Showing posts with label رمل اقبال. Show all posts
Showing posts with label رمل اقبال. Show all posts

Thursday, 15 July 2021

میں اپنے لفظوں میں شدت غضب کی لاؤں گی

 میں اپنے لفظوں میں شدت غضب کی لاؤں گی

نہ جانے دوں گی تجھے پیار سے مناؤں گی

ہواؤں کا بھی نہ جس پر کوئی اثر ہو گا

میں تیرے نام کا ایسا دِیا جلاؤں گی

اداسیوں کو مِری کوئی بھی نہ سمجھے گا

غموں کو ہنستے ہوئے میں گلے لگاؤں گی

Monday, 12 April 2021

یہ جو پر درد زندگانی ہے

 یہ جو پُر درد زندگانی ہے 

ایک ظالم کی مہربانی ہے 

یہ جو میں شاعری میں لکھتی ہوں 

یہ مِرے درد کی کہانی ہے 

اور تو کیا بچا ہے دل میں مِرے

آپ کی یاد کی روانی ہے

Monday, 8 February 2021

اک نظر ڈال ذرا مجھ پہ اے جانے والے

 اک نظر ڈال ذرا مجھ پہ اے جانے والے

تُو بھی اب دے گا مجھے زخم زمانے والے

میری باتوں پہ بھی تُو کاش یقیں کر لیتا

جھوٹے لوگوں کی کہی باتوں میں آنے والے

کرب ہوتا ہے نا جب لوگ بدل جاتے ہیں

دھوکہ جب دیتے ہیں خود آپ کے چاہنے والے

Saturday, 6 February 2021

تجھ سے بھی عاشقی نہیں ہوتی

 تجھ سے بھی عاشقی نہیں ہوتی

مجھ سے بھی دل لگی نہیں ہوتی

یار یہ عشق تو عبادت ہے

ہم سے تو بندگی نہیں ہوتی

میں نے بانٹی ہے روشنائی پر

میرے گھر روشنی نہیں ہوتی

Monday, 25 January 2021

یہ جو پر درد زندگانی ہے ایک ظالم کی مہربانی ہے

 یہ جو پُر درد زندگانی ہے

ایک ظالم کی مہربانی ہے

یہ جو میں شاعری میں لکھتی ہوں

یہ مِرے درد کی کہانی ہے

اور تو کیا بچا ہے دل میں مرے

آپ کی یاد کی روانی ہے

Friday, 22 January 2021

وہ جو فرقت سے ڈر گئے ہوں گے

 وہ جو فرقت سے ڈر گئے ہوں گے

جیتے جی وہ تو مر گئے ہوں گے

یاد تیری ہی جن کا زیور تھی

گہنے اُن کے اُتر گئے ہوں گے

روبرو بات جب ہوئی ہو گی

لفظ کتنے مُکر گئے ہوں گے

Thursday, 21 January 2021

عروج کیسا زوال کیسا

 عروج کیسا، زوال کیسا

بچھڑنا ہے تو ملال کیسا

یہاں سبھی کو ہیں روگ اپنے

کسے سنائیں ہے حال کیسا

ہے دل میں نفرت ملیں گے ہنس کے

منافقوں کا ہے جال کیسا