Showing posts with label عابد ملک. Show all posts
Showing posts with label عابد ملک. Show all posts

Thursday, 29 July 2021

گھر مرا تھا نہ وہاں کوئی گلی میری تھی

 گھر مِرا تھا، نہ وہاں کوئی گلی میری تھی

اس جگہ صرف غریب الوطنی میری تھی

یونہی کرتا تھا میں لوگوں سے گِلہ دوری کا

مجھ میں اوروں سے زیادہ تو کمی میری تھی

جتنے چہرے مجھے یاد آئے، اسی کے آئے

وہ جو اک شکل مجھے بھول گئی، میری تھی

Sunday, 18 April 2021

کہانی اس لیے آگے نہ بڑھ سکی میری

 کہانی اس لیے آگے نہ بڑھ سکی میری

میں زندگی کا مخالف تھا، زندگی میری

جڑا ہوا ہے مِرا وقت تیرے وقت کے ساتھ

بندھی ہوئی ہے تِرے ہاتھ پر گھڑی میری

نظر پڑی کسی تصویر پر تو یاد آیا

بہت عزیز تھی اک شخص کو ہنسی میری

Monday, 15 March 2021

اک اجنبی کی طرح ہے یہ زندگی مرے ساتھ

 اک اجنبی کی طرح ہے یہ زندگی مِرے ساتھ

جو وقت کاٹ رہی ہے ہنسی خوشی مرے ساتھ

سنا رہا ہوں کسی اور کو کتھا اپنی

کھڑا ہوا ہے کوئی اور آدمی مرے ساتھ

سفر میں پیڑ کا سایا نہیں ملے گا مجھے

بس اتنا سنتے ہی دیوار چل پڑی مرے ساتھ

Sunday, 7 March 2021

گلے لگائے مجھے، میرا رازداں ہو جائے

 گلے لگائے مجھے، میرا رازداں ہو جائے

کسی طرح یہ شجر مجھ پہ مہرباں ہو جائے

ستارے جھاڑ کے بالوں سے اب یہ کہتا ہوں

کوئی زمین پہ رہ کر نہ آسماں ہو جائے

اسی لیے تو اداسی سے گفتگو نہیں کی

کہیں وہ بات نہ باتوں کے درمیاں ہو جائے

Friday, 5 March 2021

کسی پرانی حویلی سے اک دیا نکلا

 کسی پرانی حویلی سے اک دِیا نِکلا

یہ کون میری محبت میں مبتلا نکلا

رفاقتوں کے زمان و مکاں سمجھتے ہوئے

میں ایک روز تمہاری گلی میں جا نکلا

جڑے ہوئے ہیں ابھی بھی مکالمے سے یہ لوگ

تمہارا شہر تو تہذیب یافتہ نکلا

Wednesday, 3 March 2021

آخری بار زمانے کو دکھایا گیا ہوں

آخری بار زمانے کو دکھایا گیا ہوں

ایسا لگتا ہے کہ میں دار پہ لایا گیا ہوں

سب مجھے ڈھونڈنے نکلے ہیں بجھا کر آنکھیں

بات نکلی ہے کہ میں خواب میں پایا گیا ہوں

پیڑ بھی زرد ہوئے جاتے ہیں مجھ سے مل کر

جانے میں کیسی اداسی سے بنایا گیا ہوں

Friday, 26 February 2021

آسودگان ہجر سے ملنے کی چاہ میں

 آسودگانِ ہجر سے ملنے کی چاہ میں

کوئی فقیر بیٹھا ہے صحرا کی راہ میں

پھر یوں ہوا کہ شوق سے کھولی نہ میں نے آنکھ

اک خواب آ گیا تھا مِری خواب گاہ میں

اس بار کتنی دیر یہاں ہوں خبر نہیں

آ تو گیا ہوں پھر سے تِری بارگاہ میں

Thursday, 25 February 2021

کیوں چلتی زمیں رکی ہوئی ہے

 کیوں چلتی زمیں رُکی ہوئی ہے

کیا میرے تئیں رکی ہوئی ہے

خوابوں سے اُداس ہو کے تعبیر

پلکوں کے قریں رکی ہوئی ہے

سائے کو روانہ کر دیا ہے

دیوار کہیں رکی ہوئی ہے

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہو گا

 ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہو گا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہو گا

زمیں پر آنے سے پہلے ہی علم تھا مجھ کو

مِرا قیام یہاں مستقل نہیں ہو گا

اندھیرا پوجنے والوں نے فیصلہ دیا ہے

چراغ اب کسی شب میں مخل نہیں ہو گا

Wednesday, 24 February 2021

دشت میں اس کا آب و دانہ ہے

 دشت میں اس کا آب و دانہ ہے

عشق ہوتا ہی صوفیانہ ہے

میں غلط وقت پر ہوا بیدار

یہ کسی اور کا زمانہ ہے

ریت پیغام لے کے آئی ہے

دشت میری طرف روانہ ہے

یہ کار خیر ہے اس کو نہ کار بد سمجھو

 یہ کارِ خیر ہے، اس کو نہ کارِ بد سمجھو

مجھے تباہ کرو، اور اسے مدد سمجھو

میں اِس کہانی میں ترمِیم کر کے لایا ہُوں

جو تم کو پہلے سُنائی تھی، مُسترد سمجھو

مجھے خدا سے نہیں ہے کوئی گِلہ، لیکن

تم آدمی ہو تو پھر آدمی کی حد سمجھو