ہوس کا رنگ چڑھا اس پہ اور اتر بھی گیا
وہ خود ہی جمع ہوا اور خود بکھر بھی گیا
تھی زندگی مِری راہوں کے پیچ و خم کی اسیر
مگر میں رات کے ہمراہ اپنے گھر بھی گیا
میں دشمنوں میں بھی گھر کر نڈر رہا لیکن
خود اپنے جذبۂ حیوانیت سے ڈر بھی گیا
ہوس کا رنگ چڑھا اس پہ اور اتر بھی گیا
وہ خود ہی جمع ہوا اور خود بکھر بھی گیا
تھی زندگی مِری راہوں کے پیچ و خم کی اسیر
مگر میں رات کے ہمراہ اپنے گھر بھی گیا
میں دشمنوں میں بھی گھر کر نڈر رہا لیکن
خود اپنے جذبۂ حیوانیت سے ڈر بھی گیا
شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے
میں آسماں پہ ہوں مِرا سایہ زمیں پہ ہے
افسانۂ حیات کا ہر ایک سانحہ
تحریر حرف حرف ہماری جبیں پہ ہے
دریا میں جس طرح سے ہو ماہی اسی طرح
میں ہوں جہاں پہ میرا خدا بھی وہیں پہ ہے
برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے
ہمارے سر پہ بھی ہونے کو آسمان تو ہے
تِری فراخ دلی کو دعائیں دیتا ہوں
مِرے لبوں پہ تِرے لمس کا نشان تو ہے
یہ اور بات کہ وہ اب یہاں نہیں رہتا
مگر یہ اس کا بسایا ہوا مکان تو ہے
نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے
مِرا لباس ہی میرے لہو کا پیاسا ہے
بدن کو چھوڑ کے جاؤں تو اب کہاں جاؤں
جنم جنم سے مِرا اس کے ساتھ رشتہ ہے
مِرا وجود مِری اپنی ہی نگاہوں میں
لباس جسم کے ہوتے ہوئے بھی ننگا ہے
زندگی مجھ کو مِری نظروں میں شرمندہ نہ کر
مر چکا ہے جو بہت پہلے اسے زندہ نہ کر
حال کا یہ دکھ تِرے ماضی کی تجھ کو دین ہے
آج تک جو کچھ کیا تُو نے وہ آئندہ نہ کر
تُو بھی اس طوفان میں اک ریت کی دیوار ہے
اپنی ہستی بھول کر ہر ایک کی نندہ نہ کر