سلام کرو
مرے وطن کا ہواباز اذن یزداں ہے
مرے وطن کا ہواباز حرفِ امکاں ہے
مرے وطن کا ہواباز عہدِ رخشاں ہے
مرے وطن کا ہواباز روحِ دوراں ہے
مرے وطن کے ہواباز کو سلام کرو
مرے وطن کا ہواباز پاسبانِ وطن
سلام کرو
مرے وطن کا ہواباز اذن یزداں ہے
مرے وطن کا ہواباز حرفِ امکاں ہے
مرے وطن کا ہواباز عہدِ رخشاں ہے
مرے وطن کا ہواباز روحِ دوراں ہے
مرے وطن کے ہواباز کو سلام کرو
مرے وطن کا ہواباز پاسبانِ وطن
جو دن کسی کے ساتھ گزرے، نہ مل سکے
حالات گیسوؤں کو سنوارے، نہ مل سکے
جن کشتیوں کو میرے مقدر کی رو ملی
ان کشتیوں کو گھاٹ کنارے، نہ مل سکے
تم کیا گئے کہ رونقِ ہستی چلی گئی
غنچے نہ مسکرائے، ستارے نہ مل سکے
اک جوئے شیر سے مفتوح کدھر ہوتی ہے
زلفِ شیریں بڑے خلجان سے سر ہوتی ہے
کب سے بیٹھے ہیں سرِ راہ اثاثہ لے کر
دیکھیے کب کسی رہزن کی نظر ہوتی ہے
مل گئے ہو مجھے رستے میں تو ہنس کر بولو
یہ ملاقات کہاں بارِِ دگر ہوتی ہے
بڑی سی عمر ہوئی دودھیا سے بال ہوئے
وہ اتنا پیارا ہوا, جتنے ماہ و سال ہوئے
کئی جواب دئیے اور کئی سوال ہوئے
نہیں ہوئے وہ نہیں آشنائے حال ہوئے
اسے بھی وقت کی مٹی نے گرد پوش کیا
لباس جس کے زمانے میں بے مثال ہوئے
فریب بیش و کم نے مار ڈالا
اُمیدوں کے بھرم نے مار ڈالا
زمانے کے سِتم تو سہ ہی لیتے
رفیقوں کے کرم نے مار ڈالا
طبیعت کو بڑی رغبت تھی غم سے
غرض یہ ہے کہ غم نے مار ڈالا
بے کیفئ حیات میں، کیوں مل گئے ہو تم
ایسی سیاہ رات میں، کیوں مل گئے ہو تم
میں حادثاتِ زیست پہ کچھ کر رہا تھا غور
آشوبِ حادثات میں، کیوں مل گئے ہو تم
تم سے تو راہِ صدق میں ملنے کا قول تھا
راہِ تکلفات میں، کیوں مل گئے ہو تم
کوئی بوند لاؤ خرابات سے
مجھے آگ لگتی ہے برسات سے
میری بات اتنی دلِ آزار تھی
خفا ہو گئے تم میری بات سے
تجھے اس لیے میں نہیں دیکھتا
مجھےعشق ہے کچھ تیری ذات سے
شام ہے، اے پری جمال پلا
جیب سے مے کدہ نکال، پلا
زرد ہے محتسب کا رخ ساقی
شے کوئی اس کو لال لال، پلا
آج میں بے پیۓ نہیں ٹلتا
آج اے مہ جبیں! نہ ٹال، پلا
میں تلخیوں میں شہد رچاتا چلا گیا
ہنستا ہنساتا، پیتا پلاتا چلا گیا
ہوتے رہے نصیب کچھ ایسے حسیں فریب
میں خود کشی کا جشن مناتا چلا گیا
مجھ کو کسی کے آنے کا اتنا یقین تھا
شب کٹ گئی میں گھر کو سجاتا چلا گیا
سر رہ گیا ہے دوش پہ اور دل نہیں رہا
کیا اس جہاں میں کوئی قاتل نہیں رہا
اے چشمِ یار! اب نہ تغافل نہ اِلتفات
کیا میں کسی سلوک کے قابل نہیں رہا؟
کیوں اس کو میرے دل سے عبارت کرے کوئی
وہ آئینہ جو تیرے مقابل نہیں رہا
جو پری زاد ملنسار ہوا کرتے ہیں
کیسی چلتی ہوئی تلوار ہوا کرتے ہیں
ظلم کرنا ہی فقط آپ نے سیکھا ہے یا
مہربان بھی کبھی سرکار ہوا کرتے ہیں
مشق کرنے سے ہی ہوتی ہے مہارت پیدا
سچے عاشق بھی اداکار ہوا کرتے ہیں
بے دلی سے دیوانے ایسے مسکرائے ہیں
عقل چیخ اٹھی ہے،۔ ہوش لڑکھڑائے ہیں
مُدعا کے جو ریزے رہ گئے تھے سینے میں
کچھ دلوں میں اٹکے ہیں کچھ لبوں تک آئے ہیں
آرزو کی پگڈنڈی اَٹ رہی ہے پھولوں سے
مےکدے کی راہوں میں آنچلوں کے سائے ہیں
لطف اور پیار کی کماں ہو جا
مارنا ہے تو مہرباں ہو جا
سر وحشی، خود ان سے ٹکرا کر
پتھروں کا مزاج داں ہو جا
حرفِ مطلب کبھی تو تُو خود بھی
لب پہ آتے ہی داستاں ہو جا
خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے
پانی کی بُوند جیسے عطا ہو فرات سے
شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوب
خورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے
ناگاہ عشق وقت سے آگے نکل گیا
اندازہ کر رہی ہے خِرد واقعات سے
آپ ہیرا، صدف، نگیں کیوں ہیں
آپ بے انتہا حسیں کیوں ہیں
آپ کی کاکلوں کے جنگل میں
اتنی موسیقیاں مکیں، کیوں ہیں
چاند خود بھی نہیں سمجھ پایا
آپ اس درجہ مہ جبیں کیوں ہیں
نکلی ہے فال اہلِ خرد کی کتاب سے
اک جام قیمتی ہے جہانِ شراب سے
کرتا نہ بھول کر بھی گستاخئ سوال
ہوتا جو آشنا میں تمہارے جواب سے
کرتے ہیں موج مے سے سکونِ جگر کشید
شبنم نچوڑتے ہیں رگِ آفتاب سے
وقت اس حسیں کے پاس کچھ اتنا قلیل تھا
قصہ اک آہ میں بھی سمٹ کر طویل تھا
عہدِ بہار تھا کہ کوئی وحشتِ حسیں
جس پھول کو ٹٹول کے دیکھا علیل تھا
موت آئی اور دیکھ کے واپس چلی گئی
جو تھا وہ زندگی کی ادا کا قتیل تھا
لے بجھی، میری کائنات مجھے
کھا گئی، تہمتِ حیات مجھے
مصلحت نے، زباں کو روک دیا
یاد آئی تھی، کوئی بات مجھے
صبحِ محشر کو ملتوی کردو
ہو گئی ہے، میکدے میں رات مجھے
شیخ صاحب خدا خدا کیجے
شیخ صاحب خدا خدا کیجے
یہ حسیں عورتیں یہ تصویریں
رحمتِ ایزدی کی تفسیریں
جن کی زلفوں میں آب حیواں ہے
جن کو تکنا ثوابِ قرآں ہے
یہ الگ بات ہے ساقی کہ مجھے ہوش نہیں
ورنہ میں کچھ بھی ہوں احسان فراموش نہیں
نگہتِ گل بھی ہے اک وحشتِ نازک کی مثال
بارِ ہستی سے کوئی چیز سبکدوش نہیں
آہ وہ قرب کہ ہے دورئ افزوں کی دلیل
ہائے وہ وصل کے آغوش در آغوش نہیں