Showing posts with label جاوید قمر. Show all posts
Showing posts with label جاوید قمر. Show all posts

Sunday, 11 February 2024

دل کا سکون ڈھونڈنے جائے بشر کہاں

 دل کا سکون ڈھونڈنے جائے بشر کہاں

ایسا نگر ہے کون سا ایسا ہے در کہاں

تم نے تو کہہ دیا کہ چلے جاؤ بزم سے

یہ تو بتا دو ہم کو کہ جائیں کدھر کہاں

اس کی گلی کو چھوڑ کے آ تو گئے مگر

اب سوچتے ہیں گزریں گے شام و سحر کہاں

Monday, 17 October 2022

گئے وقت پر نہ ہو تبصرہ جو گزر گیا وہ گزر گیا

گئے وقت پر نہ ہو تبصرہ، جو گزر گیا، وہ گزر گیا

وہ بھی شاد ہے مجھے بُھول کر میں بھی وقت رہتے سنور گیا

اسے دل سے کیسے نکالوں میں جو ہے آ کے دل میں ٹھہر گیا

اسے بُھولنے کے خیال سے کوئی ڈر سا دل میں اُتر گیا

وہ نگاہ مجھ سے بدل گیا جسے میں نے دل میں بسایا تھا

مِرے دل کو جس کا یقین تھا وہ ہی وعدہ کر کے مُکر گیا

Saturday, 19 February 2022

محبت کے فسانے سے نہ میں واقف نہ تو واقف

 محبت کے فسانے سے نہ میں واقف نہ تُو واقف

ستم گر اس زمانے سے نہ میں واقف نہ تو واقف

بتا پھر کیسے ہو گی ختم؟ یہ نفرت کی تاریکی

نئے سورج اُگانے سے نہ میں واقف نہ تو واقف

لگے کیسے پتا؟؟ ہے کون اپنا، کون بے گانہ

کسی کو آزمانے سے نہ میں واقف نہ تو واقف

Sunday, 3 January 2021

مجھ سے تو اب یہ نظارا نہیں دیکھا جاتا

مجھ سے تو اب یہ نظارہ نہیں دیکھا جاتا

کوئی اُترا ہُوا چہرہ نہیں دیکھا جاتا

ان کی آنکھوں کے رُلا دیتے ہیں آنسو مجھ کو

ظُلم انسان پہ ہوتا نہیں دیکھا جاتا

پُھول افسُردہ ہیں اور سہمی ہوئی کلیاں ہیں

ایسا عالم تو چمن کا نہیں دیکھا جاتا