جب ہونٹوں پہ پیار ترانے آ جاتے ہیں
جیون رُت پہ رُوپ سہانے آ جاتے ہیں
ہم تو پُھولوں کی خُوشبو سے اُکتا کر
تیرے بدن کی باس چُرانے آ جاتے ہیں
اکثر تیرے مدہوشوں سے مِل کر بھی
کچھ لوگوں کے ہوش ٹھکانے آ جاتے ہیں
جب ہونٹوں پہ پیار ترانے آ جاتے ہیں
جیون رُت پہ رُوپ سہانے آ جاتے ہیں
ہم تو پُھولوں کی خُوشبو سے اُکتا کر
تیرے بدن کی باس چُرانے آ جاتے ہیں
اکثر تیرے مدہوشوں سے مِل کر بھی
کچھ لوگوں کے ہوش ٹھکانے آ جاتے ہیں
تیری آواز کے تعاقب میں
میں مسلسل سفر میں رہتا ہوں
گھپ اندھیری ہے زندگی میری
روشنی کا کوئی اشارہ نہیں
رہنمائی کو اب ستارہ نہیں
منزلوں کی تلاش، لاحاصل
اک سفر ہے کہ جو مسلسل ہے
آپ کا عشق حقیقت سے زیادہ ہے کہیں
سو عقیدت یہ محبت سے زیادہ ہے کہیں
تُو مجھے جتنی سہولت سے ملا شکر تِرا
تُو مجھے میری ضرورت سے زیادہ ہے کہیں
یار حد درجہ تکلف کی ضرورت تو نہ تھی
یار یہ سب تو مروت سے زیادہ ہے کہیں
ہم یہ کس شہرِ محبت کی ہوا کھا آئے
دل یہ پھر چاہے کوئی زخم نیا کھا آئے
کوئی ہمراہ نہ تھا، کوئی ہم آواز نہ تھا
ہم تو خُود اپنے ہی سائے سے دغا کھا آئے
جتنے اسباب کیے، سارے غلط ہی بیٹھے
عشق چُھوٹا تو کوئی اور خطا کھا آئے
یہ دل تو ابھی تک ہے تمہارا اُسے کہنا
جاں ہار گئی پیار نہ ہارا، اسے کہنا
سوچوں سے ابھی تک تِرا پیراہنِ الفت
اترا، نہ کبھی میں نے اتارا اسے کہنا
خوابوں میں وہی ہے تِری مہتاب سی صورت
آنکھوں میں وہی اشک ستارا اسے کہنا
نہیں ہے پل کا بھروسہ، جہانِ فانی میں
یہ مٹی، مٹی میں مل جائے پانی پانی میں
وہ دن نہ ہو کہ عناصر کو بھی فنا ہو جائے
کہ پھر تو خاک بھی بچتی نہیں نشانی میں
میں ایک نقطۂ محدود بن کے رہتا ہوں
مِرا وجود نہ مِٹ جائے بے کرانی میں