عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے
میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
مِدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے
فیضانِ نعت حلقۂ یارانِ نعت ہے
دُور از قیاس وُسعتِ میدانِ نعت ہے
یہ مُلکِ نعت، مُلک سلیمانِ نعت ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے
میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
مِدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے
فیضانِ نعت حلقۂ یارانِ نعت ہے
دُور از قیاس وُسعتِ میدانِ نعت ہے
یہ مُلکِ نعت، مُلک سلیمانِ نعت ہے
عارفانہ کلام نعت و منقبت
جن کے روضے پہ اتریں فرشتے مدام
انؐ پہ اربوں درود ان پہ کھربوں سلام
صبح ستر ہزار،۔ اور اتنے ہی شام
ان پہ اربوں درود ان پہ کھربوں سلام
جن کا محمودؐ، احمدؐ، محمدﷺ ہے نام
ان پہ اربوں درود ان پہ کھربوں سلام
زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے
عشرت رفتہ فراموش ہوئی جاتی ہے
اس نے اک بار پکارا تھا حریم دل سے
زندگانی ہمہ تن گوش ہوئی جاتی ہے
تم نہ اٹھو مرے پہلو سے خدارا دیکھو
کائنات آنکھوں سے روپوش ہوئی جاتی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عرش و کرسی سے بالا ہے بام آپؐ کا
آگے اللہ ہی جانے مقام آپؐ کا
فرش سے عرش تک شرق سے غرب تک
نور پھیلا ہوا ہے تمام آپؐ کا
آپ کے ساتھ صدیق و فاروق ہیں
وہ ہے جنت جہاں ہیں قیام آپؐ کا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت
پہنچا دے مدینے میں الٰہی!! کسی صورت
اور پھر اس پہ نچھاور کروں میں اشکوں کی لڑیاں
پھر سامنے روضے کی ہو جالی کسی صورت
بستی ہے تیری یاد سے بستی میرے دل کی
بستی نہ کبھی ورنہ یہ بستی کسی صورت
ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود
حاصل نہ کر سکا انہیں کوشش کے باوجود
آنکھوں سے آشکارا نہیں ہونے دی تپش
دل میں دہکتی ہجر کی آتش کے باوجود
تیرا ہوں میں تو تیرے کرم سے تِرا ہوں میں
شیطان اور نفس کی سازش کے باوجود
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے، وہ لفظ قرآن ہو گیا ہے
جو لفظ قرآن ہو گیا ہے،۔ وہ میرا ایمان ہو گیا ہے
جو ان کے تلووں سے لگ گئے ہیں وہ ذرے خورشید بن گئے ہیں
جو ان کے قدموں نے چھو لیا ہے، وہ سنگ مرجان ہو گیا ہے
یہ وقت کی نبض تھم گئی کیوں، خموش کیوں ہے نظامِ ہستی
ملک ہیں ششدر، کہ عرش پر آج کون مہمان ہو گیا ہے
اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر
یہ بد دعا تھی مجھ کو مِرے نام کے بغیر
ہر روز ماں کے چہرے کو تکتا ہوں پیار سے
ہر روز حج میں کرتا ہوں احرام کے بغیر
میں ہوں کہ میری آنکھ میں آنسو ہیں صبح صبح
دنیا دِیے جلاتی نہیں شام کے بغیر