لوگوں کو دے سکے نہ جو کوئی ثمر بھلا
ایسے ہنر وروں سے تو میں بے ہنر بھلا
تم پھر سے چل پڑے ہو محبت کی راہ پر
کرتا ہے کوئی کام یہ بارِ دگر بھلا
یادوں میں آ گیا کوئی بھولا ہوا خیال
شعروں میں آ گیا ہے پلٹ کر اثر بھلا
لوگوں کو دے سکے نہ جو کوئی ثمر بھلا
ایسے ہنر وروں سے تو میں بے ہنر بھلا
تم پھر سے چل پڑے ہو محبت کی راہ پر
کرتا ہے کوئی کام یہ بارِ دگر بھلا
یادوں میں آ گیا کوئی بھولا ہوا خیال
شعروں میں آ گیا ہے پلٹ کر اثر بھلا
کل رات
میں نے اپنا قتل کیا
اور لاش
اپنی ہنسی کے پیچھے
چُھپا دی
وسیم عباس
مختصر نظم
اس قدر
فرضی سہاروں کے
باوجود بھی
نجانے کیوں
مجھے میسر نہیں آ رہا
وہ کاندھا
جس پہ سر رکھنا ہے مجھے
کہانی سنو
تم نے
گائک کے بول سنے ہیں
اور میں نے
گائک کو دیکھا ہے
تنہا شخص کا کرب
اس کی
انگليوں سے
رنگ نکلتے ہیں
ایسے رنگ
جو تصویر ہو جائیں تو
باتیں کرتے ہیں
شاعری ہم کلام ہونے دو
لفظ میرے غلام ہونے دو
ابھی جلدی کیا ہے جانے کی
رک جاؤ کہ شام ہونے دو
دل پہ میرے تُو نے لکھ دیا
ذرا سا مجھے بدنام ہونے دو
کتنے لفظ ہیں کتنے لوگ
کیسی دنیا،۔ کیسا روگ
من کے سُونے آنگن جھانکو
چپ کی چپ ہے ایسا جوگ
دنیا دیکھو، چہرے ملتے
محبت
محبت کسی سے بھی ہو سکتی ہے
بیساکھیوں پہ چلنے والے کی مسکراہٹ سے
کٹے ہوئے بازوؤں والے کی باتوں سے
نابینا لڑکی کی آواز سے
کالی رنگت والے کی گائیکی کے انداز سے
دل یہ کہتا ہے کہ اب سر ہی کو پھوڑا جائے
یا سکوتِ لب خاموش کو توڑا جائے
کر دئیے جائیں مِرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے
یا مجھے ریشۂ امید سے جوڑا جائے
اب مجھے رات کی تنہائی سے خوف آتا ہے
رات آئے تو نہ تنہا مجھے چھوڑا جائے
تنہا
تنہا کوئی بھی ہو سکتا ہے
سات لوگوں کے خاندان میں سب سے خوش رہنے والا
دوستوں میں سب سے زیادہ بولنے والا
شہر کے بڑے بازار کے
کرائے کے اس فلیٹ میں رہنے والا
Grown Up
میں سیکھ گیا ہوں
دُکھ سہنا
چُپ رہنا
کچھ نہ کہنا
میں سیکھ گیا ہوں