وقت کے بوسیدہ کاغذ پہ رقم ہونے کو ہے
لمحۂ موجود اگلے پل جو کم ہونے کو ہے
میری وحشت سے کبھی سیراب تھا دشتِ جنوں
اب مِری دیوانگی کا سر قلم ہونے کو ہے
اس کے جانبدار ہیں سارے، مِرا کوئی نہیں
المدد اے دل! سرِ پندارِ خم ہونے کو ہے
وقت کے بوسیدہ کاغذ پہ رقم ہونے کو ہے
لمحۂ موجود اگلے پل جو کم ہونے کو ہے
میری وحشت سے کبھی سیراب تھا دشتِ جنوں
اب مِری دیوانگی کا سر قلم ہونے کو ہے
اس کے جانبدار ہیں سارے، مِرا کوئی نہیں
المدد اے دل! سرِ پندارِ خم ہونے کو ہے
جذب ہوتا جا رہا ہے دل میں درد لا علاج
کیا اسی مرہم سے ہونا طے ہے دنیا کا علاج
تھی یہی امید بھی اور چارہ گر نے بھی کہا
آپ کب کے مر چکے ہیں آپ کا کیسا علاج
دل کو نامنظور تھی تصویر سی جھوٹی دوا
طے ہوا ترکِ تعلق، ہجر کا پہلا علاج
ترتیب و توازن کا نہ توڑیں گے بھرم ہم
اک روز صف دہر سے ہو جائیں گے کم ہم
جذبوں کے سلگتے ہوئے خاشاک میں گم تم
خواہش کی لرزتی ہوئی آواز اہم ہم
اے شاخِ تمنا تجھے تنہا نہیں کرتے
خنجر تجھے پڑتے ہیں پہ ہوتے ہیں قلم ہم
چلو فرارِ خُودی کا کوئی صِلہ تو مِلا
ہمیں ملے نہیں اُس کو، ہمیں خدا تو ملا
نشاطِ قریۂ جاں سے جدا ہوئی خوشبو
سفر کچھ ایسا ہے اب کے، کوئی ملا تو ملا
ہمارے بعد روایت چلی محبت کی
نظامِ عالمِ ہستی کو فلسفہ تو ملا
دل دشت ہے تو اشک فشانی کریں گے ہم
یہ کام بس برائے روانی کریں گے ہم
بیٹھے ہیں شامیانۂ شب رنگ میں اداس
رنگِ رخِ شفق ابھی دھانی کریں گے ہم
پچھلے برس کے عشق پہ ہم کو یقین تھا
اگلے برس کا عشق گمانی کریں گے ہم