Monday, 3 August 2026

تو کیا ہوا اگر آج چہرے سے ہنسی غائب ہے

 سحر ہونے کو ہے


تو کیا ہُوا اگر آج

چہرے سے ہنسی غائب ہے

اُلجھا ہوا ہے ذہن میرا

نیند آنکھوں سے بھی خائف ہے

کہتے ہیں یہ سبھی لوگ مجھے

کہ شاید تمہیں کچھ ’’ایسا‘‘ ہوا ہے

گئیں ہیں جس سے جانیں بہت سی

اور نہ دستیاب اس مرض کی

کوئی دوا ہے

بہت ممکن ہے

ہاں، ہو سکتا ہے یہ بھی

کہ ہو جاؤں میں

بالکل تنہا

منقطع سب ہی سلسلے ہوں

محفلوں سے میں ہو جاؤں منہا

نہ دوستوں میں جا سکوں

نہ تازہ کھُلی فضاؤں میں

نہ تپش سُورج کی محسوس ہو

نہ پاؤں خود کو

ٹھنڈی سرد ہواؤں میں

بس پاس میرے ہوں

چند مخصوص دوائیاں

اے کاش اسی خلوت میں

مل جائے مجھے رب سائیاں

نہیں، میں بالکل بھی مایوس نہیں

کیونکہ ابھی حوصلے میرے

زندہ ہیں

ہمتیں سبھی یکجا ہیں

زندگی کی جستجو میں

کچھ خواب ابھی پنہاں ہیں

ہاں بس اب

یہ فیصلہ ہے میرا

میں یہ طے کر چُکا ہوں

کہ نہ مانوں گا میں ہار

ہو چاہے کچھ بھی جائے

دُعا ہے اس اندھیری شب کا سویرا

اب جلد ہی ہو جائے


کاشف شمیم صدیقی

No comments:

Post a Comment