یوں گھر سے نکلتے ہیں، کبھی گھر نہیں آتے
آنسو، مِری آنکھوں میں پلٹ کر نہیں آتے
جن لوگوں سے اس دل کو بہت زخم ملے ہیں
نام ان کے کبھی میرے لبوں پر نہیں آتے
دریا نہیں آتے کبھی اک بُوند سے ملنے
دریاؤں سے ملنے کو سمندر نہیں آتے
یوں گھر سے نکلتے ہیں، کبھی گھر نہیں آتے
آنسو، مِری آنکھوں میں پلٹ کر نہیں آتے
جن لوگوں سے اس دل کو بہت زخم ملے ہیں
نام ان کے کبھی میرے لبوں پر نہیں آتے
دریا نہیں آتے کبھی اک بُوند سے ملنے
دریاؤں سے ملنے کو سمندر نہیں آتے
یہی فقط میری زندگی ہے
تِری اطاعت ہی بندگی ہے
وہ آج سیر چمن کو آئے
گلوں کے چہروں پہ تازگی ہے
یہ ان کی ذرہ نوازیاں ہیں
جو دل کی بستی میں تیرگی ہے
وصف سورج ہے روشنی کیا ہے
تُو اگر ہے تو زندگی کیا ہے
خود سے تیری ہی گفتگو ہے میاں
ذکر تیرا ہے شاعری کیا ہے
کون جانے کہ یہ مِری دنیا
میرے بارے میں سوچتی کیا ہے
مجھے ہر پل محبت کی نشانی یاد رہتی ہے
کوئی کردار بھولے بھی کہانی یاد رہتی ہے
میں اُس سے اِس لیے کوئی شکایت کر نہیں سکتی
وہ چشمِ خشک ہو جائے گی پانی، یاد رہتی ہے
بچھڑ کر تم سے اب تک میں کسی کی ہو نہیں پائی
تمہاری دل پہ تھی جو حکمرانی یاد رہتی ہے
اپنے ہاتھوں سے سجا اور مجھے صندل کر دے
دل کی بستی میں عجب پیار کی ہلچل کر دے
تیری یادوں کا یہ شعلہ بھی عجب ہے جاناں
دل کے شاداب گلستاں کو بھی جنگل کر دے
جذبۂ عشق اگر دل میں ہے اس طرح سے مل
کہ اُڑا ہوش مِرے، اور مجھے پاگل کر دے