Tuesday, 11 May 2021

جام و مینا سے ملاقات رکھی ہی کب تھی

جام و مینا سے ملاقات رکھی ہی کب تھی

ساقیا! تُو نے مِری بات رکھی ہی کب تھی

جام جم ہو کہ ہو مٹی کا پیالہ کوئی

تیری آنکھوں سی کرامات رکھی ہی کب تھی

چاند بھی محو تماشا تھا ستارے بھی گواہ

ہم نے پوشیدہ ملاقات رکھی ہی کب تھی

ہم ہی جلتے رہے اس سوزش غم میں تنہا

سامنے تیرے یہ سوغات رکھی ہی کب تھی

جیتنے کی ہی تمنا تھی تو لشکر لاتے

اک پیادے میں مِری مات رکھی ہی کب تھی


مختار انصاری

No comments:

Post a Comment