Showing posts with label زاہد آفاق. Show all posts
Showing posts with label زاہد آفاق. Show all posts

Saturday, 3 December 2016

یہ مشغلہ ہے کسی کا نہ جانے کیا چاہے

یہ مشغلہ ہے کسی کا، نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹائے، نہ فیصلہ چاہے
میری بساط ہے کیا، میں ہوں برگِ آوارہ
اڑا کے لے چلے مجھ کو، جدھر ہوا چاہے
جو اصل چہرہ دکھاتا ہے ترجماں بن کر
اس آئینے کی طرف کون دیکھنا چاہے

یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے جی کے

یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے جی کے
بہت عنوان ہیں اس زندگی کے
وہاں جشنِ چراغاں ہو رہا ہے 
یہاں آثار کم ہیں روشنی کے
تِری دہلیز پہ بیٹھا ہوں جب سے 
سلیقے آ گئے ہیں بندگی کے

میرے اقرار پہ اس شخص کے انکار پہ خاک

میرے اقرار پہ اس شخص کے انکار پہ خاک
اے محبت! تِرے پیرایۂ اظہار پہ خاک
ایسی تلوار پہ خاک، اس سپہ سالار پہ خاک
سر قلم کر دے جو تاریخ کا، اس وار پہ خاک
وہ ہو بنگال کا جعفر، کہ دکن کا صادق 
یا کوئی اور ہو، ہر عہد کے غدار پہ خاک

اس قدر پھیل گیا ہے شب ہجراں کا سکوت

اس قدر پھیل گیا ہے شبِ ہجراں کا سکوت
بولتا ہے کئی لہجوں میں غمِ جاں کا سکوت
رہ نمائی مِری کرتی ہے تِری سرگوشی 
میرے اسبابِ سفر میں ہے بیاباں کا سکوت
یہ بھی پیرایۂ اظہارِ شکایت ہی تو ہے 
کوئی سمجھےتو سہی دیدۂ ویراں کاسکوت

Sunday, 13 November 2016

آگ میں جلتا ہوا گھر دیکھ کر

آگ میں جلتا ہوا گھر دیکھ کر
چپ ہوں بربادی کا منظر دیکھ کر
روز چلاتی ہیں مجھ پر سلوٹیں
دنگ رہ جاتا ہوں بستر دیکھ کر
آئینے آپس میں ٹکرانے لگے
اک تِرے ہاتھوں میں پتھر دیکھ کر

غیرت گر اسلاف کا پندار کہاں ہے

غیرت گرِ اسلاف کا پِندار کہاں ہے
سر ہے تِرے شانوں پہ تو دستار کہاں ہے 
پسپائی ہوئی تیری، خود اپنی ہی حدوں میں
تجھ میں وہ جو تھا برسرِ پیکار، کہاں ہے 
اب سنگ اٹھائے ہوئے پھرتے سبھی عکس
آئینہ تو ہے، آئینہ بردار کہاں ہے 

دیوار کھڑی ہو گی کہیں خار ملیں گے

دیوار کھڑی ہو گی کہیں خار ملیں گے
منزل کے سبھی راستے دشوار ملیں گے
انسان کو جو اپنا خریدار بنا لیں
اب ایسے کھلونے سر بازار ملیں گے
طوفاں کے تھپیڑے ہمیں گم کر نہیں سکتے
ڈوبیں گے جو اِس پار تو اُس پار ملیں گے

Friday, 11 November 2016

رفتہ رفتہ ہوئے نظر انداز

رفتہ رفتہ ہوئے نظر انداز
ہم پہ جو لوگ تھے اثرانداز
بے نیازی سے دیکھنا اس کا
یہ بھی ہے ایک با ہنر انداز
دوستی میں یہ دشمنی کیسی
کوئی تو درمیاں ہے در انداز

جب کوئی حلقۂ اثر رکھنا

جب کوئی حلقۂ اثر رکھنا
اپنے ماحول پر نظر رکھنا
مستقل اب یہی ہنر رکھنا
کل کی بنیاد آج پر رکھنا
مِری یادیں سنبھال کر رکھنا 
راکھ کے ڈھیر میں شرر رکھنا

نام منصب مقام بیچ دیا

نام، منصب، مقام، بیچ دیا
جو بھی کچھ تھا تمام بیچ دیا
حاکمِ وقت چند سکوں میں 
تُو نے سارا نظام بیچ دیا
کیسا درویش تھا کہ اپنا سفر 
شاہ زادی کے نام بیچ دیا