Showing posts with label مختار انصاری. Show all posts
Showing posts with label مختار انصاری. Show all posts

Sunday, 18 January 2026

حضرت دل کا ترے نام سے اٹھنا گرنا

 حضرتِ دل کا تِرے نام سے اٹھنا گرنا

وہی پہلے کی طرح شام سے اٹھنا گرنا

پھر چلے جائیں گے وہ پھر وہی فرقت ہو گی

کس لیے وصل کے ہنگام سے اٹھنا گرنا

کس کو فرصت ہے یہاں کون اذیت دے گا

وہ تو بس وحشت آلام سے اٹھنا گرنا

Friday, 18 April 2025

اب اس کے سوا اور نہ کچھ کام کریں گے

 اب اس کے سوا اور نہ کچھ کام کریں گے

جب عشق نہ کر پائیں گے آرام کریں گے

ہم بزم سے اٹھ کر تِری یہ سوچ رہے ہیں

دن کیسے گزاریں گے کہاں شام کریں گے

دل کر دیا ان ماہ جبینوں کے حوالے

اب جاں بھی انہی لوگوں کو انعام کریں گے

Tuesday, 11 May 2021

جام و مینا سے ملاقات رکھی ہی کب تھی

جام و مینا سے ملاقات رکھی ہی کب تھی

ساقیا! تُو نے مِری بات رکھی ہی کب تھی

جام جم ہو کہ ہو مٹی کا پیالہ کوئی

تیری آنکھوں سی کرامات رکھی ہی کب تھی

چاند بھی محو تماشا تھا ستارے بھی گواہ

ہم نے پوشیدہ ملاقات رکھی ہی کب تھی

Sunday, 9 May 2021

اس کی قربت ہی اگر راس نہ آتی مجھ کو

اس کی قربت ہی اگر راس نہ آتی مجھ کو

پھر وہ ضد کرتی کہیں ہاتھ لگاتی مجھ کو

اچھا چھوڑو مجھے کچھ یاد نہ تھا اس کے سوا

اس کو سب یاد تھا وہ یاد دلاتی مجھ کو

وہ تو میں ہوں کہ مجھے رونے کی عادت کم ہے

ورنہ دنیا تو ابھی اور رلاتی مجھ کو