Tuesday, 22 June 2021

دل دشت ہے تو اشک فشانی کریں گے ہم

 دل دشت ہے تو اشک فشانی کریں گے ہم

یہ کام بس برائے روانی کریں گے ہم

بیٹھے ہیں شامیانۂ شب رنگ میں اداس

رنگِ رخِ شفق ابھی دھانی کریں گے ہم

پچھلے برس کے عشق پہ ہم کو یقین تھا

اگلے برس کا عشق گمانی کریں گے ہم

چاہیں تو اس کو تیغِ خموشی سے کاٹ دیں

لیکن جنوں سے جنگ زبانی کریں گے ہم

ٹھہرے ہیں سیلِ حرف و معانی میں دم بخود

ظاہر کبھی تو دردِ نہانی کریں گے ہم

قامت پہ اپنی ناز کرے کوہِ شامِ غم

گھبرا کے آج مرثیہ خوانی کریں گے ہم

دریا کی سمت بھاگتے جائیں گے ساری عمر

آخر میں اپنی پیاس کو پانی کریں گے ہم


ابھینندن پانڈے

No comments:

Post a Comment