فِکرِ فردا سے غافِل کسے ہوش ہے
ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے
زُہد و تقویٰ عبادت میں مَدہوش ہے
ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے
دَرد اِنسان سے عاری بنی مُعتکِف
حُکمِ باری، نبٌی سے ہوئی مُنحرِف
فِکرِ فردا سے غافِل کسے ہوش ہے
ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے
زُہد و تقویٰ عبادت میں مَدہوش ہے
ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے
دَرد اِنسان سے عاری بنی مُعتکِف
حُکمِ باری، نبٌی سے ہوئی مُنحرِف
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا یکتا ہے، خلقت میں کوئی پرور نہیں ملتا
رضا رب کی نہ ہو تو پھر، کبھی رہبر نہیں ملتا
زمیں تا عرش بھی دیکھا، رسالت کی صفوں میں بھی
خدا کی کُل خدائی میں، نبی سرور ﷺنہیں ملتا
وہ محور کُن فَکاں کی ہے، کہ ذاتِ فاطمہؑ ہے جو
حیا جس میں نہ ہو اُن کا، اُسے حیدرؑ نہیں ملتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ایقان تقاضہ کرتا ہے، ایمان ہو ختمِ نبوّتؐ پر
قُرآن تقاضہ کرتا ہے، ایمان ہو ختمِ نبوّت پر
مَا کَانَ مُحَمّد کی آیت، اس بات کو ثابت کرتی ہے
رحمٰن تقاضا کرتا ہے، ایمان ہو ختمِ نبوّت پر
لَا بَعدِی حَدیثِ نبوی سے، اِنکار نہیں کہ نبیوں کا
سُلطان تقاضہ کرتا ہے، ایمان ہو ختمِ نبوّت پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خِرد نے پائی یکتائی، مِرے سرکارؐ کے صدقے
ملی رب کی شناسائی، مِرے سرکارؐ کے صدقے
وجودِ مصطفٰیﷺ سے ہی، بہاریں، شادمانی ہے
زمیں تا عرش رعنائی، مِرے سرکارؐ کے صدقے
وسیلہ دو جہانوں کا، وہ آئے لاج رکھنے کو
میسّر ہے مسیحائی، مِرے سرکارؐ کے صدقے
دبے ہوئے ہیں جو وحشتوں میں، ارادے ہر بُت شکن کے دیکھو
طوفانِ اقصٰی کی ہیبتوں میں، شرارے موجِ اُڑن کے دیکھو
یہی کرشمۂ دِینِ حق ہے، یاں حوصلوں کی ہے سر بلندی
نحِیف پنچھی ہیں آفتوں میں، مگر وہ تیور چلن کے دیکھو
ہیں قبلہ اول کے ہر ستوں پر، بشارتوں کے چراغ روشن
رہا ہے مسکن جو انبیاء کا، نظارے ہائے وطن کے دیکھو