Showing posts with label امتیاز انجم. Show all posts
Showing posts with label امتیاز انجم. Show all posts

Wednesday, 9 March 2022

کٹیا جو اک فقیر کی کم تر دکھائی دے

 کٹیا جو اک فقیر کی کم تر دکھائی دے

دیکھو تو قصرِ شاہی سے بڑھ کر دکھائی دے

اس بدنصیب سا بھی کوئی بد نصیب ہے

جس کو زمینِ عشق بھی بنجر دکھائی دے

جس کی تلاش ہو وہ دِکھائی نہ دے کہیں

جس کو نہ دیکھنا ہو وہ اکثر دکھائی دے

Sunday, 16 January 2022

یقیں خدا کا دلاتے گواہ کی تصویر

 یقیں خدا کا دلاتے گواہ کی تصویر

مِری نگاہ میں ہے اک نگاہ کی تصویر

یہ آنکھ مجھ کو ملی ہے کہ میں بناتا رہوں

سُنہری، سبز، سفید و سیاہ کی تصویر

تمام رات یہ سوچوں کہ کس کو دیکھنا ہے

رخِ حبیب یا پھر مہر و ماہ کی تصویر

Friday, 24 December 2021

لرزتا رہتا ہوں کر دے نہ پاش پاش مجھے

 لرزتا رہتا ہوں کر دے نہ پاش پاش مجھے

تراشتا ہے عجب طور بُت تراش مجھے

کہیں تلاش کا حاصل تِرا بدن ہی نہ ہو

نئے جزیرۂ دنیا کی ہے تلاش مجھے

کسی کے حسن نے بخشی ہے مجھ کو بینائی

کسی کے لمس نے بخشا ہے ارتعاش مجھے

Thursday, 23 December 2021

زباں بدلنے لگے یا بیاں بدلنے لگے

 زباں بدلنے لگے،۔ یا بیاں بدلنے لگے

بدلنے والے کو ٹوکو، جہاں بدلنے لگے

سنبھال سکتے نہیں گھر، جہاں سنبھالتے ہیں

زمیں بدل نہیں پائے،۔ زماں بدلنے لگے

میں دیکھتا رہا، دنیا سیاہ ہوتی گئی

میں دیکھتا رہا آتش رُخاں بدلنے لگے

Tuesday, 30 November 2021

کوفیوں میں عشق کا چرچا کیا

 کُوفیوں میں عشق کا چرچا کِیا

اے خدا! تُو ہی بتا کیسا کِیا؟

جب محبت کی ضرورت تھی مجھے

"آپ نے غیروں کا دل ٹھنڈا کِیا"

زندگی ہم نے گزاری ہی کہاں

آپ کا کہنا کِیا، جتنا کِیا