عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زبان و قلب کی عظمت درود پاک سے ہے
ہر ایک غم میں حفاظت درود پاک سے ہے
دُعائیں ہوتی ہیں مقبول اس وسیلے سے
خُدا کی خاص عنایت درود پاک سے ہے
ازل کے دن سے مِرے مصطفیٰؐ کے چرچے ہیں
تمام دہر پہ رحمت درود پاکﷺ سے ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زبان و قلب کی عظمت درود پاک سے ہے
ہر ایک غم میں حفاظت درود پاک سے ہے
دُعائیں ہوتی ہیں مقبول اس وسیلے سے
خُدا کی خاص عنایت درود پاک سے ہے
ازل کے دن سے مِرے مصطفیٰؐ کے چرچے ہیں
تمام دہر پہ رحمت درود پاکﷺ سے ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
علیؑ المرتضیٰؑ شیرِ خدا ہیں
کہ اُن سے خوش حبیبِ کبریا ہیں
اگر کمزور ہوں تو غم نہیں ہے
مُمِد میرے علیؑ مشکل کشا ہیں
یہی ہیں والدِ شبیرؑ و شبرؑ
یہی سرتاجِ بنتِ مصطفیٰؐ ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کمالِ عشق کا روشن دیا ہے
لقب جس کا شہیدِ کربلا ہے
شہیدِ کربلا پر جو فدا ہے
وہی دیوانۂ خیرالوراؐ ہے
جوانانِ ارم کا شاہ زادہ
حسینِؑ ابنِ علیؑ المرتضیؑ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
میری زباں پہ وردِ الف لام میم ہے
یہ ابتدائے حمدِ خدائے کریم ہے
روزِ ازل سے تا بہ ابد ہے وہ جلوہ گر
لا ریب اس کی ذات قدیم القدیم ہے
وہ جانتا ہے کس کی ضرورت ہے کس قدر
وہ بے طلب بھی دیتا ہے ایسا کریم ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
آنکھوں میں نور دل کا اُجالا حسینؑ ہیں
سرکارِ دو جہاںﷺ کا حوالہ حسینؑ ہیں
قربان راہِ حق میں بہتر کو کر دیا
یوں جان دی کہ آج بھی زندہ حسینؑ ہیں
تسکینِ قلب مولیٰ علیؑ ان کی ذات ہے
نورِ نگاہِ فاطمہؑ زہراؑ حسینؑ ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
دنیا پہ قرض ہے ابھی احساں حسینؑ کا
مقروض ہی رہے گا ہر انساں حسینؑ کا
تاریخ اپنے خوں سے سرِ کربلا لکھی
ہے اک کتابِ عشق، بیاباں حسینؑ کا
سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا
عُشّاق میں ہے نام نمایاں حسینؑ کا