نہ بتکدے میں نہ کعبے میں سر جھکانے سے
سکوں ملا ہے تِری انجمن میں آنے سے
مِرے جنوں کو محبت سے دیکھنے والے
ذرا نگاہ بچائے ہوئے زمانے سے
میں مسکرا تو دیا ان کی بے نیازی پر
خوشا کہ عہد قفس میں بھی زندگی کے لیے
نگاہ کھیلتی رہتی ہے آشیانے سے
اداس دل کو سہارا نہ مل سکا جاوید
اندھیری شب میں ستاروں کے جھلملانے سے
فرید جاوید
No comments:
Post a Comment