ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے
بلندیوں پہ پہنچ کر تجھے بلائیں گے
مجھے وہ وقت وہ لمحات یاد آئیں گے
یہ ننھے لان میں جب تتلیاں اڑائیں گے
کیا ہے عہد اکیلے رہیں گے ہم دائم
بھری رہے تِری دنیا میں ہم نہ آئیں گے
ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے
بلندیوں پہ پہنچ کر تجھے بلائیں گے
مجھے وہ وقت وہ لمحات یاد آئیں گے
یہ ننھے لان میں جب تتلیاں اڑائیں گے
کیا ہے عہد اکیلے رہیں گے ہم دائم
بھری رہے تِری دنیا میں ہم نہ آئیں گے
غموں کا چاند ڈوبا، ارغواں سورج نکل آیا
اُجاگر ہو گئیں سب بستیاں، سورج نکل آیا
لگا کر پر تیری یادوں کےان اُجلی فضاؤں میں
اُڑیں کرنوں کی اُجلی تتلیاں، سورج نکل آیا
رہِ شب پر یونہی دو ہمسفر قدموں کی چاپ ابھری
اندھیروں کی گپھا سے بد گماں، سورج نکل آیا
فضا میں ایک رہ بُھولا ہوا سیّار کر دیتی
اگر فطرت مجھے تیرے لیے دُشوار کر دیتی
یہ خوں آلود صدیوں کے سفر خاشاک ہو جاتے
تمہاری بے رُخی اے کاش حس بیدار کر دیتی
بچھڑنا تجھ سے نا ممکن تھا اک پل کے لیے ورنہ
یہ اک موہوم سی دُوری تجھے ہموار کر دیتی
سو چکی جاگتے لمحات کی دنیا بیٹھو
اُٹھ کے تم چل بھی دئیے اور ذرا سا بیٹھو
لوگ گھڑ لیتے ہیں افسانے انہیں باتوں سے
بند کمرے میں سرِ شام نہ تنہا بیٹھو
کس قدر تیز ہوا چلنے لگی ہے باہر
بند کر دو یہ دریچے میرے پاس آ بیٹھو
سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں
پھر میں اسیر ہو گیا پیکر کے جیل میں
اب لوٹ کر بدل گئی رُت پھول کھل گئے
دیوار پر لٹکتی ہوئی زرد بیل میں
کتنے سمے فراق کے دہرا گئے مجھے
کتنی رُتیں بکھر گئیں دو پل کے میل میں
اس سایہ دار پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کے
کیا مل گیا تجھے مِری دنیا اجاڑ کے
اب اور انتظار کر اے کھوکھلے بدن
میں آ رہا ہوں مدِ مقابل پچھاڑ کے
تنہا مجھے بسیط خلا میں اڑا دیا
ہمزاد نے بیاضِ تسلسل سے پھاڑ کے