Showing posts with label زبیر قلزم. Show all posts
Showing posts with label زبیر قلزم. Show all posts

Thursday, 28 September 2023

ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی

 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی

نہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی

ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھا

تو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی

نبھا کا وعدہ کہتے بھول جائیں

جوانی میں حماقت ہو گئی تھی

Friday, 26 May 2023

جب سے ہم مسکرانا بھول گئے

 جب سے ہم مسکرانا بھول گئے

تب سے لکھتے ہیں کہنا بھول گئے

ایک ہم ہی نہ جی سکے، ورنہ

جینے والے تو مرنا بھول گئے

کیا کہا ہم سے ملنے آئے ہیں

لگتا وعدے سے پھرنا بھول گئے

Saturday, 6 May 2023

پھر محبت سے دل کو پکارا گیا

 پھر محبت سے دل کو پکارا گیا

کرتا بھی اور کیا، دل بیچارہ گیا

بے سبب تو نہیں نکلے آنسو مِرے

نام میرا کہیں تو پکارا گیا

ہجر میں آسرا غم کا ہوتا ہے نا

ظلم دیکھو مِرا وہ سہارا گیا

Thursday, 4 May 2023

زخم ہیں کچھ جو فقط تم کو دکھانے والے

 زخم ہیں کچھ جو فقط تم کو دکھانے والے

پر تِرے پاس بھی مرہم ہیں زمانے والے

میں تِرے صدقے مِرے دل کو دُکھانے والے

عیش کے دن تھے یہی جشن منانے والے

نیکی نے تیری اذیت ہی بڑھا دی میری

بد دعا تجھ کو مِری جان بچانے والے

Sunday, 23 May 2021

خود سے ہی مذاق کر گیا میں

خود سے ہی مذاق کر گیا میں

کل رات کو اپنے گھر گیا میں

کس زندگی کا حساب دوں گا

جس زندگی سے مُکر گیا میں

ہر بزم کی جان تھا، مگر آج

سائے سے ہی اپنے ڈر گیا میں