دل میں حسرت کا داغ جلتا ہے
یا حرم میں چراغ جلتا ہے
اب خِرد بھی جنوں کی راہ لگی
دل تو دل ہے دماغ جلتا ہے
یاد آتی ہے آرزوؤں کی
دل کا ایک ایک داغ جلتا ہے
دل میں حسرت کا داغ جلتا ہے
یا حرم میں چراغ جلتا ہے
اب خِرد بھی جنوں کی راہ لگی
دل تو دل ہے دماغ جلتا ہے
یاد آتی ہے آرزوؤں کی
دل کا ایک ایک داغ جلتا ہے
دامن لہو لہو ہے گریباں لہو لہو
ہیں کشتگان فصل بہاراں لہو لہو
شاید گزر چکی ہے اسیروں کی جان پر
زنجیر ہے خموش تو زنداں لہو لہو
گو ہو چکا وجود پتنگوں کا بے نشاں
ہے دامن چراغ شبستاں لہو لہو
وہ بے حسی کہ ذرا بھی وہ پیش و پس نہ تھا
اسیر جیسے نشیمن میں تھا قفس میں نہ تھا
شکست حسن گوارا نہ تھی مجھے، ورنہ
نہیں یہ بات کہ وہ میری دسترس میں نہ تھا
بھرم وفا کا خلوصِ نیاز نے رکھا
وگرنہ فرق کوئی عشق اور ہوس میں نہ تھا
ابر آئیں بھی اس پر تو برستے ہیں بہت کم
گلشن جو اجڑ جائیں وہ بستے ہیں بہت کم
ہے راہنما ساتھ بھی، نزدیک بھی منزل
دشوار رسائی ہے کہ رستے ہیں بہت کم
یہ لاف زنی ہیچ ہے گفتار کے غازی
بادل جو گرجتے ہیں برستے ہیں بہت کم
طنز کے تیر و نشتر اس پر کومل اور رسیلے ہونٹ
جن کا مارا مانگ نہ پائے پانی وہ زہریلے ہونٹ
مجھ کو دلاسے دینے والے پہلے اپنا حال تو دیکھ
چمپئ عارض، اترا چہرہ، سونی آنکھیں، پیلے ہونٹ
جان گئے اے شوخ تجھے، اے عہد شکن پہچان گئے
کہتی ہے کچھ اور ہی چتون لاکھ تراشیں حیلے ہونٹ