پوچھ مت کل آئینہ میں کیا ہوا
اپنے زندہ ہونے کا دھوکہ ہوا
روز سورج ڈوبتا اگتا ہوا
وقت کی اک کیل پر لٹکا ہوا
آ گیا لے کر ادھاری روشنی
چاند نے سورج کو ہے پہنا ہوا
پوچھ مت کل آئینہ میں کیا ہوا
اپنے زندہ ہونے کا دھوکہ ہوا
روز سورج ڈوبتا اگتا ہوا
وقت کی اک کیل پر لٹکا ہوا
آ گیا لے کر ادھاری روشنی
چاند نے سورج کو ہے پہنا ہوا
آسماں بھی پُکارتا ہے مجھے
آشیاں بھی لُبھا رہا ہے مجھے
عکس آخر کہاں گیا میرا؟
آئینہ کیوں چُھپا رہا ہے مجھے
مجھ میں سُورج اُگا کے چاہت کا
وہ سویرا سا کر گیا ہے مجھے
حقیقت زیست کی سمجھا نہیں ہے
وہ اپنے دشت سے گُزرا نہیں ہے
اندھیرے رقص کرتے ہیں مُسلسل
کہ سُورج رات کو آتا نہیں ہے
کرے گا خُود کشی ہی ایک دن وہ
سکوں جس ذہن کو ملتا نہیں ہے
سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں
پیڑوں کی چھاؤں کا ہی سہارا ہے ان دنوں
ہم کو بھی دل کے درد نے مارا ہے ان دنوں
دردِ جگر غزل میں اتارا ہے ان دنوں
احساس برف برف ہیں دل کی زمین پر
یادوں کی دھوپ کا ہی سہارا ہے ان دنوں