دل کا سکون ڈھونڈنے جائے بشر کہاں
ایسا نگر ہے کون سا ایسا ہے در کہاں
تم نے تو کہہ دیا کہ چلے جاؤ بزم سے
یہ تو بتا دو ہم کو کہ جائیں کدھر کہاں
اس کی گلی کو چھوڑ کے آ تو گئے مگر
اب سوچتے ہیں گزریں گے شام و سحر کہاں
دل کا سکون ڈھونڈنے جائے بشر کہاں
ایسا نگر ہے کون سا ایسا ہے در کہاں
تم نے تو کہہ دیا کہ چلے جاؤ بزم سے
یہ تو بتا دو ہم کو کہ جائیں کدھر کہاں
اس کی گلی کو چھوڑ کے آ تو گئے مگر
اب سوچتے ہیں گزریں گے شام و سحر کہاں
گئے وقت پر نہ ہو تبصرہ، جو گزر گیا، وہ گزر گیا
وہ بھی شاد ہے مجھے بُھول کر میں بھی وقت رہتے سنور گیا
اسے دل سے کیسے نکالوں میں جو ہے آ کے دل میں ٹھہر گیا
اسے بُھولنے کے خیال سے کوئی ڈر سا دل میں اُتر گیا
وہ نگاہ مجھ سے بدل گیا جسے میں نے دل میں بسایا تھا
مِرے دل کو جس کا یقین تھا وہ ہی وعدہ کر کے مُکر گیا
محبت کے فسانے سے نہ میں واقف نہ تُو واقف
ستم گر اس زمانے سے نہ میں واقف نہ تو واقف
بتا پھر کیسے ہو گی ختم؟ یہ نفرت کی تاریکی
نئے سورج اُگانے سے نہ میں واقف نہ تو واقف
لگے کیسے پتا؟؟ ہے کون اپنا، کون بے گانہ
کسی کو آزمانے سے نہ میں واقف نہ تو واقف
مجھ سے تو اب یہ نظارہ نہیں دیکھا جاتا
کوئی اُترا ہُوا چہرہ نہیں دیکھا جاتا
ان کی آنکھوں کے رُلا دیتے ہیں آنسو مجھ کو
ظُلم انسان پہ ہوتا نہیں دیکھا جاتا
پُھول افسُردہ ہیں اور سہمی ہوئی کلیاں ہیں
ایسا عالم تو چمن کا نہیں دیکھا جاتا