Showing posts with label ظہورالاسلام جاوید. Show all posts
Showing posts with label ظہورالاسلام جاوید. Show all posts

Wednesday, 7 May 2025

تیور بھی دیکھ لیجیے پہلے گھٹاؤں کے

 تیور بھی دیکھ لیجیے پہلے گھٹاؤں کے

پھر بادبان کھولیے رخ پر ہواؤں کے

تم ساتھ ہو تو دھوپ بھی مجھ کو قبول ہے

تم دور ہو تو پاس بھی جاؤں نہ چھاؤں کے

خود ہی چراغ وعدہ بجھا دے جو ہو سکے

یہ حوصلے بھی دیکھ لے میری وفاؤں کے

Monday, 28 April 2025

اپنی نفرت کو جو زنجیر نہیں کر سکتے

 اپنی نفرت کو جو زنجیر نہیں کر سکتے

وہ کبھی خواب کو تعبیر نہیں کر سکتے​

فیصلے وقت ہی تحریرکیا کرتا ہے

آپ چاہیں بھی تو تحریر نہیں کر سکتے​

بس یہی بات بنی اپنی تباہی کا سبب

اپنے جذبات کو تصویر نہیں کر سکتے

Tuesday, 13 July 2021

پھر سر دار وفا رسم یہ ڈالی جائے

پھر سرِ دارِ وفا رسم یہ ڈالی جائے

گُل ہو اک شمع تو اک اور جلا لی جائے

دُور کرنی ہو جو تاریکیٔ راہِ اخلاص

مشعلِ اشکِ ندامت ہی جلا لی جائے

آئینہ میں نے سر راہگزر رکھا ہے

تا کہ احباب کی کچھ خام خیالی جائے

Wednesday, 7 July 2021

دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے

دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے

ان کے اذہان پہ افکار پہ جالے نکلے

میں یہ سمجھا کہ کوئی نرم زمیں آ پہونچی

غور سے دیکھا تو وہ پاؤں کے چھالے نکلے

زخم کھا کر یہ تھی خوش فہمی کہ مر جائیں گے

دوستو! ہم تو بڑے حوصلے والے نکلے