Showing posts with label خواجہ ثقلین. Show all posts
Showing posts with label خواجہ ثقلین. Show all posts

Sunday, 9 October 2022

گماں یہ میرا زیاں کا سبب نہ بن جائے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


گماں یہ میرا، زیاں کا سبب نہ بن جائے

کہ میرے دل میں محبت نہیں ہے عترت کی

حدیثِ صاحبِ ثقلین بھول جاتا ہوں


خواجہ ثقلین

Thursday, 6 October 2022

جو غمگسار ہے پر خار اس کا آنگن ہے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

نعتیہ تروینی


جو غمگسار ہے، پُر خار اس کا آنگن ہے

کراہ پر بھی اسیروں کی بے قرار ہے جو

شکار پھر بھی ہے طائف کی سنگباری کا


خواجہ ثقلین

Wednesday, 16 March 2022

آتی رہیں گی عید و دوالی کی رونقیں

 ہمزاد کا غم


آتی رہیں گی عید و دوالی کی رونقیں

سیماؤں،سرحدوں میں بھی بٹنے کے باوجود

ہیں ہاتھ بیٹیوں کے سروں پر تِری، مِرے

تقسیم کے بہاؤ میں کٹنے کے باوجود


تیری بھی بیٹیوں کی ردائیں ہیں تار تار

مجھ کو بھی نیند آئے گی کیسے سکون کی

Monday, 24 January 2022

ہم اپنے حال میں ماضی کی شان بھول گئے

 ہم اپنے حال میں ماضی کی شان بُھول گئے

عطور بھول گئے،۔ پاندان بھول گئے

گلی میں بھولی ہوئی اک، کمان بھول گئے

رگوں میں کس کا لہو ہے، جوان بھول گئے

درخت پر یہ پرندوں نے کیوں سکوت کیا

یہ کیا ہوا؟ کہ مؤذن اذان بھول گئے

Sunday, 23 January 2022

اس سے پہلے کہ نیا راستہ ہموار کروں

 اس سے پہلے کہ نیا راستہ ہموار کروں

چاہتا ہوں کہ تِری راہ کو دشوار کروں

مجھ میں اجداد کی غیرت کی رمق باقی ہے

شرم آئے گی تِری پشت پہ گر وار کروں

گو، تصور بھی گراں بار انا پر ہے مِری

دل یہ کہتا ہے تِرے سامنے اقرار کروں

Friday, 21 January 2022

تیرے رخسار کو گلنار کیا کرتی ہے

 تیرے رخسار کو گلنار کیا کرتی ہے

کتنا پُر کیف ستم سرد ہوا کرتی ہے

جب بھی گلشن میں کلی پھول ہوا کرتی ہے

اس کی تشہیر فقط باد صبا کرتی ہے

کیوں اسی زخم کو ناسور کیا کرتی ہے

اے مِری عمرِ گزشتہ تو یہ کیا کرتی ہے

Saturday, 8 January 2022

عطائے ذوالجلال ہے تو پیکر جمال ہے

 حور


عطائے ذوالجلال ہے

تُو پیکرِ جمال ہے

کُھلی ہوئی کتاب ہے

تُو حسنِ بے حجاب ہے

شگفتگی ہے پھول کی

تُو اُمتی رسولؐ کی

Wednesday, 22 December 2021

ہو روح بے قرار جو بار گناہ سے

 ہو روح بے قرار جو بارِ گناہ سے

لے آ سکون جا کے کسی خانقاہ سے

لوٹ آئیں گے حریف کو دکھلا کے آئینہ

کیا ہم بھی کوئی کم ہیں کسی کج کلاہ سے

نسبت ہے شاہِ مصر و دلِ نامراد کو

کنعاں کے چاہ اور زنخداں کے چاہ سے

Tuesday, 21 December 2021

حسین فاتح خیبر کے ہیں سدھائے ہوئے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امامِ حسینؑ


حسینؑ فاتحِ خیبر کے ہیں سدھائے ہوئے

کہ بچ نہ پائے کبھی جس کی ضرب کھائے ہوئے

حسینؑ عزمِ شہادت میں آزمائے ہوئے

چلے ہیں دین کی اپنے صلیب اٹھائے ہوئے

ورق کی طرح یہ لرزاں یزیدیت کا بدن

ہے سر بریدہ شہیدوں سے خوف کھائے ہوئے

Sunday, 19 December 2021

اپنے چہرے پہ گھنی زلف کا سایہ مت کر

 اپنے چہرے پہ گھنی زلف کا سایہ مت کر

چاند کو دیکھتے ہی یاد تو آیا مت کر

جانے والے کو صدا دے کے بلایا مت کر

بھولنے والوں کو خوابوں میں بھی لایا مت کر

ریگزاروں پہ لکھا پیاس، لہو سے اپنے

ہم کو تاریخ کے اسباق، پڑھایا مت کر

Monday, 4 January 2021

جب بھی تلوار کو سوچوں ترے ابرو کی طرح

 جب بھی تلوار کو سوچوں تِرے ابرو کی طرح

شوق چھُونے کو بڑھا جائے مہم جو کی طرح

لوگ پڑھ لیں گے نگاہوں سے ہی دل کے احوال

پونچھ لے آنکھ سے تسکین بھی آنسو کی طرح

اپنا سب کچھ تِری چاہت کے حوالے کر کے

دور بستی سے نکل جاؤں گا سادھو کی طرح