آنکھ میں خواب بے حجاب آئے
اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے
لا زمانے لہو کو گردش میں
تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے
شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں
کیا سوال آئے، کیا جواب آئے
آنکھ میں خواب بے حجاب آئے
اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے
لا زمانے لہو کو گردش میں
تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے
شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں
کیا سوال آئے، کیا جواب آئے
ہونٹوں کے صحیفوں پہ ہے آواز کا چہرہ
سایہ سا نظر آتا ہے ہر ساز کا چہرہ
آنکھوں کی گپھاؤں میں تڑپتی ہے خموشی
خوابوں کی دھنک ہے مِرے ہم راز کا چہرہ
میں وقت کے کہرام میں کھو جاؤں تو کیا غم
ڈھونڈے گا زمانہ مِری آواز کا چہرہ
کتنی حسین لگتی ہے چہروں کی یہ کتاب
سطروں کے بیچ دیکھیۓ پھیلا ہوا عذاب
چیخوں کا کرب نغموں کے شعلے ورق ورق
احساس بن رہا ہے جواں درد کی کتاب
میزانِ دل میں تولیے پھولوں سے ہر اُمید
لمحوں میں گُھل رہا ہے تمناؤں کا شباب
تنہائی کی قبر سے اٹھ کر میں سڑکوں پر کھو جاتا ہوں
چہروں کے گہرے ساگر میں مُردہ آنکھیں پھینک آتا ہوں
میں کوئی برگد تو نہیں ہوں صدیوں ٹھہروں اس دھرتی پر
دُھند میں لپٹے خوابوں کا قد لمحہ لمحہ ناپ رہا ہوں
وہ تو جُھوٹ کی چادر اوڑھے پھیلا ساگر پھاند چکا ہے
میں ہی سچ کی مالا جپتے اس دھرتی میں ڈُوب رہا ہوں
سمٹے رہے تو درد کی تنہائیاں ملیں
جب کھُل گئے تو دہر کی رُسوائیاں ملیں
خوابوں کے اِشتہار تھے دیوارِ جسم پر
دل کو ہر ایک موڑ پہ بے خوابیاں ملیں
ہونٹوں کو چُومتی تھیں منور خموشیاں
برفاب سی گُپھاؤں میں سرگوشیاں ملیں