کٹیا جو اک فقیر کی کم تر دکھائی دے
دیکھو تو قصرِ شاہی سے بڑھ کر دکھائی دے
اس بدنصیب سا بھی کوئی بد نصیب ہے
جس کو زمینِ عشق بھی بنجر دکھائی دے
جس کی تلاش ہو وہ دِکھائی نہ دے کہیں
جس کو نہ دیکھنا ہو وہ اکثر دکھائی دے
کٹیا جو اک فقیر کی کم تر دکھائی دے
دیکھو تو قصرِ شاہی سے بڑھ کر دکھائی دے
اس بدنصیب سا بھی کوئی بد نصیب ہے
جس کو زمینِ عشق بھی بنجر دکھائی دے
جس کی تلاش ہو وہ دِکھائی نہ دے کہیں
جس کو نہ دیکھنا ہو وہ اکثر دکھائی دے
یقیں خدا کا دلاتے گواہ کی تصویر
مِری نگاہ میں ہے اک نگاہ کی تصویر
یہ آنکھ مجھ کو ملی ہے کہ میں بناتا رہوں
سُنہری، سبز، سفید و سیاہ کی تصویر
تمام رات یہ سوچوں کہ کس کو دیکھنا ہے
رخِ حبیب یا پھر مہر و ماہ کی تصویر
لرزتا رہتا ہوں کر دے نہ پاش پاش مجھے
تراشتا ہے عجب طور بُت تراش مجھے
کہیں تلاش کا حاصل تِرا بدن ہی نہ ہو
نئے جزیرۂ دنیا کی ہے تلاش مجھے
کسی کے حسن نے بخشی ہے مجھ کو بینائی
کسی کے لمس نے بخشا ہے ارتعاش مجھے
زباں بدلنے لگے،۔ یا بیاں بدلنے لگے
بدلنے والے کو ٹوکو، جہاں بدلنے لگے
سنبھال سکتے نہیں گھر، جہاں سنبھالتے ہیں
زمیں بدل نہیں پائے،۔ زماں بدلنے لگے
میں دیکھتا رہا، دنیا سیاہ ہوتی گئی
میں دیکھتا رہا آتش رُخاں بدلنے لگے
کُوفیوں میں عشق کا چرچا کِیا
اے خدا! تُو ہی بتا کیسا کِیا؟
جب محبت کی ضرورت تھی مجھے
"آپ نے غیروں کا دل ٹھنڈا کِیا"
زندگی ہم نے گزاری ہی کہاں
آپ کا کہنا کِیا، جتنا کِیا