کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
تڑپ رہا ہے کہاں کون چل کے دیکھ ذرا
لبوں پہ کیسے مسرت کا جام چھلکے گا
خزاں رسیدہ چمن کو بدل کے دیکھ ذرا
سیاہ رنگ بتا دے گا کیسے چہرے کو
تصورات کے شعلوں میں جل کے دیکھ ذرا
کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
تڑپ رہا ہے کہاں کون چل کے دیکھ ذرا
لبوں پہ کیسے مسرت کا جام چھلکے گا
خزاں رسیدہ چمن کو بدل کے دیکھ ذرا
سیاہ رنگ بتا دے گا کیسے چہرے کو
تصورات کے شعلوں میں جل کے دیکھ ذرا
کیسے چھپاتا زخموں کو حاضرین سے
قطرہ ٹپک رہا تھا خود آستین سے
کچھ امتیاز دوری کا اب نہ رہ گیا
تصویر کھینچ لیتے ہیں دُوربین سے
اک روز غرق کر دے گا کائنات کو
دریا اُبل رہا ہے شاخِ یقین سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گر نہ ہوتے آپﷺ ہوتا قصۂ آدم نہیں
چاند تارے کوہ دریا اور ہوتے ہم نہیں
میری نس نس میں سمایا مصطفیٰؐ کا عشق ہے
وہ خیالوں میں بسے ہیں یہ سعادت کم نہیں
کس ڈگر پر لے چلا ہے کھینچ کر یہ شوقِ دید
خار بے معنی نظر میں آبلوں کا غم نہیں
جاؤں کہاں ہے پاؤں میں زنجیر کیا کہوں
بے رنگ دھوپ سے ہوئی تصویر کیا کہوں
💕اپنا لہو پلانا پڑا اینٹ اینٹ میں💕
کیسے ہوئی مکان کی تعمیر کیا کہوں
اس مسئلے پہ آپ بھی کچھ غور کیجئے
کیوں آدمی کی گھٹ گئی توقیر کیا کہوں