Showing posts with label عبدالحمید عدم. Show all posts
Showing posts with label عبدالحمید عدم. Show all posts

Saturday, 7 September 2024

مرے وطن کے ہواباز کو سلام کرو

 سلام کرو


مرے وطن کا ہواباز اذن یزداں ہے

مرے وطن کا ہواباز حرفِ امکاں ہے

مرے وطن کا ہواباز عہدِ رخشاں ہے

مرے وطن کا ہواباز روحِ دوراں ہے

مرے وطن کے ہواباز کو سلام کرو


مرے وطن کا ہواباز پاسبانِ وطن

Saturday, 4 May 2024

جو دن کسی کے ساتھ گزرے نہ مل سکے

 جو دن کسی کے ساتھ گزرے، نہ مل سکے

حالات گیسوؤں کو سنوارے، نہ مل سکے

جن کشتیوں کو میرے مقدر کی رو ملی

ان کشتیوں کو گھاٹ کنارے، نہ مل سکے

تم کیا گئے کہ رونقِ ہستی چلی گئی

غنچے نہ مسکرائے، ستارے نہ مل سکے

Friday, 16 December 2022

اک جوئے شیر سے مفتوح کدھر ہوتی ہے

 اک جوئے شیر سے مفتوح کدھر ہوتی ہے

زلفِ شیریں بڑے خلجان سے سر ہوتی ہے

کب سے بیٹھے ہیں سرِ راہ اثاثہ لے کر

دیکھیے کب کسی رہزن کی نظر ہوتی ہے

مل گئے ہو مجھے رستے میں تو ہنس کر بولو

یہ ملاقات کہاں بارِِ دگر ہوتی ہے

Saturday, 16 July 2022

بڑی سی عمر ہوئی دودھیا سے بال ہوئے

 بڑی سی عمر ہوئی دودھیا سے بال ہوئے

وہ اتنا پیارا ہوا, جتنے ماہ و سال ہوئے

کئی جواب دئیے اور کئی سوال ہوئے

نہیں ‌ہوئے وہ نہیں آشنائے حال ہوئے

اسے بھی وقت کی مٹی نے گرد پوش کیا

لباس جس کے زمانے میں بے مثال ہوئے

Sunday, 3 July 2022

فریب بیش و کم نے مار ڈالا

فریب بیش و کم نے مار ڈالا

اُمیدوں کے بھرم نے مار ڈالا

زمانے کے سِتم تو سہ ہی لیتے

رفیقوں کے کرم نے مار ڈالا

طبیعت کو بڑی رغبت تھی غم سے

غرض یہ ہے کہ غم نے مار ڈالا

Sunday, 1 May 2022

بے کیفئ حیات میں کیوں مل گئے ہو تم

 بے کیفئ حیات میں، کیوں مل گئے ہو تم

ایسی سیاہ رات میں، کیوں مل گئے ہو تم

میں حادثاتِ زیست پہ کچھ کر رہا تھا غور

آشوبِ حادثات میں، کیوں مل گئے ہو تم

تم سے تو راہِ صدق میں ملنے کا قول تھا

راہِ تکلفات میں، کیوں مل گئے ہو تم

Thursday, 7 April 2022

کوئی بوند لاؤ خرابات سے

 کوئی بوند لاؤ خرابات سے

مجھے آگ لگتی ہے برسات سے

میری بات اتنی دلِ آزار تھی

خفا ہو گئے تم میری بات سے

تجھے اس لیے میں نہیں دیکھتا

مجھےعشق ہے کچھ تیری ذات سے

Tuesday, 8 March 2022

شام ہے اے پری جمال پلا

 شام ہے، اے پری جمال پلا 

جیب سے مے کدہ نکال، پلا 

زرد ہے محتسب کا رخ ساقی 

شے کوئی اس کو لال لال، پلا 

آج میں بے پیۓ نہیں ٹلتا 

آج اے مہ جبیں! نہ ٹال، پلا 

Wednesday, 2 March 2022

میں تلخیوں میں شہد رچاتا چلا گیا

 میں تلخیوں میں شہد رچاتا چلا گیا

ہنستا ہنساتا، پیتا پلاتا چلا گیا

ہوتے رہے نصیب کچھ ایسے حسیں فریب

میں خود کشی کا جشن مناتا چلا گیا

مجھ کو کسی کے آنے کا اتنا یقین تھا

شب کٹ گئی میں گھر کو سجاتا چلا گیا

Tuesday, 1 March 2022

سر رہ گیا ہے دوش پہ اور دل نہیں رہا

 سر رہ گیا ہے دوش پہ اور دل نہیں رہا

کیا اس جہاں میں کوئی قاتل نہیں رہا

اے چشمِ یار! اب نہ تغافل نہ اِلتفات

کیا میں کسی سلوک کے قابل نہیں رہا؟

کیوں اس کو میرے دل سے عبارت کرے کوئی

وہ آئینہ جو تیرے مقابل نہیں رہا

Friday, 25 February 2022

جو پری زاد ملنسار ہوا کرتے ہیں

 جو پری زاد ملنسار ہوا کرتے ہیں

کیسی چلتی ہوئی تلوار ہوا کرتے ہیں

ظلم کرنا ہی فقط آپ نے سیکھا ہے یا

مہربان بھی کبھی سرکار ہوا کرتے ہیں

مشق کرنے سے ہی ہوتی ہے مہارت پیدا

سچے عاشق بھی اداکار ہوا کرتے ہیں

Thursday, 24 February 2022

بے دلی سے دیوانے ایسے مسکرائے ہیں

 بے دلی سے دیوانے ایسے مسکرائے ہیں

عقل چیخ اٹھی ہے،۔ ہوش لڑکھڑائے ہیں

مُدعا کے جو ریزے رہ گئے تھے سینے میں

کچھ دلوں میں اٹکے ہیں کچھ لبوں تک آئے ہیں

آرزو کی پگڈنڈی اَٹ رہی ہے پھولوں سے

مےکدے کی راہوں میں آنچلوں کے سائے ہیں

Friday, 4 February 2022

لطف اور پیار کی کماں ہو جا

لطف اور پیار کی کماں ہو جا

مارنا ہے تو مہرباں ہو جا

سر وحشی، خود ان سے ٹکرا کر

پتھروں کا مزاج داں ہو جا

حرفِ مطلب کبھی تو تُو خود بھی

لب پہ آتے ہی داستاں ہو جا

Monday, 3 May 2021

خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے

 خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے

پانی کی بُوند جیسے عطا ہو فرات سے

شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوب

خورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے

ناگاہ عشق وقت سے آگے نکل گیا

اندازہ کر رہی ہے خِرد واقعات سے

Thursday, 3 December 2020

آپ ہیرا صدف نگیں کیوں ہیں

 آپ ہیرا، صدف، نگیں کیوں ہیں

آپ بے انتہا حسیں کیوں ہیں

آپ کی کاکلوں کے جنگل میں

اتنی موسیقیاں مکیں، کیوں ہیں

چاند خود بھی نہیں سمجھ پایا

آپ اس درجہ مہ جبیں کیوں ہیں

Wednesday, 4 November 2020

نکلی ہے فال اہل خرد کی کتاب سے

 نکلی ہے فال اہلِ خرد کی کتاب سے

اک جام قیمتی ہے جہانِ شراب سے

کرتا نہ بھول کر بھی گستاخئ سوال

ہوتا جو آشنا میں تمہارے جواب سے

کرتے ہیں موج مے سے سکونِ جگر کشید

شبنم نچوڑتے ہیں رگِ آفتاب سے

Thursday, 29 October 2020

وقت اس حسیں کے پاس کچھ اتنا قلیل تھا

 وقت اس حسیں کے پاس کچھ اتنا قلیل تھا

قصہ اک آہ میں بھی سمٹ کر طویل تھا

عہدِ بہار تھا کہ کوئی وحشتِ حسیں

جس پھول کو ٹٹول کے دیکھا علیل تھا

موت آئی اور دیکھ کے واپس چلی گئی

جو تھا وہ زندگی کی ادا کا قتیل تھا

Tuesday, 20 October 2020

لے بجھی میری کائنات مجھے

 لے بجھی، میری کائنات مجھے

کھا گئی، تہمتِ حیات مجھے

مصلحت نے، زباں کو روک دیا

یاد آئی تھی، کوئی بات مجھے

صبحِ محشر کو ملتوی کردو

ہو گئی ہے، میکدے میں رات مجھے

Tuesday, 6 October 2020

شیخ صاحب خدا خدا کیجے

 شیخ صاحب خدا خدا کیجے

شیخ صاحب خدا خدا کیجے

یہ حسیں عورتیں یہ تصویریں

رحمتِ ایزدی کی تفسیریں

جن کی زلفوں میں آب حیواں ہے

جن کو تکنا ثوابِ قرآں ہے

Saturday, 3 October 2020

یہ الگ بات ہے ساقی کہ مجھے ہوش نہیں

 یہ الگ بات ہے ساقی کہ مجھے ہوش نہیں

ورنہ میں کچھ بھی ہوں احسان فراموش نہیں

نگہتِ گل بھی ہے اک وحشتِ نازک کی مثال

بارِ ہستی سے کوئی چیز سبکدوش نہیں

آہ وہ قرب کہ ہے دورئ افزوں کی دلیل

ہائے وہ وصل کے آغوش در آغوش نہیں