Showing posts with label ابھینندن پانڈے. Show all posts
Showing posts with label ابھینندن پانڈے. Show all posts

Saturday, 12 March 2022

وقت کے بوسیدہ کاغذ پہ رقم ہونے کو ہے

‏وقت کے بوسیدہ کاغذ پہ رقم ہونے کو ہے 

‏لمحۂ موجود اگلے پل جو کم ہونے کو ہے 

‏میری وحشت سے کبھی سیراب تھا دشتِ جنوں 

‏اب مِری دیوانگی کا سر قلم ہونے کو ہے 

‏اس کے جانبدار ہیں سارے، مِرا کوئی نہیں 

‏المدد اے دل! سرِ پندارِ خم ہونے کو ہے 

Wednesday, 22 December 2021

جذب ہوتا جا رہا ہے دل میں درد لا علاج

 جذب ہوتا جا رہا ہے دل میں درد لا علاج

کیا اسی مرہم سے ہونا طے ہے دنیا کا علاج

تھی یہی امید بھی اور چارہ گر نے بھی کہا

آپ کب کے مر چکے ہیں آپ کا کیسا علاج

دل کو نامنظور تھی تصویر سی جھوٹی دوا

طے ہوا ترکِ تعلق، ہجر کا پہلا علاج

Saturday, 11 December 2021

ترتیب و توازن کا نہ توڑیں گے بھرم ہم

 ترتیب و توازن کا نہ توڑیں گے بھرم ہم

اک روز صف دہر سے ہو جائیں گے کم ہم

جذبوں کے سلگتے ہوئے خاشاک میں گم تم

خواہش کی لرزتی ہوئی آواز اہم ہم

اے شاخِ تمنا تجھے تنہا نہیں کرتے

خنجر تجھے پڑتے ہیں پہ ہوتے ہیں قلم ہم

Tuesday, 28 September 2021

چلو فرار خودی کا کوئی صلہ تو ملا

 چلو فرارِ خُودی کا کوئی صِلہ تو مِلا

ہمیں ملے نہیں اُس کو، ہمیں خدا تو ملا

نشاطِ قریۂ جاں سے جدا ہوئی خوشبو

سفر کچھ ایسا ہے اب کے، کوئی ملا تو ملا

ہمارے بعد روایت چلی محبت کی

نظامِ عالمِ ہستی کو فلسفہ تو ملا

Tuesday, 22 June 2021

دل دشت ہے تو اشک فشانی کریں گے ہم

 دل دشت ہے تو اشک فشانی کریں گے ہم

یہ کام بس برائے روانی کریں گے ہم

بیٹھے ہیں شامیانۂ شب رنگ میں اداس

رنگِ رخِ شفق ابھی دھانی کریں گے ہم

پچھلے برس کے عشق پہ ہم کو یقین تھا

اگلے برس کا عشق گمانی کریں گے ہم