حضرتِ دل کا تِرے نام سے اٹھنا گرنا
وہی پہلے کی طرح شام سے اٹھنا گرنا
پھر چلے جائیں گے وہ پھر وہی فرقت ہو گی
کس لیے وصل کے ہنگام سے اٹھنا گرنا
کس کو فرصت ہے یہاں کون اذیت دے گا
وہ تو بس وحشت آلام سے اٹھنا گرنا
حضرتِ دل کا تِرے نام سے اٹھنا گرنا
وہی پہلے کی طرح شام سے اٹھنا گرنا
پھر چلے جائیں گے وہ پھر وہی فرقت ہو گی
کس لیے وصل کے ہنگام سے اٹھنا گرنا
کس کو فرصت ہے یہاں کون اذیت دے گا
وہ تو بس وحشت آلام سے اٹھنا گرنا
اب اس کے سوا اور نہ کچھ کام کریں گے
جب عشق نہ کر پائیں گے آرام کریں گے
ہم بزم سے اٹھ کر تِری یہ سوچ رہے ہیں
دن کیسے گزاریں گے کہاں شام کریں گے
دل کر دیا ان ماہ جبینوں کے حوالے
اب جاں بھی انہی لوگوں کو انعام کریں گے
جام و مینا سے ملاقات رکھی ہی کب تھی
ساقیا! تُو نے مِری بات رکھی ہی کب تھی
جام جم ہو کہ ہو مٹی کا پیالہ کوئی
تیری آنکھوں سی کرامات رکھی ہی کب تھی
چاند بھی محو تماشا تھا ستارے بھی گواہ
ہم نے پوشیدہ ملاقات رکھی ہی کب تھی
اس کی قربت ہی اگر راس نہ آتی مجھ کو
پھر وہ ضد کرتی کہیں ہاتھ لگاتی مجھ کو
اچھا چھوڑو مجھے کچھ یاد نہ تھا اس کے سوا
اس کو سب یاد تھا وہ یاد دلاتی مجھ کو
وہ تو میں ہوں کہ مجھے رونے کی عادت کم ہے
ورنہ دنیا تو ابھی اور رلاتی مجھ کو