تیور بھی دیکھ لیجیے پہلے گھٹاؤں کے
پھر بادبان کھولیے رخ پر ہواؤں کے
تم ساتھ ہو تو دھوپ بھی مجھ کو قبول ہے
تم دور ہو تو پاس بھی جاؤں نہ چھاؤں کے
خود ہی چراغ وعدہ بجھا دے جو ہو سکے
یہ حوصلے بھی دیکھ لے میری وفاؤں کے
تیور بھی دیکھ لیجیے پہلے گھٹاؤں کے
پھر بادبان کھولیے رخ پر ہواؤں کے
تم ساتھ ہو تو دھوپ بھی مجھ کو قبول ہے
تم دور ہو تو پاس بھی جاؤں نہ چھاؤں کے
خود ہی چراغ وعدہ بجھا دے جو ہو سکے
یہ حوصلے بھی دیکھ لے میری وفاؤں کے
اپنی نفرت کو جو زنجیر نہیں کر سکتے
وہ کبھی خواب کو تعبیر نہیں کر سکتے
فیصلے وقت ہی تحریرکیا کرتا ہے
آپ چاہیں بھی تو تحریر نہیں کر سکتے
بس یہی بات بنی اپنی تباہی کا سبب
اپنے جذبات کو تصویر نہیں کر سکتے
پھر سرِ دارِ وفا رسم یہ ڈالی جائے
گُل ہو اک شمع تو اک اور جلا لی جائے
دُور کرنی ہو جو تاریکیٔ راہِ اخلاص
مشعلِ اشکِ ندامت ہی جلا لی جائے
آئینہ میں نے سر راہگزر رکھا ہے
تا کہ احباب کی کچھ خام خیالی جائے
دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے
ان کے اذہان پہ افکار پہ جالے نکلے
میں یہ سمجھا کہ کوئی نرم زمیں آ پہونچی
غور سے دیکھا تو وہ پاؤں کے چھالے نکلے
زخم کھا کر یہ تھی خوش فہمی کہ مر جائیں گے
دوستو! ہم تو بڑے حوصلے والے نکلے