتہ ہے کوئی

بات یہ ساری میرے دوست عقیدت کی ہے

Wednesday, 25 August 2021

نگاہ اٹھا کے وہ محفل میں جب سلام کرے

 نگاہ اُٹھا کے وہ محفل میں جب سلام کرے

ہوش والوں کی مدہوشی کا انتظام کرے

ہر ایک شخص کو نِسبت بتانی پڑتی ہے

کون پاگل تمہارے شہر میں قیام کرے

ایک خواہش ہے میرے دل میں کہ وہ مہ جبیں

ملا کے نظر کبھی مجھ سے بھی کلام کرے

Tuesday, 24 August 2021

تمہارے پاس آ کے سب کو بھولتا جاؤں

تمہارے پاس آ کے سب کو بھولتا جاؤں

تمہارے لب کو چوموں اور چومتا جاؤں

تیرے بدن کو دیکھتا ہوں تو دل کرتا ہے

تیرے بدن کے خد و خال گھومتا جاؤں

تیرے بدن کے ہر حصے میں ہے بلا کا حسن

میرا دل کرتا ہے یہ حسن ڈھونڈتا جاؤں

Sunday, 22 August 2021

ترس کھایا ہوا اغیار کا سنبھالا ہوا

 ترس کھایا ہوا اغیار کا سنبھالا ہوا

دربدر پھرتا ہوں جنت سے میں نکالا ہوا

اسی کی مہر سے جیون میں ہے اندھیر پڑا 

جس کے آنے سے میری زیست میں اُجالا ہوا 

اپنے بچے کا نام میرے نام پر رکھ کر

وہ سمجھتی ہے بے وفائی کا ازالہ ہوا