ظلم کا جام بھر نہ جائے کہیں
آہِ دل کام کر نہ جائے کہیں
کیا نہیں کوئی بے حسی کی دوا
میرا احساس مر نہ جائے کہیں
دو دِلے کا یقین کیا کرنا
وہ اچانک مُکر نہ جائے کہیں
ظلم کا جام بھر نہ جائے کہیں
آہِ دل کام کر نہ جائے کہیں
کیا نہیں کوئی بے حسی کی دوا
میرا احساس مر نہ جائے کہیں
دو دِلے کا یقین کیا کرنا
وہ اچانک مُکر نہ جائے کہیں
فطرتاً مائل خطا ہوں میں
کون کہتا ہے پارسا ہوں میں
آفتوں میں گھرا ہوا ہوں میں
لذتِ غم سے آشنا ہوں میں
مٹھی بھر خاک ہی سہی لیکن
اس کی صنعت کی انتہا ہوں میں
سب اصول زندگی بے کار ہو کے رہ گئے
ہم اسیر کاکل دل دار ہو کے رہ گئے
حال دل نا قابل اظہار ہو کے رہ گیا
ہم کسی کے نخروں سے بیزار ہو کے رہ گئے
جانے والا چل بسا داغ جدائی دے گیا
اور سب احباب شبنم بار ہو کے رہ گئے
زندگی میں بڑے خسارے ہیں
چین سے کس نے دن گزارے ہیں
ساتھ رہ کے بھی نیارے نیارے ہیں
ہم بھی کیا آسماں کے تارے ہیں
بس ہمیں آفتوں کے مارے ہیں
ورنہ یاروں کے وارے نیارے ہیں