اک دعا چاند کو دیکھ کر
خدائے عالم، عظیم و اکبر
نظر عید کا جو چاند آیا
ہے آسماں پر
خدآیا میرے تو اس قمر کو
سلامتی کا، امن کا اور آشتی کا
نشاں بنا دے
اک دعا چاند کو دیکھ کر
خدائے عالم، عظیم و اکبر
نظر عید کا جو چاند آیا
ہے آسماں پر
خدآیا میرے تو اس قمر کو
سلامتی کا، امن کا اور آشتی کا
نشاں بنا دے
دعائےمغفرت(لخت جگر محمد شکیب اکرم کے لیے)
خدائے رب جلیل تُو نے
ہمیں جو بخشی تھی اک امانت
وہی ہمارے جگر کا گوشہ
ہمارا بیٹا شکیب اکرم
ہماری آنکھوں کا نور تھا جو
سبھی کے دل کا سرور تھا جو
ذکر تیرا، بعد تیرے
(لخت جگر محمد شکیب اکرم کے لیے)
ذکر تیرا بعد تیرے، اے شکیب چلتا رہے
یہ سبب ہے مغفرت کی ہو دعا تیرے لیے
جب کبھی تیری کمی محسوس ہوتی ہے ہمیں
بس خدا سے مانگتے ہیں رحمتیں تیرے لیے
خواب میں آئے نہ آئے، تیری صورت دل میں ہے
فضائی آلودگی
دل میں کیسا درد ہے سینے میں ہے کیسی جلن
سانس بوجھل ہو رہی ہے اور طاری ہے گھٹن
ہم نے صنعت میں ترقی خوب تو کر لی، مگر
بد سے بد تر ہو گیا ماحول پر اس کا اثر
جنگلوں کو اس قدر ہم نے کیا برباد ہے
زہر آلودہ ہواؤں سے فضا برباد ہے
کہاں تیر و کماں کب نیزہ و خنجر بناتا ہوں
فقط میں آشتی، اور امن کے گوہر بناتا ہوں
یہاں جمہوریت میں بھی تماشا خوب ہوتا ہے
جنہیں چلنا نہیں آتا، انہیں رہبر بناتا ہوں
جسے محسوس کرتا ہوں اسے میں چُھو نہیں سکتا
خیالوں میں فقط اس کا حسیں پیکر بناتا ہوں
یہاں انصاف کا سودا ہوا ہے
یہ منظر تو مِرا دیکھا ہوا ہے
جبینِ شعر پر لکھا ہوا ہے
تِری محفل میں فن رُسوا ہوا ہے
کبھی جو چڑھتے دریا کی طرح تھا
اب اپنی ذات میں سمٹا ہوا ہے