Showing posts with label مراتب اختر. Show all posts
Showing posts with label مراتب اختر. Show all posts

Thursday, 17 August 2023

ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے

 ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے

بلندیوں پہ پہنچ کر تجھے بلائیں گے

مجھے وہ وقت وہ لمحات یاد آئیں گے

یہ ننھے لان میں جب تتلیاں اڑائیں گے

کیا ہے عہد اکیلے رہیں گے ہم دائم

بھری رہے تِری دنیا میں ہم نہ آئیں گے

Saturday, 2 October 2021

غموں کا چاند ڈوبا ارغواں سورج نکل آیا

 غموں کا چاند ڈوبا، ارغواں سورج نکل آیا

اُجاگر ہو گئیں سب بستیاں، سورج نکل آیا

لگا کر پر تیری یادوں کےان اُجلی فضاؤں میں

اُڑیں کرنوں کی اُجلی تتلیاں، سورج نکل آیا

رہِ شب پر یونہی دو ہمسفر قدموں کی چاپ ابھری

اندھیروں کی گپھا سے بد گماں، سورج نکل آیا

Thursday, 30 September 2021

فضا میں ایک رہ بھولا ہوا سیار کر دیتی

 فضا میں ایک رہ بُھولا ہوا سیّار کر دیتی

اگر فطرت مجھے تیرے لیے دُشوار کر دیتی

یہ خوں آلود صدیوں کے سفر خاشاک ہو جاتے

تمہاری بے رُخی اے کاش حس بیدار کر دیتی

بچھڑنا تجھ سے نا ممکن تھا اک پل کے لیے ورنہ

یہ اک موہوم سی دُوری تجھے ہموار کر دیتی

Tuesday, 28 September 2021

سو چکی جاگتے لمحات کی دنیا بیٹھو

 سو چکی جاگتے لمحات کی دنیا بیٹھو

اُٹھ کے تم چل بھی دئیے اور ذرا سا بیٹھو

لوگ گھڑ لیتے ہیں افسانے انہیں باتوں سے

بند کمرے میں سرِ شام نہ تنہا بیٹھو

کس قدر تیز ہوا چلنے لگی ہے باہر

بند کر دو یہ دریچے میرے پاس آ بیٹھو

Monday, 8 March 2021

سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں

 سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں

پھر میں اسیر ہو گیا پیکر کے جیل میں

اب لوٹ کر بدل گئی رُت پھول کھل گئے

دیوار پر لٹکتی ہوئی زرد بیل میں

کتنے سمے فراق کے دہرا گئے مجھے

کتنی رُتیں بکھر گئیں دو پل کے میل میں

Saturday, 6 March 2021

اس سایہ دار پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کے

 اس سایہ دار پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کے

کیا مل گیا تجھے مِری دنیا اجاڑ کے

اب اور انتظار کر اے کھوکھلے بدن

میں آ رہا ہوں مدِ مقابل پچھاڑ کے

تنہا مجھے بسیط خلا میں اڑا دیا

ہمزاد نے بیاضِ تسلسل سے پھاڑ کے