عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سرِ نیزہ جو روشن ہو گیا ہے
رسول پاکؐ کے گھر کا دِیا ہے
اندھیری رات کی پوروں میں جگنو
با انداز شرر جل بُجھ رہا ہے
ہوائیں سر پٹخ کر رہ گئیں ہیں
چراغِ استقامت جل رہا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سرِ نیزہ جو روشن ہو گیا ہے
رسول پاکؐ کے گھر کا دِیا ہے
اندھیری رات کی پوروں میں جگنو
با انداز شرر جل بُجھ رہا ہے
ہوائیں سر پٹخ کر رہ گئیں ہیں
چراغِ استقامت جل رہا ہے
دیکھا اسے دمِ سحر، نیند نہ آئی رات بھر
ہم نے خطوط و خال کی بزم سجائی رات بھر
شب کے سفیر کے لیے، ماہِ منیر کے لیے
تختِ فلک پہ مسندِ نجم بچھائی رات بھر
چار طرف اُمنڈ پڑِیں، ہجر بھری سیاہیاں
یاد کی ایک شمع سی دل میں جلائی رات بھر
اصلِ زندگی
مِری مٹی پہ دو موسم اترتے ہیں
محبت کا ہرا پن اور عداوت کی خزاں کا زرد سُونا پن
محبت کا ہرا پن دوستی کی نرم خوشبو سے مزیّن ہے
عداوت کی خزاں کا زرد سُونا پن
کسی دریا میں چکراتے بھنور کا شاخسانہ ہے
افغان، کیمرہ اور کلاشنکوف
تم نے
سدا مجھے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا
ہمیشہ
تمہارے لینز کا زوم
میرے کندھے پہ لٹکی کلاشنکوف پہ فوکس رہا
تم نے میری بانسری