Showing posts with label سیما میرٹھی. Show all posts
Showing posts with label سیما میرٹھی. Show all posts

Thursday, 15 May 2025

پوچھ مت کل آئینہ میں کیا ہوا

 پوچھ مت کل آئینہ میں کیا ہوا

اپنے زندہ ہونے کا دھوکہ ہوا

روز سورج ڈوبتا اگتا ہوا

وقت کی اک کیل پر لٹکا ہوا

آ گیا لے کر ادھاری روشنی

چاند نے سورج کو ہے پہنا ہوا

Saturday, 8 February 2025

آسماں بھی پکارتا ہے مجھے

 آسماں بھی پُکارتا ہے مجھے

آشیاں بھی لُبھا رہا ہے مجھے

عکس آخر کہاں گیا میرا؟

آئینہ کیوں چُھپا رہا ہے مجھے

مجھ میں سُورج اُگا کے چاہت کا

وہ سویرا سا کر گیا ہے مجھے

Monday, 3 June 2024

حقیقت زیست کی سمجھا نہیں ہے

 حقیقت زیست کی سمجھا نہیں ہے

وہ اپنے دشت سے گُزرا نہیں ہے

اندھیرے رقص کرتے ہیں مُسلسل

کہ سُورج رات کو آتا نہیں ہے

کرے گا خُود کشی ہی ایک دن وہ

سکوں جس ذہن کو ملتا نہیں ہے

Saturday, 7 August 2021

سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں

 سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں

پیڑوں کی چھاؤں کا ہی سہارا ہے ان دنوں

ہم کو بھی دل کے درد نے مارا ہے ان دنوں

دردِ جگر غزل میں اتارا ہے ان دنوں

احساس برف برف ہیں دل کی زمین پر

یادوں کی دھوپ کا ہی سہارا ہے ان دنوں