Showing posts with label نجم الحسن کاظمی. Show all posts
Showing posts with label نجم الحسن کاظمی. Show all posts

Wednesday, 3 April 2024

جب ہونٹوں پہ پیار ترانے آ جاتے ہیں

 جب ہونٹوں پہ پیار ترانے آ جاتے ہیں

جیون رُت پہ رُوپ سہانے آ جاتے ہیں

ہم تو پُھولوں کی خُوشبو سے اُکتا کر

تیرے بدن کی باس چُرانے آ جاتے ہیں

اکثر تیرے مدہوشوں سے مِل کر بھی

کچھ لوگوں کے ہوش ٹھکانے آ جاتے ہیں

Tuesday, 26 March 2024

تیری آواز کے تعاقب میں میں مسلسل سفر میں رہتا ہوں

 تیری آواز کے تعاقب میں


میں مسلسل سفر میں رہتا ہوں

گھپ اندھیری ہے زندگی میری

روشنی کا کوئی اشارہ نہیں

رہنمائی کو اب ستارہ نہیں

منزلوں کی تلاش، لاحاصل

اک سفر ہے کہ جو مسلسل ہے

Wednesday, 28 February 2024

آپ کا عشق حقیقت سے زیادہ ہے کہیں

 آپ کا عشق حقیقت سے زیادہ ہے کہیں

سو عقیدت یہ محبت سے زیادہ ہے کہیں

تُو مجھے جتنی سہولت سے ملا شکر تِرا

تُو مجھے میری ضرورت سے زیادہ ہے کہیں

یار حد درجہ تکلف کی ضرورت تو نہ تھی

یار یہ سب تو مروت سے زیادہ ہے کہیں

Saturday, 3 February 2024

ہم یہ کس شہر محبت کی ہوا کھا آئے

 ہم یہ کس شہرِ محبت کی ہوا کھا آئے

دل یہ پھر چاہے کوئی زخم نیا کھا آئے

کوئی ہمراہ نہ تھا، کوئی ہم آواز نہ تھا

ہم تو خُود اپنے ہی سائے سے دغا کھا آئے

جتنے اسباب کیے، سارے غلط ہی بیٹھے

عشق چُھوٹا تو کوئی اور خطا کھا آئے

Saturday, 10 April 2021

یہ دل تو ابھی تک ہے تمہارا اسے کہنا

 یہ دل تو ابھی تک ہے تمہارا اُسے کہنا

جاں ہار گئی پیار نہ ہارا، اسے کہنا

سوچوں سے ابھی تک تِرا پیراہنِ الفت

اترا، نہ کبھی میں نے اتارا اسے کہنا

خوابوں میں وہی ہے تِری مہتاب سی صورت

آنکھوں میں وہی اشک ستارا اسے کہنا

Wednesday, 10 February 2021

نہیں ہے پل کا بھروسہ جہان فانی میں

نہیں ہے پل کا بھروسہ، جہانِ فانی میں

یہ مٹی، مٹی میں مل جائے پانی پانی میں

وہ دن نہ ہو کہ عناصر کو بھی فنا ہو جائے

کہ پھر تو خاک بھی بچتی نہیں نشانی میں

میں ایک نقطۂ محدود بن کے رہتا ہوں

مِرا وجود نہ مِٹ جائے بے کرانی میں