Showing posts with label معصومہ شیرازی. Show all posts
Showing posts with label معصومہ شیرازی. Show all posts

Sunday, 4 August 2024

سناں کی نوک پہ جینا سکھا دیا گیا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سناں کی نوک پہ جینا سکھا دیا گیا ہے

صراط عشق سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے

سفر نہیں ہے یہ ہجرت ہے سوئے کرب و بلا

ہمیں شعور کا رستہ دکھا دیا گیا ہے

دیار دل میں نہیں ہے اگر بتولؑ کا غم

تِرا ضمیر سقیفہ بنا دیا گیا ہے

Friday, 26 July 2024

وادئ عشق میں سرخ پرچم لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

سُوئے کربلا


وادئ عشق میں سرخ پرچم لیے

پا برہنہ ہیں عشاق کے قافلے

چار جانب ہے شوق ملاقات کا 

ایک محشر بپا

چومتی ہے جبینوں کو خاک شفا

وادئ عشق سے آ رہی ہے صدا

Tuesday, 23 July 2024

لا تقنطو من رحمت اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

لا تقنطو من رحمت اللہ

(مسجد جمکران کے اس محرابِ مقدس پر کہی گئی نظم، جو امامِ زمانہ سے منسوب ہے)


سنا ہے رات کے پچھلے پہر اکثر

اسی گلفام محرابِ منقش میں

زمانے کا مسیحا

وقت کی جلتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر

اسمِ اعظم ورد کرتا ہے

Tuesday, 16 July 2024

روح و تن آپ پہ قربان اباعبداللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


روح و تن آپ پہ قربان اباعبداللہؑ

حرز جاں آپ کے فرمان اباعبدللہؑ

درس توحید ہے ہر فاسق و فاجر کی نفی

رمز عاشور ہے انکار ستمگار و شقی

لعن ہے سید حمزہؑ کے جگر خواروں پر

لعن ہے بغض میں جلتے ہوئے خونخواروں پر

Monday, 8 July 2024

ہر زمانے کا انتساب حسین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر زمانے کا انتساب حسینؑ

بولتا سرُخ انقلاب حسینؑ

جس کا صدیوں نے انتظار کیا

اس رسالت کی آب و تاب حسینؑ

حرف تسلیم کے مصلے پر

سجدہ عشق کا شباب حسینؑ

Sunday, 7 July 2024

وہ کیسا وقت تھا قیامت کی گھڑی تھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

وہ کیسا وقت تھا


قیامت کی گھڑی تھی جب

امینِ حُرمتِ کعبہ نے اپنے ہاتھ سے باندھا ہوا

احرام کھولا تھا

یہ وہ لمحہ تھا جب صدیوں کے ماتھے پر

سکوتِ مرگ طاری تھا

ہوا خاکِ حرم کے زرد پہلو سے