Showing posts with label فرید جاوید. Show all posts
Showing posts with label فرید جاوید. Show all posts

Friday, 21 August 2020

مے کدے کے سوا ملی ہے کہاں

میکدے کے سوا ملی ہے کہاں
اور دنیا میں روشنی ہے کہاں
آرزوؤں کا اک ہجوم سہی
فرصتِ شوق کھو گئی ہے کہاں
جتنے وارفتۂ سفر ہیں ہم
اتنی راہوں میں دلکشی ہے کہاں

ساز دے کے تاروں کو چھیڑ تو دیا تم نے

ساز دے کے تاروں کو چھیڑ تو دیا تم نے
ساز دل کے تاروں کی بات بھی سنی ہوتی
ہم جو شعلۂ جاں کی لو نہ تیز کر دیتے
آج غم کی راہوں میں کتنی تیرگی ہوتی
ان سے چھیڑ دیتے ہم رنگ و نور کی باتیں
داستانِ شوق اپنی خود ہی چھڑ گئی ہوتی

جب بھی شمع طرب جلائی ہے

جب بھی شمعِ طرب جلائی ہے
آنچ محرومیوں کی آئی ہے
راستے اتنے بیکراں تو نہ تھے
جستجو کتنی دور لائی ہے
زحمت جستجو سے کیا ہو گا
بوئے گل کس کے ہاتھ آئی ہے

نہ بت کدے میں نہ کعبے میں سر جھکانے سے

نہ بتکدے میں نہ کعبے میں سر جھکانے سے
سکوں ملا ہے تِری انجمن میں آنے سے
مِرے جنوں کو محبت سے دیکھنے والے
ذرا نگاہ بچائے ہوئے زمانے سے
میں مسکرا تو دیا ان کی بے نیازی پر
یہ کیا کہ دل پہ لگی چوٹ مسکرانے سے

Thursday, 17 December 2015

غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج

غبار دل پہ بہت آ گیا ہے، دھو لیں آج
کھلی فضا میں کہیں دور جا کے رو لیں آج
دیارِ غیر میں اب دور تک ہے تنہائی
یہ اجنبی در و دیوار کچھ تو بولیں آج لیں آج
تمام عمر کی بیداریاں بھی سہہ لیں گے
ملی ہے چھاؤں تو بس ایک نیند سو لیں آج 

غم منزل نہ رہا ہو جیسے

غمِ منزل نہ رہا ہو جیسے
قافلہ ٹھہر گیا ہو جیسے
اس طرح بھولتے جاتے ہیں تجھے
سلسلہ ٹوٹ گیا ہو جیسے
دل سے آواز تو آتی ہے، مگر
کوئی درماندہ صدا ہو جیسے

تم ہو شاعر مری جان جیتے رہو

تم ہو شاعر مِری جان جیتے رہو 
شعر کہتے رہو، زہر پیتے رہو
سینۂ چاک ہی مشعلِ نور ہے
سینہ چاکو! اسی طرح جیتے رہو
رات جاگی ہوئی ہے، ہوا مہرباں
پھر یہ لمحے کہاں، آج پیتے رہو

تلخ گزرے کہ شادماں گزرے

تلخ گزرے کہ شادماں گزرے 
زندگی ہو تو کیوں گراں گزرے 
تھا جہاں مدتوں سے سناٹا 
ہم وہاں سے بھی نغمہ خواں گزرے 
مرحلے سخت تھے مگر ہم لوگ 
صورتِ موجۂ رواں گزرے 

Thursday, 22 October 2015

ہمارے سامنے بے گانہ وار آؤ نہیں

ہمارے سامنے بیگانہ وار آؤ نہیں
نیازِ اہلِ محبت کو آزماؤ نہیں
ہمیں بھی اپنی تباہی پہ رنج ہوتا ہے
ہمارے حالِ پریشاں پر مسکراؤ نہیں
جو تار ٹوٹ گئے ہیں وہ چِھڑ نہیں سکتے
کرم کی آس نہ دو، بات کو بڑھاؤ نہیں

نا شگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا

نا شگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا
بار سہہ نہیں سکتیں دیر تک تلاطم کا
جانے کتنی فریادیں ڈھل رہی ہیں نغموں میں
چھِڑ رہی ہے دُکھ کی بات نام ہے ترنم کا
کتنے بے کراں دریا پار کر لیے ہم نے
موج موج میں جن کی زور تھا تلاطم کا