ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی
نہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی
ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھا
تو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی
نبھا کا وعدہ کہتے بھول جائیں
جوانی میں حماقت ہو گئی تھی
ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی
نہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی
ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھا
تو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی
نبھا کا وعدہ کہتے بھول جائیں
جوانی میں حماقت ہو گئی تھی
جب سے ہم مسکرانا بھول گئے
تب سے لکھتے ہیں کہنا بھول گئے
ایک ہم ہی نہ جی سکے، ورنہ
جینے والے تو مرنا بھول گئے
کیا کہا ہم سے ملنے آئے ہیں
لگتا وعدے سے پھرنا بھول گئے
پھر محبت سے دل کو پکارا گیا
کرتا بھی اور کیا، دل بیچارہ گیا
بے سبب تو نہیں نکلے آنسو مِرے
نام میرا کہیں تو پکارا گیا
ہجر میں آسرا غم کا ہوتا ہے نا
ظلم دیکھو مِرا وہ سہارا گیا
زخم ہیں کچھ جو فقط تم کو دکھانے والے
پر تِرے پاس بھی مرہم ہیں زمانے والے
میں تِرے صدقے مِرے دل کو دُکھانے والے
عیش کے دن تھے یہی جشن منانے والے
نیکی نے تیری اذیت ہی بڑھا دی میری
بد دعا تجھ کو مِری جان بچانے والے
خود سے ہی مذاق کر گیا میں
کل رات کو اپنے گھر گیا میں
کس زندگی کا حساب دوں گا
جس زندگی سے مُکر گیا میں
ہر بزم کی جان تھا، مگر آج
سائے سے ہی اپنے ڈر گیا میں