میں اپنے لفظوں میں شدت غضب کی لاؤں گی
نہ جانے دوں گی تجھے پیار سے مناؤں گی
ہواؤں کا بھی نہ جس پر کوئی اثر ہو گا
میں تیرے نام کا ایسا دِیا جلاؤں گی
اداسیوں کو مِری کوئی بھی نہ سمجھے گا
غموں کو ہنستے ہوئے میں گلے لگاؤں گی
میں اپنے لفظوں میں شدت غضب کی لاؤں گی
نہ جانے دوں گی تجھے پیار سے مناؤں گی
ہواؤں کا بھی نہ جس پر کوئی اثر ہو گا
میں تیرے نام کا ایسا دِیا جلاؤں گی
اداسیوں کو مِری کوئی بھی نہ سمجھے گا
غموں کو ہنستے ہوئے میں گلے لگاؤں گی
یہ جو پُر درد زندگانی ہے
ایک ظالم کی مہربانی ہے
یہ جو میں شاعری میں لکھتی ہوں
یہ مِرے درد کی کہانی ہے
اور تو کیا بچا ہے دل میں مِرے
آپ کی یاد کی روانی ہے
اک نظر ڈال ذرا مجھ پہ اے جانے والے
تُو بھی اب دے گا مجھے زخم زمانے والے
میری باتوں پہ بھی تُو کاش یقیں کر لیتا
جھوٹے لوگوں کی کہی باتوں میں آنے والے
کرب ہوتا ہے نا جب لوگ بدل جاتے ہیں
دھوکہ جب دیتے ہیں خود آپ کے چاہنے والے
تجھ سے بھی عاشقی نہیں ہوتی
مجھ سے بھی دل لگی نہیں ہوتی
یار یہ عشق تو عبادت ہے
ہم سے تو بندگی نہیں ہوتی
میں نے بانٹی ہے روشنائی پر
میرے گھر روشنی نہیں ہوتی
یہ جو پُر درد زندگانی ہے
ایک ظالم کی مہربانی ہے
یہ جو میں شاعری میں لکھتی ہوں
یہ مِرے درد کی کہانی ہے
اور تو کیا بچا ہے دل میں مرے
آپ کی یاد کی روانی ہے
وہ جو فرقت سے ڈر گئے ہوں گے
جیتے جی وہ تو مر گئے ہوں گے
یاد تیری ہی جن کا زیور تھی
گہنے اُن کے اُتر گئے ہوں گے
روبرو بات جب ہوئی ہو گی
لفظ کتنے مُکر گئے ہوں گے
عروج کیسا، زوال کیسا
بچھڑنا ہے تو ملال کیسا
یہاں سبھی کو ہیں روگ اپنے
کسے سنائیں ہے حال کیسا
ہے دل میں نفرت ملیں گے ہنس کے
منافقوں کا ہے جال کیسا