عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سناں کی نوک پہ جینا سکھا دیا گیا ہے
صراط عشق سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے
سفر نہیں ہے یہ ہجرت ہے سوئے کرب و بلا
ہمیں شعور کا رستہ دکھا دیا گیا ہے
دیار دل میں نہیں ہے اگر بتولؑ کا غم
تِرا ضمیر سقیفہ بنا دیا گیا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سناں کی نوک پہ جینا سکھا دیا گیا ہے
صراط عشق سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے
سفر نہیں ہے یہ ہجرت ہے سوئے کرب و بلا
ہمیں شعور کا رستہ دکھا دیا گیا ہے
دیار دل میں نہیں ہے اگر بتولؑ کا غم
تِرا ضمیر سقیفہ بنا دیا گیا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سُوئے کربلا
وادئ عشق میں سرخ پرچم لیے
پا برہنہ ہیں عشاق کے قافلے
چار جانب ہے شوق ملاقات کا
ایک محشر بپا
چومتی ہے جبینوں کو خاک شفا
وادئ عشق سے آ رہی ہے صدا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لا تقنطو من رحمت اللہ
(مسجد جمکران کے اس محرابِ مقدس پر کہی گئی نظم، جو امامِ زمانہ سے منسوب ہے)
سنا ہے رات کے پچھلے پہر اکثر
اسی گلفام محرابِ منقش میں
زمانے کا مسیحا
وقت کی جلتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر
اسمِ اعظم ورد کرتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
روح و تن آپ پہ قربان اباعبداللہؑ
حرز جاں آپ کے فرمان اباعبدللہؑ
درس توحید ہے ہر فاسق و فاجر کی نفی
رمز عاشور ہے انکار ستمگار و شقی
لعن ہے سید حمزہؑ کے جگر خواروں پر
لعن ہے بغض میں جلتے ہوئے خونخواروں پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر زمانے کا انتساب حسینؑ
بولتا سرُخ انقلاب حسینؑ
جس کا صدیوں نے انتظار کیا
اس رسالت کی آب و تاب حسینؑ
حرف تسلیم کے مصلے پر
سجدہ عشق کا شباب حسینؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ کیسا وقت تھا
قیامت کی گھڑی تھی جب
امینِ حُرمتِ کعبہ نے اپنے ہاتھ سے باندھا ہوا
احرام کھولا تھا
یہ وہ لمحہ تھا جب صدیوں کے ماتھے پر
سکوتِ مرگ طاری تھا
ہوا خاکِ حرم کے زرد پہلو سے