Showing posts with label یوسف اعظمی. Show all posts
Showing posts with label یوسف اعظمی. Show all posts

Thursday, 23 July 2026

آنکھ میں خواب بے حجاب آئے

 آنکھ میں خواب بے حجاب آئے

اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے

لا زمانے لہو کو گردش میں

تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے

شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں

کیا سوال آئے، کیا جواب آئے

Sunday, 28 November 2021

ہونٹوں کے صحیفوں پہ ہے آواز کا چہرہ

 ہونٹوں کے صحیفوں پہ ہے آواز کا چہرہ

سایہ سا نظر آتا ہے ہر ساز کا چہرہ

آنکھوں کی گپھاؤں میں تڑپتی ہے خموشی

خوابوں کی دھنک ہے مِرے ہم راز کا چہرہ

میں وقت کے کہرام میں کھو جاؤں تو کیا غم

ڈھونڈے گا زمانہ مِری آواز کا چہرہ

Saturday, 27 November 2021

کتنی حسین لگتی ہے چہروں کی یہ کتاب

 کتنی حسین لگتی ہے چہروں کی یہ کتاب

سطروں کے بیچ دیکھیۓ پھیلا ہوا عذاب

چیخوں کا کرب نغموں کے شعلے ورق ورق

احساس بن رہا ہے جواں درد کی کتاب

میزانِ دل میں تولیے پھولوں سے ہر اُمید

لمحوں میں گُھل رہا ہے تمناؤں کا شباب

تنہائی کی قبر سے اٹھ کر میں سڑکوں پر کھو جاتا ہوں

 تنہائی کی قبر سے اٹھ کر میں سڑکوں پر کھو جاتا ہوں

چہروں کے گہرے ساگر میں مُردہ آنکھیں پھینک آتا ہوں

میں کوئی برگد تو نہیں ہوں صدیوں ٹھہروں اس دھرتی پر

دُھند میں لپٹے خوابوں کا قد لمحہ لمحہ ناپ رہا ہوں

وہ تو جُھوٹ کی چادر اوڑھے پھیلا ساگر پھاند چکا ہے

میں ہی سچ کی مالا جپتے اس دھرتی میں ڈُوب رہا ہوں

Tuesday, 29 June 2021

سمٹے رہے تو درد کی تنہائیاں ملیں

 سمٹے رہے تو درد کی تنہائیاں ملیں

جب کھُل گئے تو دہر کی رُسوائیاں ملیں

خوابوں کے اِشتہار تھے دیوارِ جسم پر

دل کو ہر ایک موڑ پہ بے خوابیاں ملیں

ہونٹوں کو چُومتی تھیں منور خموشیاں

برفاب سی گُپھاؤں میں سرگوشیاں ملیں