Showing posts with label وسیم عباس. Show all posts
Showing posts with label وسیم عباس. Show all posts

Thursday, 14 March 2024

لوگوں کو دے سکے نہ جو کوئی ثمر بھلا

 لوگوں کو دے سکے نہ جو کوئی ثمر بھلا

ایسے ہنر وروں سے تو میں بے ہنر بھلا

تم پھر سے چل پڑے ہو محبت کی راہ پر

کرتا ہے کوئی کام یہ بارِ دگر بھلا

یادوں میں آ گیا کوئی بھولا ہوا خیال

شعروں میں آ گیا ہے پلٹ کر اثر بھلا

Monday, 13 November 2023

کل رات میں نے اپنا قتل کیا

 کل رات

میں نے اپنا قتل کیا

اور لاش

اپنی ہنسی کے پیچھے

چُھپا دی


وسیم عباس

Thursday, 9 November 2023

اس قدر فرضی سہاروں کے باوجود بھی

 مختصر نظم


اس قدر 

فرضی سہاروں کے

باوجود بھی

نجانے کیوں 

مجھے میسر نہیں آ رہا

وہ کاندھا 

جس پہ سر رکھنا ہے مجھے

Wednesday, 18 October 2023

تم نے گائک کے بول سنے ہیں

 کہانی سنو


تم نے

گائک کے بول سنے ہیں

اور میں نے

گائک کو دیکھا ہے

تنہا شخص کا کرب

Thursday, 20 April 2023

اس کی انگليوں سے رنگ نکلتے ہیں

 اس کی

انگليوں سے

رنگ نکلتے ہیں

ایسے رنگ

جو تصویر ہو جائیں تو

باتیں کرتے ہیں

Friday, 24 March 2023

شاعری ہمکلام ہونے دو

 شاعری ہم کلام ہونے دو

لفظ میرے غلام ہونے دو

ابھی جلدی کیا ہے جانے کی

رک جاؤ کہ شام ہونے دو

دل پہ میرے تُو نے لکھ دیا

ذرا سا مجھے بدنام ہونے دو

Wednesday, 30 November 2022

کتنے لفظ ہیں کتنے لوگ

 کتنے لفظ ہیں کتنے لوگ

کیسی دنیا،۔ کیسا روگ 

من کے سُونے آنگن جھانکو

چپ کی چپ ہے ایسا جوگ

دنیا دیکھو، چہرے ملتے

Monday, 28 November 2022

محبت کسی سے بھی ہو سکتی ہے

 محبت


محبت کسی سے بھی ہو سکتی ہے

بیساکھیوں پہ چلنے والے کی مسکراہٹ سے

کٹے ہوئے بازوؤں والے کی باتوں سے

نابینا لڑکی کی آواز سے

کالی رنگت والے کی گائیکی کے انداز سے

دل یہ کہتا ہے کہ اب سر ہی کو پھوڑا جائے

 دل یہ کہتا ہے کہ اب سر ہی کو پھوڑا جائے

یا سکوتِ لب خاموش کو توڑا جائے

کر دئیے جائیں مِرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے

یا مجھے ریشۂ امید سے جوڑا جائے

اب مجھے رات کی تنہائی سے خوف آتا ہے

رات آئے تو نہ تنہا مجھے چھوڑا جائے

Sunday, 27 November 2022

تنہا کوئی بھی ہو سکتا ہے

 تنہا


تنہا کوئی بھی ہو سکتا ہے

سات لوگوں کے خاندان میں سب سے خوش رہنے والا

دوستوں میں سب سے زیادہ بولنے والا

شہر کے بڑے بازار کے

کرائے کے اس فلیٹ میں رہنے والا

Monday, 5 July 2021

میں سیکھ گیا ہوں دکھ سہنا چپ رہنا

 Grown Up


میں سیکھ گیا ہوں

دُکھ سہنا

چُپ رہنا

کچھ نہ کہنا

میں سیکھ گیا ہوں