گھر مِرا تھا، نہ وہاں کوئی گلی میری تھی
اس جگہ صرف غریب الوطنی میری تھی
یونہی کرتا تھا میں لوگوں سے گِلہ دوری کا
مجھ میں اوروں سے زیادہ تو کمی میری تھی
جتنے چہرے مجھے یاد آئے، اسی کے آئے
وہ جو اک شکل مجھے بھول گئی، میری تھی
گھر مِرا تھا، نہ وہاں کوئی گلی میری تھی
اس جگہ صرف غریب الوطنی میری تھی
یونہی کرتا تھا میں لوگوں سے گِلہ دوری کا
مجھ میں اوروں سے زیادہ تو کمی میری تھی
جتنے چہرے مجھے یاد آئے، اسی کے آئے
وہ جو اک شکل مجھے بھول گئی، میری تھی
کہانی اس لیے آگے نہ بڑھ سکی میری
میں زندگی کا مخالف تھا، زندگی میری
جڑا ہوا ہے مِرا وقت تیرے وقت کے ساتھ
بندھی ہوئی ہے تِرے ہاتھ پر گھڑی میری
نظر پڑی کسی تصویر پر تو یاد آیا
بہت عزیز تھی اک شخص کو ہنسی میری
اک اجنبی کی طرح ہے یہ زندگی مِرے ساتھ
جو وقت کاٹ رہی ہے ہنسی خوشی مرے ساتھ
سنا رہا ہوں کسی اور کو کتھا اپنی
کھڑا ہوا ہے کوئی اور آدمی مرے ساتھ
سفر میں پیڑ کا سایا نہیں ملے گا مجھے
بس اتنا سنتے ہی دیوار چل پڑی مرے ساتھ
گلے لگائے مجھے، میرا رازداں ہو جائے
کسی طرح یہ شجر مجھ پہ مہرباں ہو جائے
ستارے جھاڑ کے بالوں سے اب یہ کہتا ہوں
کوئی زمین پہ رہ کر نہ آسماں ہو جائے
اسی لیے تو اداسی سے گفتگو نہیں کی
کہیں وہ بات نہ باتوں کے درمیاں ہو جائے
کسی پرانی حویلی سے اک دِیا نِکلا
یہ کون میری محبت میں مبتلا نکلا
رفاقتوں کے زمان و مکاں سمجھتے ہوئے
میں ایک روز تمہاری گلی میں جا نکلا
جڑے ہوئے ہیں ابھی بھی مکالمے سے یہ لوگ
تمہارا شہر تو تہذیب یافتہ نکلا
آخری بار زمانے کو دکھایا گیا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ میں دار پہ لایا گیا ہوں
سب مجھے ڈھونڈنے نکلے ہیں بجھا کر آنکھیں
بات نکلی ہے کہ میں خواب میں پایا گیا ہوں
پیڑ بھی زرد ہوئے جاتے ہیں مجھ سے مل کر
جانے میں کیسی اداسی سے بنایا گیا ہوں
آسودگانِ ہجر سے ملنے کی چاہ میں
کوئی فقیر بیٹھا ہے صحرا کی راہ میں
پھر یوں ہوا کہ شوق سے کھولی نہ میں نے آنکھ
اک خواب آ گیا تھا مِری خواب گاہ میں
اس بار کتنی دیر یہاں ہوں خبر نہیں
آ تو گیا ہوں پھر سے تِری بارگاہ میں
کیوں چلتی زمیں رُکی ہوئی ہے
کیا میرے تئیں رکی ہوئی ہے
خوابوں سے اُداس ہو کے تعبیر
پلکوں کے قریں رکی ہوئی ہے
سائے کو روانہ کر دیا ہے
دیوار کہیں رکی ہوئی ہے
ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہو گا
یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہو گا
زمیں پر آنے سے پہلے ہی علم تھا مجھ کو
مِرا قیام یہاں مستقل نہیں ہو گا
اندھیرا پوجنے والوں نے فیصلہ دیا ہے
چراغ اب کسی شب میں مخل نہیں ہو گا
دشت میں اس کا آب و دانہ ہے
عشق ہوتا ہی صوفیانہ ہے
میں غلط وقت پر ہوا بیدار
یہ کسی اور کا زمانہ ہے
ریت پیغام لے کے آئی ہے
دشت میری طرف روانہ ہے
یہ کارِ خیر ہے، اس کو نہ کارِ بد سمجھو
مجھے تباہ کرو، اور اسے مدد سمجھو
میں اِس کہانی میں ترمِیم کر کے لایا ہُوں
جو تم کو پہلے سُنائی تھی، مُسترد سمجھو
مجھے خدا سے نہیں ہے کوئی گِلہ، لیکن
تم آدمی ہو تو پھر آدمی کی حد سمجھو