Showing posts with label عقیل شاداب. Show all posts
Showing posts with label عقیل شاداب. Show all posts

Saturday, 30 April 2022

ہوس کا رنگ چڑھا اس پہ اور اتر بھی گیا

 ہوس کا رنگ چڑھا اس پہ اور اتر بھی گیا

وہ خود ہی جمع ہوا اور خود بکھر بھی گیا

تھی زندگی مِری راہوں کے پیچ و خم کی اسیر

مگر میں رات کے ہمراہ اپنے گھر بھی گیا

میں دشمنوں میں بھی گھر کر نڈر رہا لیکن

خود اپنے جذبۂ حیوانیت سے ڈر بھی گیا

Tuesday, 26 April 2022

شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے

 شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے

میں آسماں پہ ہوں مِرا سایہ زمیں پہ ہے

افسانۂ حیات کا ہر ایک سانحہ

تحریر حرف حرف ہماری جبیں پہ ہے

دریا میں جس طرح سے ہو ماہی اسی طرح

میں ہوں جہاں پہ میرا خدا بھی وہیں پہ ہے

Monday, 25 April 2022

برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے

 برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے

ہمارے سر پہ بھی ہونے کو آسمان تو ہے

تِری فراخ دلی کو دعائیں دیتا ہوں

مِرے لبوں پہ تِرے لمس کا نشان تو ہے

یہ اور بات کہ وہ اب یہاں نہیں رہتا

مگر یہ اس کا بسایا ہوا مکان تو ہے

Friday, 15 April 2022

نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے

نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے

مِرا لباس ہی میرے لہو کا پیاسا ہے

بدن کو چھوڑ کے جاؤں تو اب کہاں جاؤں

جنم جنم سے مِرا اس کے ساتھ رشتہ ہے

مِرا وجود مِری اپنی ہی نگاہوں میں

لباس جسم کے ہوتے ہوئے بھی ننگا ہے

Saturday, 9 April 2022

زندگی مجھ کو مری نظروں میں شرمندہ نہ کر

 زندگی مجھ کو مِری نظروں میں شرمندہ نہ کر

مر چکا ہے جو بہت پہلے اسے زندہ نہ کر

حال کا یہ دکھ تِرے ماضی کی تجھ کو دین ہے

آج تک جو کچھ کیا تُو نے وہ آئندہ نہ کر

تُو بھی اس طوفان میں اک ریت کی دیوار ہے

اپنی ہستی بھول کر ہر ایک کی نندہ نہ کر