Showing posts with label خالد ندیم شانی. Show all posts
Showing posts with label خالد ندیم شانی. Show all posts

Friday, 25 March 2022

لپٹ کے سوچ سے نیندیں حرام کرتی ہے

 لپٹ کے سوچ سے نیندیں حرام کرتی ہے

تمام شب تیری حسرت کلام کرتی ہے

ہمی وہ علم کے روشن چراغ ہیں جن کو

ہوا بجھاتی نہیں ہے سلام کرتی ہے

کسی بھی طور سکھاتی نہیں ہے آزادی

مِرے حضور! محبت غلام کرتی ہے

Wednesday, 9 February 2022

کبھی لفظوں کی پوروں پر اگے ناخن بھی دیکھے ہیں

 کبھی لفظوں کی پوروں پر اُگے ناخن بھی دیکھے ہیں؟

کبھی سوچوں کے رستے پر

بہت جب دور جاتے ہو

تر و تازہ بھی پلٹے ہو؟

کبھی دکھ میں کسی الجھن کو الجھن میں بھی ڈالا ہے؟

کبھی سچ کے تغیر پر 

Saturday, 8 January 2022

تو محمد کو صرف دیں سمجھا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تُو محمدﷺ کو صرف دِیں سمجھا

اس کا مطلب ہے تُو نہیں سمجھا

اپنے جیسا سمجھ رہا ہے انہیںؐ؟

آسماں کو بھی تُو زمیں سمجھا؟

قابِ قوسین کی قسم مجھ کو

اس سے بڑھ کر انہیںؐ قریں سمجھا

Sunday, 12 December 2021

ہوئے جو ساتھ نظاروں نے رشک کرنا ہے

 ہوئے جو ساتھ، نظاروں نے رشک کرنا ہے

ہمارے بخت پہ یاروں نے رشک کرنا ہے

تمہارا ہاتھ اگر ہاتھ میں رہا یونہی

خزاں رُتوں پہ بہاروں نے رشک کرنا ہے

ہم اس کے ذروں میں چاہت کا نور بھر دیں گے

ہمارے تھل پہ ستاروں نے رشک کرنا ہے

Saturday, 17 July 2021

بٹیا رانی سے جھوٹ بولتے ہو

 بِٹیا رانی سے جُھوٹ بولتے ہو

زندگانی سے جھوٹ بولتے ہو

تب کہانی پہ کیا گزرتی ہے

جب کہانی سے جھوٹ بولتے ہو

زندگی، موت کے معاملے پر

دارِ فانی سے جھوٹ بولتے ہو

Monday, 14 June 2021

کہہ گیا ہوں جو میں روانی میں

 کہہ گیا ہوں جو میں روانی میں

وہ تو شامل نہ تھا کہانی میں

کوئی لغزش، گناہ، توبہ کر

نیک بچہ تھا میں جوانی میں

رنگ کالا بھی اس پہ جچتا ہے

پر جو لگتی ہے آسمانی میں

Thursday, 8 April 2021

ادائیں تم بنا لینا اشارے میں بناؤں گا

 ادائیں تم بنا لینا،۔ اشارے میں بناؤں گا

تمہارے پھول جذبوں کو شرارے میں بناؤں گا

تمہارا ساتھ شامل ہے، تو پھر تم دیکھتے آؤ

زمین و آسماں کے اب، کنارے میں بناؤں گا

اگر تم فیصلہ کر لو، محبت اوڑھ لینے کا

تو پھر اس شال کے اوپر ستارے میں بناؤں گا

Thursday, 4 March 2021

کیا ایسا ہو سکتا ہے

 کیا ایسا ہو سکتا ہے


کسی دن تمہارے پاس ڈھیر سارا وقت ہو

اور میں اپنی حسرتوں بُنی شال کا دھاگہ دھاگہ ادھیڑ کر تمہیں دکھاوْں

کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

کسی سمندر کنارے کسی سیمنٹ کے بینچ پر میری پشت کائنات کی پشت سے لگی ہو

اور سمندر ہماری باتیں سن کر محبت زندہ باد کا شور مچا دے

Tuesday, 9 February 2021

ثنائے سرور عالم کا جام کب دو گے

 ثنائے سرورِ عالم کا جام کب دو گے

مری زبان کو اذنِ کلام کب دو گے

عطائیں حد سے زیادہ ہیں پر مِرا تم سے

وہی سوال ! مدینے کی شام کب دو گے

تڑپ رہا ہے تخیل اسی سراپے کو

غزل کو نعت کا حسنِ کلام کب دو گے

Friday, 27 November 2020

اسی نے بوئے شکوک دل میں اسی چنبیلی کا نام دکھ ہے

 اسی نے بوئے شکوک دل میں اسی چنبیلی کا نام دکھ ہے

تمہارے پہلو سے لگ کے بیٹھی ہوئی سہیلی کا نام دکھ ہے

وہی نا جس کی مکین لڑکی نے تیری بستی میں عشق بویا

مجھے بھی درشن کراؤ اس کے کہ جس حویلی کا نام دکھ ہے

تم ان لکیروں میں اک خوشی بھی تلاش کر لو تو معجزہ ہے

کہ میں تو بچپن سے جانتا ہوں، مری ہتھیلی کا نام دکھ ہے

Thursday, 26 November 2020

کوئی مجنون میر بیٹھا ہے

کوئی مجنونِ میر بیٹھا ہے

سمجھو میرا وہ پیر بیٹھا ہے

وہ اگر مڑ کے دیکھ لے مجھ کو

پھر نشانے پہ تیر🠅 بیٹھا ہے

تیری شیریں نے خودکشی کر لی

تُو لبِ جوئے شِیر بیٹھا ہے

Wednesday, 25 November 2020

تمہارا ہجر منایا تو میں اکیلا تھا

 تمہارا ہجر منایا تو میں اکیلا تھا

جنوں نے حشر اٹھایا تو میں اکیلا تھا

یہ میری اپنی دعائیں، جنہوں نے رد ہو کر

گلے سے مجھ کو لگایا تو میں اکیلا تھا

دیارِ خواب تھا، تم تھے، تمام دنیا تھی

کسی نے آ کے جگایا تو میں اکیلا تھا

مجھے بتایا گیا تھا یہاں محبت ہے

 مجھے بتایا گیا تھا یہاں محبت ہے

میں آ گیا ہوں دکھاؤ کہاں محبت ہے 

یہاں کے لوگ بہت  دشمنی نبھاتے ہیں 

اسی سے ہوتا ہے ثابت، یہاں محبت ہے

کسی کے ناف پیالے سے منہ ہٹا لینا

سوال ہی نہیں اٹھتا میاں محبت ہے

Tuesday, 24 November 2020

حق کا رستہ نشاں سے ملنا ہے

 حق کا رستہ نشاں سے ملنا ہے

یعنی تیر و سناں سے ملنا ہے

میں حیاتی دراز کیوں مانگوں

والئ دو جہاںﷺ سے ملنا ہے

دنیا چاہو، یا آخرت چاہو

سارا کچھ ہی یہاں سے ملنا ہے

عشق میں تجربات مت کرنا

 عشق میں تجربات مت کرنا

اب کسی سے بھی ہاتھ مت کرنا

خضر ہو تم نہ میں سکندر ہوں

تم وہی میرے ساتھ مت کرنا

میں تصور بھی کر نہیں سکتا

اب بچھڑنے کی بات مت کرنا

سفر ہو دھوپ کا اور وہ بھی پا پیادہ ہو

 سفر ہو دھوپ کا اور وہ بھی پا پیادہ ہو

کہیں ٹھہرنے کا پھر کس طرح ارادہ ہو

میں اس خیال سے خط کو نہ چھو سکا اب تک

لفافہ کھول کے دیکھوں، ورق نہ سادہ ہو

بس آج وقت پہ سونے کی چاہ ہے مجھ کو

دعا کرو کہ تھکن خوف سے زیادہ ہو

Monday, 23 November 2020

میرے بیٹے میری تم کو نصیحت ہے

 نصیحت


میرے بیٹے! میری تم کو نصیحت ہے

جو دل چاہے وه بن جانا

مگر اچھا نہیں بننا

کبھی اچھوں کی صحبت میں نہیں پڑنا

کبھی اچھوں کی باتوں میں نہیں آنا

Saturday, 14 November 2020

اسی لیے تو تجھے معتبر نہیں لکھا

 اسی لیے تو تجھے معتبر نہیں لکھا

کبھی بھی خوف کے زیرِ اثر نہیں لکھا

ہمارے ساتھ چلے ہو تو اتنا دھیان رہے

ہماری راہ میں کوئی شجر نہیں لکھا

بنا رہا تھا میں فہرست دل کے زخموں کی

کسی بھی زخم کو بارِ دگر نہیں لکھا

Thursday, 12 November 2020

کیسے خواہش کو مار کر سمجھے

 کیسے خواہش کو مار کر سمجھے

میری وحشت شمار کر، سمجھے

بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتیں

بوجھ سر سے اتار کر سمجھے

حسن مستور ہو تو جادو ہے

لوگ کپڑے اتار کر سمجھے

خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے

 خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے

غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے

ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں

ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے

مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی

درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے