ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
گماں یہ میرا، زیاں کا سبب نہ بن جائے
کہ میرے دل میں محبت نہیں ہے عترت کی
حدیثِ صاحبِ ثقلین بھول جاتا ہوں
خواجہ ثقلین
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
گماں یہ میرا، زیاں کا سبب نہ بن جائے
کہ میرے دل میں محبت نہیں ہے عترت کی
حدیثِ صاحبِ ثقلین بھول جاتا ہوں
خواجہ ثقلین
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
نعتیہ تروینی
جو غمگسار ہے، پُر خار اس کا آنگن ہے
کراہ پر بھی اسیروں کی بے قرار ہے جو
شکار پھر بھی ہے طائف کی سنگباری کا
خواجہ ثقلین
ہمزاد کا غم
آتی رہیں گی عید و دوالی کی رونقیں
سیماؤں،سرحدوں میں بھی بٹنے کے باوجود
ہیں ہاتھ بیٹیوں کے سروں پر تِری، مِرے
تقسیم کے بہاؤ میں کٹنے کے باوجود
تیری بھی بیٹیوں کی ردائیں ہیں تار تار
مجھ کو بھی نیند آئے گی کیسے سکون کی
ہم اپنے حال میں ماضی کی شان بُھول گئے
عطور بھول گئے،۔ پاندان بھول گئے
گلی میں بھولی ہوئی اک، کمان بھول گئے
رگوں میں کس کا لہو ہے، جوان بھول گئے
درخت پر یہ پرندوں نے کیوں سکوت کیا
یہ کیا ہوا؟ کہ مؤذن اذان بھول گئے
اس سے پہلے کہ نیا راستہ ہموار کروں
چاہتا ہوں کہ تِری راہ کو دشوار کروں
مجھ میں اجداد کی غیرت کی رمق باقی ہے
شرم آئے گی تِری پشت پہ گر وار کروں
گو، تصور بھی گراں بار انا پر ہے مِری
دل یہ کہتا ہے تِرے سامنے اقرار کروں
تیرے رخسار کو گلنار کیا کرتی ہے
کتنا پُر کیف ستم سرد ہوا کرتی ہے
جب بھی گلشن میں کلی پھول ہوا کرتی ہے
اس کی تشہیر فقط باد صبا کرتی ہے
کیوں اسی زخم کو ناسور کیا کرتی ہے
اے مِری عمرِ گزشتہ تو یہ کیا کرتی ہے
حور
عطائے ذوالجلال ہے
تُو پیکرِ جمال ہے
کُھلی ہوئی کتاب ہے
تُو حسنِ بے حجاب ہے
شگفتگی ہے پھول کی
تُو اُمتی رسولؐ کی
ہو روح بے قرار جو بارِ گناہ سے
لے آ سکون جا کے کسی خانقاہ سے
لوٹ آئیں گے حریف کو دکھلا کے آئینہ
کیا ہم بھی کوئی کم ہیں کسی کج کلاہ سے
نسبت ہے شاہِ مصر و دلِ نامراد کو
کنعاں کے چاہ اور زنخداں کے چاہ سے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امامِ حسینؑ
حسینؑ فاتحِ خیبر کے ہیں سدھائے ہوئے
کہ بچ نہ پائے کبھی جس کی ضرب کھائے ہوئے
حسینؑ عزمِ شہادت میں آزمائے ہوئے
چلے ہیں دین کی اپنے صلیب اٹھائے ہوئے
ورق کی طرح یہ لرزاں یزیدیت کا بدن
ہے سر بریدہ شہیدوں سے خوف کھائے ہوئے
اپنے چہرے پہ گھنی زلف کا سایہ مت کر
چاند کو دیکھتے ہی یاد تو آیا مت کر
جانے والے کو صدا دے کے بلایا مت کر
بھولنے والوں کو خوابوں میں بھی لایا مت کر
ریگزاروں پہ لکھا پیاس، لہو سے اپنے
ہم کو تاریخ کے اسباق، پڑھایا مت کر
جب بھی تلوار کو سوچوں تِرے ابرو کی طرح
شوق چھُونے کو بڑھا جائے مہم جو کی طرح
لوگ پڑھ لیں گے نگاہوں سے ہی دل کے احوال
پونچھ لے آنکھ سے تسکین بھی آنسو کی طرح
اپنا سب کچھ تِری چاہت کے حوالے کر کے
دور بستی سے نکل جاؤں گا سادھو کی طرح