Showing posts with label شجاع شاذ. Show all posts
Showing posts with label شجاع شاذ. Show all posts

Thursday, 23 September 2021

نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے

 نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے

اب تِرے اشک میں تصویر مجھے ہونا ہے

کسی پاتال میں رکھا ہوا مہ تاب ہوں میں

جانے کس آنکھ سے تسخیر مجھے ہونا ہے

میں کہانی ہوں اجالوں کی میرا دکھ یہ ہے

رات کے ہاتھ سے تحریر مجھے ہونا ہے

Wednesday, 22 September 2021

یوں وقت ہم سے گزارا نہیں گیا

 یوں وقت ہم سے گزارا نہیں گیا

آنکھوں سے تیرے غم کا نظارا نہیں گیا

کیا بارِ توبہ تھا کہ سہارا نہیں گیا

فرعون سے خدا کو پکارا نہیں گیا

اُچھلیں بصد ارادہ فلک کی طرف مگر

موجوں سے ماہتاب اتارا نہیں گیا

Monday, 20 September 2021

مرے لب پہ کوئی گلہ نہیں میں خموش ہوں مجھے رہنے دو

 مِرے لب پہ کوئی گِلہ نہیں میں خموش ہوں مجھے رہنے دو

جسے چاہا تھا وہ مِلا نہیں، میں خموش ہوں مجھے رہنے دو

وہ سوال اس کا عجیب تھا،۔ یہ جواب میرا عجیب ہے

یہاں چاہتوں کا صِلہ نہیں میں خموش ہوں مجھے رہنے دو

مِری زندگی کوئی آس ہے، میں وہ باغ ہو ں جو اداس ہے

کوئی پھول مجھ میں کِھلا نہیں میں خموش ہوں مجھے رہنے دو

Sunday, 19 September 2021

جانے کیسا ہوا اثر مجھ پر

 جانے کیسا ہوا اثر مجھ پر

جب سے ٹھہری تِری نظر مجھ پر

جس کا سایہ سکون دیتا تھا

شعلہ زن ہے وہی شجر مجھ پر

منزلیں اب بدل گئیں تیری

ختم ہوتا تھا ہر سفر مجھ پر

ایک رشتے کو نبھانے کے لیے

 ایک رشتے کو نبھانے کے لیے

خون دیتا ہوں جلانے کے لیے

اشک آنکھوں میں سجا لایا ہوں

دشت کی پیاس بجھانے کے لیے

پھر کسی غم کا سہارا لیا ہے

اشک پلکوں پہ اٹھانے کے لیے

Friday, 17 September 2021

وہ جو اک شخص پراسرار نظر آتا ہے

وہ جو اک شخص پراسرار نظر آتا ہے

میری وحشت کا خریدار نظر آتا ہے

دلِ درویش صفت شور نہ کر چپ ہو جا

جب تو روتا ہے گنہ گار نظر آتا ہے

یا کسی اور کے ہیں نقش مرے چہرے پر

یا مجھے آئینے کے پار نظر آتا ہے