لپٹ کے سوچ سے نیندیں حرام کرتی ہے
تمام شب تیری حسرت کلام کرتی ہے
ہمی وہ علم کے روشن چراغ ہیں جن کو
ہوا بجھاتی نہیں ہے سلام کرتی ہے
کسی بھی طور سکھاتی نہیں ہے آزادی
مِرے حضور! محبت غلام کرتی ہے
لپٹ کے سوچ سے نیندیں حرام کرتی ہے
تمام شب تیری حسرت کلام کرتی ہے
ہمی وہ علم کے روشن چراغ ہیں جن کو
ہوا بجھاتی نہیں ہے سلام کرتی ہے
کسی بھی طور سکھاتی نہیں ہے آزادی
مِرے حضور! محبت غلام کرتی ہے
کبھی لفظوں کی پوروں پر اُگے ناخن بھی دیکھے ہیں؟
کبھی سوچوں کے رستے پر
بہت جب دور جاتے ہو
تر و تازہ بھی پلٹے ہو؟
کبھی دکھ میں کسی الجھن کو الجھن میں بھی ڈالا ہے؟
کبھی سچ کے تغیر پر
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تُو محمدﷺ کو صرف دِیں سمجھا
اس کا مطلب ہے تُو نہیں سمجھا
اپنے جیسا سمجھ رہا ہے انہیںؐ؟
آسماں کو بھی تُو زمیں سمجھا؟
قابِ قوسین کی قسم مجھ کو
اس سے بڑھ کر انہیںؐ قریں سمجھا
ہوئے جو ساتھ، نظاروں نے رشک کرنا ہے
ہمارے بخت پہ یاروں نے رشک کرنا ہے
تمہارا ہاتھ اگر ہاتھ میں رہا یونہی
خزاں رُتوں پہ بہاروں نے رشک کرنا ہے
ہم اس کے ذروں میں چاہت کا نور بھر دیں گے
ہمارے تھل پہ ستاروں نے رشک کرنا ہے
بِٹیا رانی سے جُھوٹ بولتے ہو
زندگانی سے جھوٹ بولتے ہو
تب کہانی پہ کیا گزرتی ہے
جب کہانی سے جھوٹ بولتے ہو
زندگی، موت کے معاملے پر
دارِ فانی سے جھوٹ بولتے ہو
کہہ گیا ہوں جو میں روانی میں
وہ تو شامل نہ تھا کہانی میں
کوئی لغزش، گناہ، توبہ کر
نیک بچہ تھا میں جوانی میں
رنگ کالا بھی اس پہ جچتا ہے
پر جو لگتی ہے آسمانی میں
ادائیں تم بنا لینا،۔ اشارے میں بناؤں گا
تمہارے پھول جذبوں کو شرارے میں بناؤں گا
تمہارا ساتھ شامل ہے، تو پھر تم دیکھتے آؤ
زمین و آسماں کے اب، کنارے میں بناؤں گا
اگر تم فیصلہ کر لو، محبت اوڑھ لینے کا
تو پھر اس شال کے اوپر ستارے میں بناؤں گا
کیا ایسا ہو سکتا ہے
کسی دن تمہارے پاس ڈھیر سارا وقت ہو
اور میں اپنی حسرتوں بُنی شال کا دھاگہ دھاگہ ادھیڑ کر تمہیں دکھاوْں
کیا ایسا ہو سکتا ہے؟
کسی سمندر کنارے کسی سیمنٹ کے بینچ پر میری پشت کائنات کی پشت سے لگی ہو
اور سمندر ہماری باتیں سن کر محبت زندہ باد کا شور مچا دے
ثنائے سرورِ عالم کا جام کب دو گے
مری زبان کو اذنِ کلام کب دو گے
عطائیں حد سے زیادہ ہیں پر مِرا تم سے
وہی سوال ! مدینے کی شام کب دو گے
تڑپ رہا ہے تخیل اسی سراپے کو
غزل کو نعت کا حسنِ کلام کب دو گے
اسی نے بوئے شکوک دل میں اسی چنبیلی کا نام دکھ ہے
تمہارے پہلو سے لگ کے بیٹھی ہوئی سہیلی کا نام دکھ ہے
وہی نا جس کی مکین لڑکی نے تیری بستی میں عشق بویا
مجھے بھی درشن کراؤ اس کے کہ جس حویلی کا نام دکھ ہے
تم ان لکیروں میں اک خوشی بھی تلاش کر لو تو معجزہ ہے
کہ میں تو بچپن سے جانتا ہوں، مری ہتھیلی کا نام دکھ ہے
کوئی مجنونِ میر بیٹھا ہے
سمجھو میرا وہ پیر بیٹھا ہے
وہ اگر مڑ کے دیکھ لے مجھ کو
پھر نشانے پہ تیر🠅 بیٹھا ہے
تیری شیریں نے خودکشی کر لی
تُو لبِ جوئے شِیر بیٹھا ہے
تمہارا ہجر منایا تو میں اکیلا تھا
جنوں نے حشر اٹھایا تو میں اکیلا تھا
یہ میری اپنی دعائیں، جنہوں نے رد ہو کر
گلے سے مجھ کو لگایا تو میں اکیلا تھا
دیارِ خواب تھا، تم تھے، تمام دنیا تھی
کسی نے آ کے جگایا تو میں اکیلا تھا
مجھے بتایا گیا تھا یہاں محبت ہے
میں آ گیا ہوں دکھاؤ کہاں محبت ہے
یہاں کے لوگ بہت دشمنی نبھاتے ہیں
اسی سے ہوتا ہے ثابت، یہاں محبت ہے
کسی کے ناف پیالے سے منہ ہٹا لینا
سوال ہی نہیں اٹھتا میاں محبت ہے
حق کا رستہ نشاں سے ملنا ہے
یعنی تیر و سناں سے ملنا ہے
میں حیاتی دراز کیوں مانگوں
والئ دو جہاںﷺ سے ملنا ہے
دنیا چاہو، یا آخرت چاہو
سارا کچھ ہی یہاں سے ملنا ہے
عشق میں تجربات مت کرنا
اب کسی سے بھی ہاتھ مت کرنا
خضر ہو تم نہ میں سکندر ہوں
تم وہی میرے ساتھ مت کرنا
میں تصور بھی کر نہیں سکتا
اب بچھڑنے کی بات مت کرنا
سفر ہو دھوپ کا اور وہ بھی پا پیادہ ہو
کہیں ٹھہرنے کا پھر کس طرح ارادہ ہو
میں اس خیال سے خط کو نہ چھو سکا اب تک
لفافہ کھول کے دیکھوں، ورق نہ سادہ ہو
بس آج وقت پہ سونے کی چاہ ہے مجھ کو
دعا کرو کہ تھکن خوف سے زیادہ ہو
نصیحت
میرے بیٹے! میری تم کو نصیحت ہے
جو دل چاہے وه بن جانا
مگر اچھا نہیں بننا
کبھی اچھوں کی صحبت میں نہیں پڑنا
کبھی اچھوں کی باتوں میں نہیں آنا
اسی لیے تو تجھے معتبر نہیں لکھا
کبھی بھی خوف کے زیرِ اثر نہیں لکھا
ہمارے ساتھ چلے ہو تو اتنا دھیان رہے
ہماری راہ میں کوئی شجر نہیں لکھا
بنا رہا تھا میں فہرست دل کے زخموں کی
کسی بھی زخم کو بارِ دگر نہیں لکھا
کیسے خواہش کو مار کر سمجھے
میری وحشت شمار کر، سمجھے
بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتیں
بوجھ سر سے اتار کر سمجھے
حسن مستور ہو تو جادو ہے
لوگ کپڑے اتار کر سمجھے
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے