عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اُٹھیں جو ہاتھ تو سارے سلام تیرے ہوں
مِری نظر کے سبھی احترام تیرے ہوں
رہِ حیات میں جتنے سفر بھی میرے ہیں
جہاں رُکوں میرے آقاﷺ مقام تیرے ہوں
قدم قدم پہ ستارے ہوں تیریﷺ رحمت کے
جہاں بھی گُزریں مِرے صبح و شام تیرے ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اُٹھیں جو ہاتھ تو سارے سلام تیرے ہوں
مِری نظر کے سبھی احترام تیرے ہوں
رہِ حیات میں جتنے سفر بھی میرے ہیں
جہاں رُکوں میرے آقاﷺ مقام تیرے ہوں
قدم قدم پہ ستارے ہوں تیریﷺ رحمت کے
جہاں بھی گُزریں مِرے صبح و شام تیرے ہوں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
محبت کا منبع ہے ذات آپﷺ کی
جہاں آپﷺ کا، کائنات آپﷺ کی
محبت سے دل سارے جیتے گئے💖
نصابِ محبت ہے بات آپ ﷺ کی
محبت سے زیر نگیں ساعتیں💖
یہ دن آپؐ کے ہیں یہ رات آپؐ کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
متاعِ نعت میں حرفِ سپاس رکھتے ہیں
اسی پہ طرزِ عمل کی اساس رکھتے ہیں
مشامِ جاں ہے معطر اسی گلِ تر سے
شبوں میں اسمِ پیمبر کی باس رکھتے ہیں
وہ جامِ کوثر و تسنیم بھی چکھیں گے ضرور
جو ان کے جامِ زیارت کی پیاس رکھتے ہیں
عجب عجیب غمِ احتمال رکھتے ہوئے
کسی کا خواب، کسی کا خیال رکھتے ہوئے
انا بھی کوہِ گراں کی طرح ہے پھر درپیش
تِرے حضور، طلب کا سوال رکھتے ہوئے
کوئی خزینۂ راحت نہ اپنے کام آیا
درازِ دل میں ذرا سا ملال رکھتے ہوئے
سفر ہے دھوپ کا اور ساتھ سائے رکھتی ہوں
کسی کی یاد کو دل میں چھُپائے رکھتی ہوں
مِرا خیال تو کوئی بدل نہیں سکتا
جو رائے رکھتی ہوں بس ایک رائے رکھتی ہوں
ہوا ہو کتنی ہی سرکش فضا ہو یخ بستہ
میں اپنے دل کا الاؤ جلائے رکھتی ہوں
نئے دکھوں، نئی خوشیوں کی رہگزار میں ہوں
ابھی قیام کہاں ہو کہ خارزار میں ہوں
وہ مجھ کو جلتا ہوا چھوڑ دے کہ گُل کر دے
میں اِک چراغ ہوں، جھونکے کے اختیار میں ہوں
میں اُن کے ساتھ بڑی بے دلی سے اُڑتی ہوں
کہ اک پرندہ ہوں اور دوسری قطار میں ہوں
کوئی پنچھی اُڑان میں بھی نہیں
تیر اس کی کمان میں بھی نہیں
ضبط کرنے کی خُو نہیں اس میں
حوصلہ اس کے مان میں بھی نہیں
دھوپ اتنی ہے غم کے صحرا میں
سایہ اس سائبان میں بھی نہیں
آ، شکستہ قصر کی تعمیر کر
مجھ سے ملنے میں نہ اب تاخیر کر
ان اندھیروں میں بہت دن رہ چکے
اب تو ہم کو شاملِ تنویر کر
تیری پوریں ہیں مصور کی طرح
عکسِ قلب و ذہن کو تصویر کر