نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے
اب تِرے اشک میں تصویر مجھے ہونا ہے
کسی پاتال میں رکھا ہوا مہ تاب ہوں میں
جانے کس آنکھ سے تسخیر مجھے ہونا ہے
میں کہانی ہوں اجالوں کی میرا دکھ یہ ہے
رات کے ہاتھ سے تحریر مجھے ہونا ہے
نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے
اب تِرے اشک میں تصویر مجھے ہونا ہے
کسی پاتال میں رکھا ہوا مہ تاب ہوں میں
جانے کس آنکھ سے تسخیر مجھے ہونا ہے
میں کہانی ہوں اجالوں کی میرا دکھ یہ ہے
رات کے ہاتھ سے تحریر مجھے ہونا ہے
یوں وقت ہم سے گزارا نہیں گیا
آنکھوں سے تیرے غم کا نظارا نہیں گیا
کیا بارِ توبہ تھا کہ سہارا نہیں گیا
فرعون سے خدا کو پکارا نہیں گیا
اُچھلیں بصد ارادہ فلک کی طرف مگر
موجوں سے ماہتاب اتارا نہیں گیا
مِرے لب پہ کوئی گِلہ نہیں میں خموش ہوں مجھے رہنے دو
جسے چاہا تھا وہ مِلا نہیں، میں خموش ہوں مجھے رہنے دو
وہ سوال اس کا عجیب تھا،۔ یہ جواب میرا عجیب ہے
یہاں چاہتوں کا صِلہ نہیں میں خموش ہوں مجھے رہنے دو
مِری زندگی کوئی آس ہے، میں وہ باغ ہو ں جو اداس ہے
کوئی پھول مجھ میں کِھلا نہیں میں خموش ہوں مجھے رہنے دو
جانے کیسا ہوا اثر مجھ پر
جب سے ٹھہری تِری نظر مجھ پر
جس کا سایہ سکون دیتا تھا
شعلہ زن ہے وہی شجر مجھ پر
منزلیں اب بدل گئیں تیری
ختم ہوتا تھا ہر سفر مجھ پر
ایک رشتے کو نبھانے کے لیے
خون دیتا ہوں جلانے کے لیے
اشک آنکھوں میں سجا لایا ہوں
دشت کی پیاس بجھانے کے لیے
پھر کسی غم کا سہارا لیا ہے
اشک پلکوں پہ اٹھانے کے لیے
وہ جو اک شخص پراسرار نظر آتا ہے
میری وحشت کا خریدار نظر آتا ہے
دلِ درویش صفت شور نہ کر چپ ہو جا
جب تو روتا ہے گنہ گار نظر آتا ہے
یا کسی اور کے ہیں نقش مرے چہرے پر
یا مجھے آئینے کے پار نظر آتا ہے