اے میرے ہمدمو، اے با اصولو
میں جیسا ہوں، مجھے ویسا قبولو
یوں فارغ بیٹھنا بھی خوب، لیکن
ذرا ُاٹھو، ستاروں کو ہی چُھو لو
تمہاری پھر ضرورت پڑ رہی ہے
گئے وقتوں کے اے سچے رسولو
اے میرے ہمدمو، اے با اصولو
میں جیسا ہوں، مجھے ویسا قبولو
یوں فارغ بیٹھنا بھی خوب، لیکن
ذرا ُاٹھو، ستاروں کو ہی چُھو لو
تمہاری پھر ضرورت پڑ رہی ہے
گئے وقتوں کے اے سچے رسولو
آج تک ایسا نہ تھا، آج مگر بنتا ہے
ہاتھ رکھتا ہوں تو دیوار میں در بنتا ہے
آ مِرے سینے سے لگ اور ذرا غور سے دیکھ
موجۂ دل میں تِرے کیسا بھنور بنتا ہے
آنکھ بولی کہ کوئی خواب نہ بن پائے گا
اور دل زور سے دھڑکا کہ ٹھہر! بنتا ہے
یہ نہ سمجھو کہ فقط رُوٹھ کے جا سکتا ہوں
خواب میں آ کے تمہیں پھر سے منا سکتا ہوں
تُو کہ پھر تُو ہے، بتا سکتا ہے درباروں کا
اور میں، شہر کے درویش گِنا سکتا ہوں
اس نے جو کچھ بھی کیا، میرے ہرانے کو کیا
میں یہ الزام زمانے پہ لگا سکتا ہوں
ہماری حکمرانی کے فسانے لد گئے ہیں
کسی کے ہجر میں اپنے زمانے لد گئے ہیں
نہیں منڈی میں کوئی چیز بھی پچھلی رُتوں کی
شرابِ کُہنہ اور چاول پرانے لد گئے ہیں
بچا ہے جو وہ اک شہرِ خموشاں کا ہے نوحہ
وہ خوشبو سے لدے موسم سہانے لد گئے ہیں۔
جسے رزقِ ہوا ہونا تھا، وہ اب چاک پر ہے
سُنا ہے بس یہی الزام میری خاک پر ہے
اسے جس نے بھی سمجھا، بےبسی سے مسکرایا
یہی اک جبر میرے قصۂ نم ناک پر ہے
مجھے کہنا تھا جو بھی، کہہ چکا سارے کا سارا
کہا کیا ہے، یہ تیری قوتِ ادراک پر ہے
سورج سے اپنے معرکے میں ہار تک گئے
وہ لوگ جو کہ سایۂ دیوار تک گئے
دل میں ہی خامشی سے کہیں مر گیا ہے عشق
قصے کسی کے حسن کے اخبار تک گئے
تعبیریں ڈھونڈتے ہوئے لوگوں کے درمیاں
سپنے ہزار لے کے ہم بازار تک گئے
جو تیر اس نے چھوڑے تھے سب اپنی جا لگے
دنیا ہے کیسے حال میں، اب اس کو کیا لگے
جو خوش نصیب تھے وہ گھروں کو نکل پڑے
ہم جیسے بے امان دیواروں سے جا لگے
ہم ریگزارِ ہجر کے عادی ہیں اس قدر
کہ لُو تمہارے شہر کی ٹھنڈی ہوا لگے
اجاڑ ساحل و صحرا، خموش ویرانے
کہاں کہاں نہ گیا میں خرد کو سمجھانے
نہیں کہیں بھی تِری چشمِ انگبیں سا نشہ
اگرچہ شہر میں بکھرے پڑے ہیں میخانے
میں اپنی بات کو خود ہی کہوں تو بہتر ہے
وگرنہ دنیا سنائے گی اپنے افسانے
وِداع کے لفظ تک بولے ہوئے ہوں
میں اپنے بادباں کھولے ہوئے ہوں
کہو تو میں بھی تھوڑا بول دیکھوں
کہ اپنے لفظ اب تولے ہوئے ہوں
کہیں اس کا پتہ ملتا نہیں ہے
خس و خاشاک تک رولے ہوئے ہوں
تعبیر کو ہی سپنا بنائے ہوئے گھومے
یہ بوجھ اٹھانا تھا، اٹھائے ہوئے گھومے
جس شہر میں چلنا تھا ہمیں سر کو اٹھائے
اس شہر میں ہی سر کو جھکائے ہوئے گھومے
جانا تھا کہیں جھیل کے اس پار، مگر ہم
اس پار ہی پتوار اٹھائے ہوئے گھومے
میں تیری راہ میں ہوں اور کب سے لا پتہ ہُوں
سرابِ وصل کے پیچھے کہاں تک آ گیا ہوں
مکمل ہوں، مگر ہوں نا مکمل سے ہراساں
مجسم ہوں، مگر پرچھائیوں سے ڈر رہا ہوں
نہیں ہوں نیست و نابود و ہست و بود تک میں
ابھی بِیتا نہیں ہے جو، میں اس کا تذکرہ ہوں