Showing posts with label صبا عزیز. Show all posts
Showing posts with label صبا عزیز. Show all posts

Tuesday, 6 June 2023

یوں گھر سے نکلتے ہیں کبھی گھر نہیں آتے

 یوں گھر سے نکلتے ہیں، کبھی گھر نہیں آتے

آنسو، مِری آنکھوں میں پلٹ کر نہیں آتے

جن لوگوں سے اس دل کو بہت زخم ملے ہیں

نام ان کے کبھی میرے لبوں پر نہیں آتے

دریا نہیں آتے کبھی اک بُوند سے ملنے

دریاؤں سے ملنے کو سمندر نہیں آتے

Saturday, 19 February 2022

یہی فقط میری زندگی ہے

 یہی فقط میری زندگی ہے

تِری اطاعت ہی بندگی ہے

وہ آج سیر چمن کو آئے

گلوں کے چہروں پہ تازگی ہے

یہ ان کی ذرہ نوازیاں ہیں

جو دل کی بستی میں تیرگی ہے

Thursday, 10 February 2022

وصف سورج ہے روشنی کیا ہے

 وصف سورج ہے روشنی کیا ہے

تُو اگر ہے تو زندگی کیا ہے

خود سے تیری ہی گفتگو ہے میاں

ذکر تیرا ہے شاعری کیا ہے

کون جانے کہ یہ مِری دنیا

میرے بارے میں سوچتی کیا ہے

Wednesday, 9 February 2022

مجھے ہر پل محبت کی نشانی یاد رہتی ہے

 مجھے ہر پل محبت کی نشانی یاد رہتی ہے

کوئی کردار بھولے بھی کہانی یاد رہتی ہے

میں اُس سے اِس لیے کوئی شکایت کر نہیں سکتی

وہ چشمِ خشک ہو جائے گی پانی، یاد رہتی ہے

بچھڑ کر تم سے اب تک میں کسی کی ہو نہیں پائی

تمہاری دل پہ تھی جو حکمرانی یاد رہتی ہے 

Wednesday, 29 September 2021

اپنے ہاتھوں سے سجا اور مجھے صندل کر دے

 اپنے ہاتھوں سے سجا اور مجھے صندل کر دے

دل کی بستی میں عجب پیار کی ہلچل کر دے

تیری یادوں کا یہ شعلہ بھی عجب ہے جاناں

دل کے شاداب گلستاں کو بھی جنگل کر دے

جذبۂ عشق اگر دل میں ہے اس طرح سے مل

کہ اُڑا ہوش مِرے، اور مجھے پاگل کر دے