Showing posts with label میر تنہا یوسفی. Show all posts
Showing posts with label میر تنہا یوسفی. Show all posts

Thursday, 25 August 2022

اے میرے ہمدمو، اے با اصولو

 اے میرے ہمدمو، اے با اصولو

میں جیسا ہوں، مجھے ویسا قبولو

یوں فارغ بیٹھنا بھی خوب، لیکن

ذرا ُاٹھو، ستاروں کو ہی چُھو لو

تمہاری پھر ضرورت پڑ رہی ہے

گئے وقتوں کے اے سچے رسولو

Monday, 14 February 2022

آج تک ایسا نہ تھا آج مگر بنتا ہے

 آج تک ایسا نہ تھا، آج مگر بنتا ہے

ہاتھ رکھتا ہوں تو دیوار میں در بنتا ہے

آ مِرے سینے سے لگ اور ذرا غور سے دیکھ

موجۂ دل میں تِرے کیسا بھنور بنتا ہے

آنکھ بولی کہ کوئی خواب نہ بن پائے گا

اور دل زور سے دھڑکا کہ ٹھہر! بنتا ہے

Thursday, 10 February 2022

یہ نہ سمجھو کہ فقط روٹھ کے جا سکتا ہوں

 یہ نہ سمجھو کہ فقط رُوٹھ کے جا سکتا ہوں

خواب میں آ کے تمہیں پھر سے منا سکتا ہوں

تُو کہ پھر تُو ہے، بتا سکتا ہے درباروں کا

اور میں، شہر کے درویش گِنا سکتا ہوں

اس نے جو کچھ بھی کیا، میرے ہرانے کو کیا

میں یہ الزام زمانے پہ لگا سکتا ہوں

Wednesday, 12 January 2022

ہماری حکمرانی کے فسانے لد گئے ہیں

 ہماری حکمرانی کے فسانے لد گئے ہیں

کسی کے ہجر میں اپنے زمانے لد گئے ہیں

نہیں منڈی میں کوئی چیز بھی پچھلی رُتوں کی

شرابِ کُہنہ اور چاول پرانے لد گئے ہیں

بچا ہے جو وہ اک شہرِ خموشاں کا ہے نوحہ

وہ خوشبو سے لدے موسم سہانے لد گئے ہیں۔

Tuesday, 28 December 2021

جسے رزق ہوا ہونا تھا وہ اب چاک پر ہے

 جسے رزقِ ہوا ہونا تھا، وہ اب چاک پر ہے

سُنا ہے بس یہی الزام میری خاک پر ہے

اسے جس نے بھی سمجھا، بےبسی سے مسکرایا

یہی اک جبر میرے قصۂ نم ناک پر ہے

مجھے کہنا تھا جو بھی، کہہ چکا سارے کا سارا

کہا کیا ہے، یہ تیری قوتِ ادراک پر ہے

Saturday, 25 December 2021

سورج سے اپنے معرکے میں ہار تک گئے

 سورج سے اپنے معرکے میں ہار تک گئے

وہ لوگ جو کہ سایۂ دیوار تک گئے

دل میں ہی خامشی سے کہیں مر گیا ہے عشق

قصے کسی کے حسن کے اخبار تک گئے

تعبیریں ڈھونڈتے ہوئے لوگوں کے درمیاں

سپنے ہزار لے کے ہم بازار تک گئے

Saturday, 18 December 2021

جو تیر اس نے چھوڑے تھے سب اپنی جا لگے

 جو تیر اس نے چھوڑے تھے سب اپنی جا لگے

دنیا ہے کیسے حال میں، اب اس کو کیا لگے

جو خوش نصیب تھے وہ گھروں کو نکل پڑے

ہم جیسے بے امان دیواروں سے جا لگے

ہم ریگزارِ ہجر کے عادی ہیں اس قدر

کہ لُو تمہارے شہر کی ٹھنڈی ہوا لگے

Monday, 13 December 2021

اجاڑ ساحل و صحرا خموش ویرانے

 اجاڑ ساحل و صحرا، خموش ویرانے

کہاں کہاں نہ گیا میں خرد کو سمجھانے

نہیں کہیں بھی تِری چشمِ انگبیں سا نشہ

اگرچہ شہر میں بکھرے پڑے ہیں میخانے

میں اپنی بات کو خود ہی کہوں تو بہتر ہے

وگرنہ دنیا سنائے گی اپنے افسانے

Tuesday, 7 December 2021

وداع کے لفظ تک بولے ہوئے ہوں

 وِداع کے لفظ تک بولے ہوئے ہوں

میں اپنے بادباں کھولے ہوئے ہوں

کہو تو میں بھی تھوڑا بول دیکھوں

کہ اپنے لفظ اب تولے ہوئے ہوں

کہیں اس کا پتہ ملتا نہیں ہے

خس و خاشاک تک رولے ہوئے ہوں

Monday, 6 December 2021

تعبیر کو ہی سپنا بنائے ہوئے گھومے

 تعبیر کو ہی سپنا بنائے ہوئے گھومے

یہ بوجھ اٹھانا تھا، اٹھائے ہوئے گھومے

جس شہر میں چلنا تھا ہمیں سر کو اٹھائے

اس شہر میں ہی سر کو جھکائے ہوئے گھومے

جانا تھا کہیں جھیل کے اس پار، مگر ہم

اس پار ہی پتوار اٹھائے ہوئے گھومے

Tuesday, 16 February 2021

میں تیری راہ میں ہوں اور کب سے لاپتہ ہوں

 میں تیری راہ میں ہوں اور کب سے لا پتہ ہُوں

سرابِ وصل کے پیچھے کہاں تک آ گیا ہوں

مکمل ہوں، مگر ہوں نا مکمل سے ہراساں

مجسم ہوں، مگر پرچھائیوں سے ڈر رہا ہوں

نہیں ہوں نیست و نابود و ہست و بود تک میں

ابھی بِیتا نہیں ہے جو، میں اس کا تذکرہ ہوں