خوب جھگڑا کریں، خوب گِریہ کریں
آؤ مِل جُل کے پھر اِک تماشا کریں
دل نہیں لگ رہا ہے کہیں بھی مِرا
اس اذیت میں تھوڑا اضافہ کریں
ٹُوٹنا دل کا کوئی نئی بات ہے؟
بات بھی ہو کوئی جس کا چرچا کریں
خوب جھگڑا کریں، خوب گِریہ کریں
آؤ مِل جُل کے پھر اِک تماشا کریں
دل نہیں لگ رہا ہے کہیں بھی مِرا
اس اذیت میں تھوڑا اضافہ کریں
ٹُوٹنا دل کا کوئی نئی بات ہے؟
بات بھی ہو کوئی جس کا چرچا کریں
مجھ سے نفرت شدید کرتا رہا
کام اپنا یزید کرتا رہا
ذائقہ آب کا نہیں چکھا
اپنی مٹی پلید کرتا رہا
مجھ سے چِڑتا رہا وہ خوش آمیز
میں محبت مزید کرتا رہا
گل کو بوسہ نما بناتے ہوئے
چل نیا سلسلہ بناتے ہوئے
ایک دریا کے سامنے رہا دل
دشت میں راستہ بناتے ہوئے
آگ پتھر سے آ گئی باہر
رنگ کو خوشنما بناتے ہوئے
اگر کارِ محبت میں محبت راس آ جاتی
تمہارا ہجر اچھا تھا جو وصلت راس آ جاتی
گلا پھاڑا نہیں کرتے رفو دریافت کرنے میں
اگر بے کار رہنے کی مشقت راس آ جاتی
تمہیں صیاد کہنے سے اگر ہم باز آ جاتے
ہمیں بھی اس تماشے میں سکونت راس آ جاتی
سو میں نے عشق کیا، صبر اختیار کیا
اور ایک سبز صحیفے کا اعتبار کیا
وہ سب سے قیمتی شے تھی بدن خزانے کی
چراغِ دل کہ جسے ہم نے نذرِ یار کیا
مجھے سمیٹ لیا مہربان بانہوں نے
کہ میرے گرد گُل و نور نے حصار کیا
اک نئے مسئلے سے نکلے ہیں
یہ جو کچھ راستے سے نکلے ہیں
کاغذی ہیں یہ جتنے پیراہن
ایک ہی سلسلے سے نکلے ہیں
لے اڑا ہے تِرا خیال ہمیں
اور ہم قافلے سے نکلے ہیں
ہر ایک گام پہ رنجِ سفر اٹھاتے ہوئے
میں آ پڑا ہوں یہاں تجھ سے دور جاتے ہوئے
عجیب آگ تھی جس نے مجھے فروغ دیا
اک انتظار میں رکھے دِیے جلاتے ہوئے
طویل رات سے ہوتا ہے برسرِ پیکار
سو چاک تیز ہوا ہے مجھے بناتے ہوئے
ہرِ تاخیر کا خدا ہونا
کتنا مشکل ہے دوسرا ہونا
پھول کھِلنا سنہری ٹہنی پر
اور اس میں بھی واقعہ ہونا
دیکھنے کے لیے ضروری ہے
آنکھ ہونا یا آئینہ ہونا