Showing posts with label نجیب احمد. Show all posts
Showing posts with label نجیب احمد. Show all posts

Saturday, 22 July 2023

سر نیزہ جو روشن ہو گیا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


سرِ نیزہ جو روشن ہو گیا ہے

رسول پاکؐ کے گھر کا دِیا ہے

اندھیری رات کی پوروں میں جگنو

با انداز شرر جل بُجھ رہا ہے

ہوائیں سر پٹخ کر رہ گئیں ہیں

چراغِ استقامت جل رہا ہے

Tuesday, 5 April 2022

دیکھا اسے دم سحر نیند نہ آئی رات بھر

 دیکھا اسے دمِ سحر، نیند نہ آئی رات بھر

ہم نے خطوط و خال کی بزم سجائی رات بھر

شب کے سفیر کے لیے، ماہِ منیر کے لیے

تختِ فلک پہ مسندِ نجم بچھائی رات بھر

چار طرف اُمنڈ پڑِیں، ہجر بھری سیاہیاں

یاد کی ایک شمع سی دل میں جلائی رات بھر

Friday, 25 February 2022

مری مٹی پہ دو موسم اترتے ہیں

 اصلِ زندگی


مِری مٹی پہ دو موسم اترتے ہیں

محبت کا ہرا پن اور عداوت کی خزاں کا زرد سُونا پن

محبت کا ہرا پن دوستی کی نرم خوشبو سے مزیّن ہے

عداوت کی خزاں کا زرد سُونا پن

کسی دریا میں چکراتے بھنور کا شاخسانہ ہے

Sunday, 9 January 2022

تم نے سدا مجھے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا

 افغان، کیمرہ اور کلاشنکوف


تم نے

سدا مجھے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا

ہمیشہ

تمہارے لینز کا زوم

میرے کندھے پہ لٹکی کلاشنکوف پہ فوکس رہا

تم نے میری بانسری

Monday, 18 December 2017

عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں

عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں 
اور کیا اس کے سوا اہلِ انا رکھتے ہیں 
ہم تہی دست کچھ ایسے بھی تہی دست نہیں 
کچھ نہیں رکھتے، مگر پاسِ وفا رکھتے ہیں 
زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہے 
کچھ بچے یا نہ بچے اس کو بچا رکھتے ہیں 

نشاں کسی کو ملے گا بھلا کہاں میرا

نشاں کسی کو ملے گا بھلا کہاں میرا 
کہ ایک روح تھا میں جسم تھا نشاں میرا 
ہر ایک سانس نیا سال بن کے آتا ہے 
قدم قدم ابھی باقی ہے امتحاں میرا 
مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے 
نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا 

آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا

آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا 
ایک دن رات ڈھلے یومِ حساب آئے گا 
مطمئن ایسے کہ ہر گام یہی سوچتے ہیں 
اس سفر میں کوئی صحرا نہ سراب آئے گا 
یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزرے گی 
عمر جب کاٹ چکوں گا تو شباب آئے گا 

Monday, 11 December 2017

ترا رنگ بصیرت ہو بہو مجھ سا نکل آیا

ترا رنگ بصیرت ہو بہو مجھ سا نکل آیا 
تجھے میں کیا سمجھتا تھا مگر تو کیا نکل آیا 
ذرا سا کام پڑتے ہی مزاج اک خاک زادے کا 
قد و قامت میں گردوں سے بھی کچھ اونچا نکل آیا 
زر خوشبو کھنکتا رہ گیا دست گل تر میں 
دل سادہ خریدار دل سادہ نکل آیا 

اک رنج عمر دے کے چلا ہے کدھر مجھے

اک رنج عمر دے کے چلا ہے کدھر مجھے 
گلیوں میں رول دیں نہ مرے بال و پر مجھے 
دل پربتوں کے پار نہ چل دے ہوا کے ساتھ 
بادل بنا نہ دے مری خوئے سفر مجھے 
میں نے جنہیں چھوا انہیں شہکار کر دیا 
اے کاش چھو سکے مرا دست ہنر مجھے 

شب کے خلاف برسر پیکار کب ہوئے

شب کے خلاف برسر پیکار کب ہوئے 
ہم لوگ روشنی کے طلبگار کب ہوئے 
خوشبو کی گھات میں ہیں شکاری ہواؤں کے 
جھونکے مگر کسی سے گرفتار کب ہوئے 
تعبیر کی رتوں نے بدن زرد کر دئیے 
پھر بھی یہ لوگ خواب سے بیدار کب ہوئے 

Tuesday, 14 November 2017

زرد پتوں کو درختوں سے جدا ہونا ہی تھا

زرد پتوں کو درختوں سے جدا ہونا ہی تھا 
ہم کہ دریا ہیں سمندر کی غذا ہونا ہی تھا 
اور کب تک بے ثمر رکھتی خزاں پیڑوں کے ہاتھ 
رُت بدل جانا تھی یہ، جنگل ہرا ہونا ہی تھا 
روکنے سے کب ہوا کے نرم جھونکے رک سکے 
بند دروازوں کو اک دن نیم وا ہونا ہی تھا 

اے مہ ہجر کیا کہیں کیسی تھکن سفر میں تھی

اے مہِ ہجر کیا کہیں، کیسی تھکن سفر میں تھی 
روپ جو رہگزر میں تھے دھوپ جو رہگزر میں تھی 
لفظ کی شکل پر نہ جا، لفظ کے رنگ بھی سمجھ 
ایک خبر پسِ خبر آج کی ہر خبر میں تھی 
رات فصیلِ شہر میں ایک شگاف کیا ملا 
خون کی اک لکیر سی صبح نظر نظر میں تھی 

ناؤ خستہ بھی نہ تھی موج میں دریا بھی نہ تھا

ناؤ خستہ بھی نہ تھی موج میں دریا بھی نہ تھا 
پار اترتا تھا مگر تجھ پہ بھروسہ بھی نہ تھا 
زندگی ہاتھ نہ دے پائی مرے ہاتھوں میں 
ساتھ جانا بھی نہ تھا ہاتھ چھڑانا بھی نہ تھا 
جن پہ اک عمر چلا تھا انہی رستوں پہ کہیں 
واپس آیا تو مرا نقش کف پا بھی نہ تھا 

تھکن سے چور بدن دھول میں اٹا سر تھا

تھکن سے چور بدن دھول میں اٹا سر تھا 
میں جب گرا تو مرے سامنے مرا گھر تھا 
تہی ثمر شجر خواب کچھ نڈھال سے تھے 
زمیں پہ سوکھی ہوئی پتیوں کا بستر تھا 
اسی کی آب تھی اس شب میں روشنی کی لکیر 
وہ ایک شخص کہ جو کانچ سے بھی کمتر تھا