Showing posts with label نامی نادری. Show all posts
Showing posts with label نامی نادری. Show all posts

Friday, 19 December 2025

ظلم کا جام بھر نہ جائے کہیں

 ظلم کا جام بھر نہ جائے کہیں

آہِ دل کام کر نہ جائے کہیں

کیا نہیں کوئی بے حسی کی دوا

میرا احساس مر نہ جائے کہیں

دو دِلے کا یقین کیا کرنا

وہ اچانک مُکر نہ جائے کہیں

Wednesday, 12 February 2025

فطرتاً مائل خطا ہوں میں

 فطرتاً مائل خطا ہوں میں

کون کہتا ہے پارسا ہوں میں

آفتوں میں گھرا ہوا ہوں میں

لذتِ غم سے آشنا ہوں میں

مٹھی بھر خاک ہی سہی لیکن

اس کی صنعت کی انتہا ہوں میں

Saturday, 6 November 2021

سب اصول زندگی بے کار ہو کے رہ گئے

سب اصول زندگی بے کار ہو کے رہ گئے

ہم اسیر کاکل دل دار ہو کے رہ گئے

حال دل نا قابل اظہار ہو کے رہ گیا

ہم کسی کے نخروں سے بیزار ہو کے رہ گئے

جانے والا چل بسا داغ جدائی دے گیا

اور سب احباب شبنم بار ہو کے رہ گئے

Wednesday, 8 September 2021

زندگی میں بڑے خسارے ہیں

زندگی میں بڑے خسارے ہیں

چین سے کس نے دن گزارے ہیں

ساتھ رہ کے بھی نیارے نیارے ہیں

ہم بھی کیا آسماں کے تارے ہیں

بس ہمیں آفتوں کے مارے ہیں

ورنہ یاروں کے وارے نیارے ہیں