Showing posts with label رفیع سودا. Show all posts
Showing posts with label رفیع سودا. Show all posts

Sunday, 23 July 2023

حسین تجھ کو یہ عرش بریں کرے ہے سلام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


حسینؑ تجھ کو یہ عرشِ بریں کرے ہے سلام

وہاں سے آن کے روح الامیںؑ کرے ہے سلام

فقط نہ گردوں ہی تسلیم میں ہے تیرے خم

تجھے تو عیسیٰؑ گردوں نشیں کرے ہے سلام

وحوش خاک پہ جتنے ہیں اور ہوا میں طیور

جہاں ہے جو کوئی تجھ کو وہیں کرے ہے سلام

Friday, 22 April 2022

اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی چلے گئے

اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی چلے گئے

پھر پھر گُل آ چکے پہ سجن تم بھلے گئے

پوچھے ہے پھول و پھل کی خبر اب تُو عندلیب

ٹوٹے، جھڑے، خزاں ہوئی، پھولے پھلے، گئے

دل خواہ کب کسی کو زمانے نے کچھ دیا

جن کو دیا کچھ اس میں سے وے کچھ نہ لے گئے

Saturday, 26 March 2022

محتسب آیا بزم میں ساقی لے آ شراب کو

محتسب آیا بزم میں، ساقی لے آ شراب کو

یہ نہ سمجھ کہ شب پرک دیکھے گی آفتاب کو

آنکھوں کا میری ان دنوں، یارو ہے طرفہ ماجرا

میں تو روؤں ہوں ان کے تئیں ہنستی ہیں یہ سحاب کو

دم ہی رہا یہ پیرہن، تن تو ہو اشک بہہ گیا

جن نے نہ دیکھا ہو مجھے، دیکھے وہ جا حباب کو

Tuesday, 10 January 2017

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
آیا تھا کیوں عدم سے کیا کر چلا جہاں میں
یہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں
کیوں کر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارا
اس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں

نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے

نسیم ہے تِرے کوچے میں اور صبا بھی ہے
ہماری خاک سے ٹک دیکھ کچھ رہا بھی ہے
تِرا غرور، مِرا عجز، تا کجا ظالم
ہر ایک بات کی آخر انتہا بھی ہے
جلے ہے شمع سے پروانہ اور میں تجھ سے
کہیں ہے مہر بھی جگ میں کہیں وفا بھی ہے

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

جی مِرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
ہاتھ سے دل کے تِرے اب میں نکل جاؤں گا
لطف اے اشک کہ جوں شمع گھُلا جاتا ہوں
رحم اے آہِ شرر بار! کہ جل جاؤں گا
چین دینے کا نہیں زیرِ زمیں بھی نالہ
سوتوں کی نیند میں کرنے کو خلل جاؤں گا

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا
پردے کو تعین کے درِ دل سے اٹھا دے
کھلتا ہے ابھی پل میں طلسماتِ جہاں کا
ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ
جوں شمعِ حرم رنگ جھمکتا ہے بتاں کا

Wednesday, 19 October 2016

بہار بے سپر جام یار گزرے ہے

بہار بے سپر جامِ یار گزرے ہے
نسیم تیر سی چھاتی کے پار گزرے ہے
شراب حلق سے ہوتی نہیں فرو تجھ بِن
گلوۓ خشک سے تیغِ آبدار گزرے ہے
گزر مِرا تِرے کوچے میں گو نہیں تو نہ ہو
مِرے خیال میں تُو لاکھ بار گزرے ہے

گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں

گدا دستِ اہلِ کرم دیکھتے ہیں 
ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں 
نہ دیکھا جو کچھ جام میں جَم نے اپنے 
سو اک قطرۂ مۓ میں ہم دیکھتے ہیں 
یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری 
تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں 

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف
جوں صید وقتِ ذبح کے صیاد کی طرف
نے دانہ ہم قیاس کی نے لحاظِ دام
دھس گئے قفس میں دکھ کے صیاد کی طرف
غیروں کی بات پر نہ کہوں کان مت رکھو
لیکن کبھو تو میری بھی فریاد کی طرف

Thursday, 15 September 2016

ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے

ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے
یہ نین وہ ہیں جن سے کہ جنگل ہرے ہوئے
اے دل یہ کس سے بگڑی کہ آتی ہے فوجِ اشک
لختِ جگر کی نعش کو آگے دھرے ہوئے 
پلکیں تِری کہاں نہ صف آرا ہوئیں کہ واں
افواجِ قاہرہ کے نہ برہم پرے ہوئے

کس کے ہیں زیر زمیں دیدۂ نم ناک ہنوز

کس کے ہیں زیرِ زمیں دیدۂ نمناک ہنوز
جا بہ جا سوت ہیں پانی کے تہِ خاک ہنوز
ایک دن گھیر میں دامن کا تِرے دیکھا تھا
گِرد پھِرتے ہیں گریباں کے مِرے چاک ہنوز 
جستجو کر کے تجھ آفت کو بہم پہنچایا
باز آتے نہیں گردش سے یہ افلاک ہنوز

گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا

گِلہ لکھوں میں اگر تیری بیوفائی کا
لہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا
زباں ہے شکر میں قاصر شکستہ بالی کے
کہ جن نے دل سے مٹایا خلش رہائی کا 
مِرے سجود کی دَیر و حرم سے گزری قدر
رکھوں ہوں دعویٰ تِرے در پہ جبہ سائی کا

اجل نے عہد میں تیرے ہی تقدیر سے یہ پیغام کیا

اجل نے عہد میں تیرے ہی تقدیر سے یہ پیغام کیا
ناز و کرشمہ دے کر اس کو مجھ کو کیوں بدنام کیا
چمن میں آتے سن کر تجھ کو بادِ سحر یہ گھبرائی
ساغر جب تک لاویں ہی لاویں توڑ سبو کو جام کیا
ناگن کا اس زلف کی مجھ سے رنگ نہ پوچھو، کیا حاصل
خواہ تھی کالی، خواہ وہ پیلی، بِس نے اپنا کام کیا

Sunday, 12 June 2016

بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے

بدلا تِرے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے
اپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے
قاتل ہماری نعش کو تشہیر ہے ضرور
آئندہ تا کوئی نہ کسی سے وفا کرے
اتنا لکھائیو مرے لوحِ مزار پر
یاں تک نہ ذی حیات کو کوئی خفا کرے

گر کیجیے انصاف تو کی زور وفا میں

گر کیجیے انصاف تو کی زور وفا میں
خط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میں
تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کی
لیکن ٹک اِدھر دیکھیو اے یار! بھلا میں
رکھتا ہے برہمن بچہ کچھ ایسی وہ رفتار
بت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بخدا میں

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
لذّت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا
تصویر مِری تجھ بِن مانی نے جو کھینچی تھی
انداز سمجھ اس کا بہزاد بہت رویا
نالے نے تِرے بلبل نم چشم نہ کی گُل کی
فریاد مِری سن کر صیّاد بہت رویا

Wednesday, 3 February 2016

جو چلن چلتے ہو تم کیا اس سے حاصل ہوئے گا

 جو چلن چلتے ہو تم کیا اس سے حاصل ہوئے گا

خوں سے بہتوں کے غبار اس راہ کا گُل ہوئے گا

کیوں نہ کہتے تھے دِلا! شیریں لبوں کے منہ نہ لگ

ایک دن تجھ کو یہ شربت زہرِ قاتل ہوئے گا

چاک پر تیرے جو اب پھرتا ہے کوزہ اے کلال

یہ کبھو ہم سے کسی سرگشتہ کا دل ہوئے گا

Saturday, 26 December 2015

بس ہو تو رکھوں آنکھوں میں اس آفت جاں کو

بس ہو تو رکھوں آنکھوں میں اس آفتِ جاں کو 
اور دیکھنے دوں میں نہ زمیں کو، نہ زماں کو   
جب عزم کروں گھر سے کُوئے دوست کا یارو 
” دشمن ہے مِرا وہ جو کہے یہ کہ “کہاں کو  
موجب مِری رنجش کا جو پوچھے ہے تو یہ جان 
موندوں گا نہ پھر کھول کے جوں غنچہ دہاں کو

سخن عشق نہ گوش دل بیتاب میں ڈال

سخنِ عشق نہ گوشِ دلِ بے تاب میں ڈال 
مت یہ آتش کدہ اس قطرۂ سیماب میں ڈال   
گھر کا گھر بیچ، ٹکے خرچ مئے ناب میں ڈال 
زاہد! ‌اسبابِ جہاں کچھ نہیں، دے آب میں ڈال   
ابھی جھپکی ہے ٹک، اے شورِ قیامت! یہ پلک 
صبح کا وقت ہے ظالم، نہ خلل خواب میں ڈال