Showing posts with label سلمان گیلانی. Show all posts
Showing posts with label سلمان گیلانی. Show all posts

Friday, 9 September 2022

حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفان نعت ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے

میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے

مِدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے

فیضانِ نعت حلقۂ یارانِ نعت ہے

دُور از قیاس وُسعتِ میدانِ نعت ہے

یہ مُلکِ نعت، مُلک سلیمانِ نعت ہے

Friday, 12 August 2022

جن کے روضے پہ اتریں فرشتے مدام

عارفانہ کلام نعت و منقبت


جن کے روضے پہ اتریں فرشتے مدام 

انؐ پہ اربوں درود ان پہ کھربوں سلام 

صبح ستر ہزار،۔ اور اتنے ہی شام 

ان پہ اربوں درود ان پہ کھربوں سلام 

جن کا محمودؐ، احمدؐ، محمدﷺ ہے نام 

ان پہ اربوں درود ان پہ کھربوں سلام 

Sunday, 23 January 2022

زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے

 زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے

عشرت رفتہ فراموش ہوئی جاتی ہے

اس نے اک بار پکارا تھا حریم دل سے

زندگانی ہمہ تن گوش ہوئی جاتی ہے

تم نہ اٹھو مرے پہلو سے خدارا دیکھو

کائنات آنکھوں سے روپوش ہوئی جاتی ہے

Sunday, 21 November 2021

عرش و کرسی سے بالا ہے بام آپ کا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عرش و کرسی سے بالا ہے بام آپؐ کا

آگے اللہ ہی جانے مقام آپؐ کا

فرش سے عرش تک شرق سے غرب تک

نور پھیلا ہوا ہے تمام آپؐ کا

آپ کے ساتھ صدیق و فاروق ہیں

وہ ہے جنت جہاں ہیں قیام آپؐ کا

لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت

پہنچا دے مدینے میں الٰہی!! کسی صورت

اور پھر اس پہ نچھاور کروں میں اشکوں کی لڑیاں

پھر سامنے روضے کی ہو جالی کسی صورت

بستی ہے تیری یاد سے بستی میرے دل کی

بستی نہ کبھی ورنہ یہ بستی کسی صورت

Friday, 19 November 2021

ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود

 ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود

حاصل نہ کر سکا انہیں کوشش کے باوجود

آنکھوں سے آشکارا نہیں ہونے دی تپش

دل میں دہکتی ہجر کی آتش کے باوجود

تیرا ہوں میں تو تیرے کرم سے تِرا ہوں میں

شیطان اور نفس کی سازش کے باوجود

Thursday, 18 November 2021

جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے وہ لفظ قرآن ہو گیا ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے، وہ لفظ قرآن ہو گیا ہے

جو لفظ قرآن ہو گیا ہے،۔ وہ میرا ایمان ہو گیا ہے

جو ان کے تلووں سے لگ گئے ہیں وہ ذرے خورشید بن گئے ہیں

جو ان کے قدموں نے چھو لیا ہے، وہ سنگ مرجان ہو گیا ہے

یہ وقت کی نبض تھم گئی کیوں، خموش کیوں ہے نظامِ ہستی

ملک ہیں ششدر، کہ عرش پر آج کون مہمان ہو گیا ہے

Wednesday, 28 April 2021

اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر

 اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر

یہ بد دعا تھی مجھ کو مِرے نام کے بغیر

ہر روز ماں کے چہرے کو تکتا ہوں پیار سے‫

ہر روز حج میں کرتا ہوں احرام کے بغیر

میں ہوں کہ میری آنکھ میں آنسو ہیں صبح صبح

دنیا دِیے جلاتی نہیں شام کے بغیر

Thursday, 28 November 2019

بھنگڑے پہ اور دھمال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

بھنگڑے پہ اور دھمال پہ بھی ٹیکس لگ گیا
واعظ کے قیل و قال پہ بھی ٹیکس لگ گیا
شادی کے بارے میں کبھی نہ سوچنا چھڑو
سنتے ہیں اس خیال پہ بھی ٹیکس لگ گیا
ہے جس حسین کے گال پہ ڈمپل کوئی کہ تِل
ہر اس حسین کے گال پہ بھی ٹیکس لگ گیا