کوئی تو ایسا ہو
کوئی تو ایسا ہو زندگی میں
جو لرزشوں کو قرار بخشے
خزاں رسیدہ سنہرے پتوں کی
سسکیوں کو بہار بخشے
کوئی تو ایسا ہو زندگی میں
کوئی تو ایسا ہو
کوئی تو ایسا ہو زندگی میں
جو لرزشوں کو قرار بخشے
خزاں رسیدہ سنہرے پتوں کی
سسکیوں کو بہار بخشے
کوئی تو ایسا ہو زندگی میں
دل کا ڈھول بجاتا ہوں تو بِکتا ہوں
خود کو آگ لگاتا ہوں تو بکتا ہوں
میرے اشک سمندر کا سرمایہ ہیں
ساحل پر جب جاتا ہوں، تو بکتا ہوں
میں وہ پیڑ ہوں، اُگتا ہوں تو کٹتا ہوں
کٹ کر پھر اُگ آتا ہوں، تو بکتا ہوں
ہر چند زمانہ بھی زمانے کا نہیں ہے
کچھ ایسا تماشا کہ دکھانے کا نہیں ہے
کچھ اشک جو آنکھوں میں سمٹتے ہی نہیں ہیں
اک درد جو سینے میں دبانے کا نہیں ہے
تم مجھ سے بچھڑنے کا کہیں ذکر نہ کرنا
یہ واقعہ بچوں کو سنانے کا نہیں ہے
یک بیک پنجرۂ الفت میں پھڑکنے لگ جائے
طائرِ ہجر مِری راہ نہ تکنے لگ جائے
کاش میں دل تِرے سینے میں اتاروں اپنا
اور مِرا غم تِری رگ رگ میں دھڑکنے لگ جائے
عین ممکن ہے کسی روز میں نکلوں گھر کو
اور مسکن کی طلب راہ میں تھکنے لگ جائے
تمہارے سامنے ممکن ہے ہم برے ٹھہریں
کہ شہرِ سنگ میں کیسے یہ آئینے ٹھہریں
وہ گل بدن جو چلے، راستے نکھر جائیں
وہ چشمِ مست رکے اور میکدے ٹھہریں
یہ باغ عشق ہے، موسم بغیر سبز رہے
خزاں بھی طاری رہے، پیڑ بھی ہرے ٹھہریں
سوہنی
سوہنی، مجھ سے مل لو آ کر
سوہنی، میں بیمار پڑا ہوں
سوہنی، درد بہت ہے اب تو
سوہنی، میں لاچار پڑا ہوں
سوہنی، ایک اذیت سی ہے
سوہنی، ساتھ میں چاہت سی ہے
ہار جانے پر وفا کی بے بسی دیکھی گئی
بند کمرے میں کسی کی خود کشی دیکھی گئی
آپ نے زنجیر کو چھو کر بنا ڈالا ہے بیل
اور پیڑوں پر خزاں میں تازگی دیکھی گئی
معجزاتی طور پہ دیکھا گیا چہرہ کوئی
آخری لمحوں میں گویا زندگی دیکھی گئی
نقصان
دیکھ رہا ہوں ٹوٹے کنگن
سوچ رہا ہوں کس نے توڑے
توڑ دیئے تو پھینکے کیوں ہیں
پھینک دیئے تو اب رو رو ہلکان ہوا ہے
ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟
پرانے زخم
سہانی شاموں کے سرد لہجے
مروتوں کی عناد میں ہیں
پرانے زخموں کے ادھ کھلے منہ
دہانے شاید فساد کے ہیں
کسی سے کہنا، کسی کی سننا
کسی کے رستے سے کانٹے چننا