Showing posts with label قربان آتش. Show all posts
Showing posts with label قربان آتش. Show all posts

Thursday, 2 April 2026

کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

 کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

تڑپ رہا ہے کہاں کون چل کے دیکھ ذرا

لبوں پہ کیسے مسرت کا جام چھلکے گا

خزاں رسیدہ چمن کو بدل کے دیکھ ذرا

سیاہ رنگ بتا دے گا کیسے چہرے کو

تصورات کے شعلوں میں جل کے دیکھ ذرا

Tuesday, 29 July 2025

کیسے چھپاتا زخموں کو حاضرین سے

 کیسے چھپاتا زخموں کو حاضرین سے

قطرہ ٹپک رہا تھا خود آستین سے

کچھ امتیاز دوری کا اب نہ رہ گیا

تصویر کھینچ لیتے ہیں دُوربین سے

اک روز غرق کر دے گا کائنات کو

دریا اُبل رہا ہے شاخِ یقین سے

Sunday, 27 July 2025

گر نہ ہوتے آپ ہوتا قصۂ آدم نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


گر نہ ہوتے آپﷺ ہوتا قصۂ آدم نہیں

چاند تارے کوہ دریا اور ہوتے ہم نہیں

میری نس نس میں سمایا مصطفیٰؐ کا عشق ہے

وہ خیالوں میں بسے ہیں یہ سعادت کم نہیں

کس ڈگر پر لے چلا ہے کھینچ کر یہ شوقِ دید

خار بے معنی نظر میں آبلوں کا غم نہیں

Tuesday, 7 December 2021

جاؤں کہاں ہے پاؤں میں زنجیر کیا کہوں

جاؤں کہاں ہے پاؤں میں زنجیر کیا کہوں

بے رنگ دھوپ سے ہوئی تصویر کیا کہوں

💕اپنا لہو پلانا پڑا اینٹ اینٹ میں💕

کیسے ہوئی مکان کی تعمیر کیا کہوں

اس مسئلے پہ آپ بھی کچھ غور کیجئے

کیوں آدمی کی گھٹ گئی توقیر کیا کہوں