Showing posts with label وجاہت باقی. Show all posts
Showing posts with label وجاہت باقی. Show all posts

Thursday, 20 January 2022

کوئی تو ایسا ہو زندگی میں

 کوئی تو ایسا ہو


کوئی تو ایسا ہو زندگی میں

جو لرزشوں کو قرار بخشے

خزاں رسیدہ سنہرے پتوں کی

سسکیوں کو بہار بخشے

کوئی تو ایسا ہو زندگی میں

Tuesday, 18 January 2022

دل کا ڈھول بجاتا ہوں تو بکتا ہوں

دل کا ڈھول بجاتا ہوں تو بِکتا ہوں

خود کو آگ لگاتا ہوں تو بکتا ہوں

میرے اشک سمندر کا سرمایہ ہیں

ساحل پر جب جاتا ہوں، تو بکتا ہوں

میں وہ پیڑ ہوں، اُگتا ہوں تو کٹتا ہوں

کٹ کر پھر اُگ آتا ہوں، تو بکتا ہوں

Sunday, 6 June 2021

ہر چند زمانہ بھی زمانے کا نہیں ہے

 ہر چند زمانہ بھی زمانے کا نہیں ہے

کچھ ایسا تماشا کہ دکھانے کا نہیں ہے

کچھ اشک جو آنکھوں میں سمٹتے ہی نہیں ہیں

اک درد جو سینے میں دبانے کا نہیں ہے 

تم مجھ سے بچھڑنے کا کہیں ذکر نہ کرنا

یہ واقعہ بچوں کو سنانے کا نہیں ہے

Sunday, 28 February 2021

یک بیک پنجرۂ الفت میں پھڑکنے لگ جائے

 یک بیک پنجرۂ الفت میں پھڑکنے لگ جائے

طائرِ ہجر مِری راہ نہ تکنے لگ جائے

کاش میں دل تِرے سینے میں اتاروں اپنا

اور مِرا غم تِری رگ رگ میں دھڑکنے لگ جائے

عین ممکن ہے کسی روز میں نکلوں گھر کو

اور مسکن کی طلب راہ میں تھکنے لگ جائے

Friday, 25 September 2020

تمہارے سامنے ممکن ہے ہم برے ٹھہریں

 تمہارے سامنے ممکن ہے ہم برے ٹھہریں

کہ شہرِ سنگ میں کیسے یہ آئینے ٹھہریں

وہ گل بدن جو چلے، راستے نکھر جائیں

وہ چشمِ مست رکے اور میکدے ٹھہریں

یہ باغ عشق ہے، موسم بغیر سبز رہے

خزاں بھی طاری رہے، پیڑ بھی ہرے ٹھہریں

Tuesday, 22 September 2020

سوہنی مجھ سے مل لو آ کر

 سوہنی


سوہنی، مجھ سے مل لو آ کر

سوہنی، میں بیمار پڑا ہوں

سوہنی، درد بہت ہے اب تو

سوہنی، میں لاچار پڑا ہوں

سوہنی، ایک اذیت سی ہے

سوہنی، ساتھ میں چاہت سی ہے

Saturday, 19 September 2020

ہار جانے پر وفا کی بے بسی دیکھی گئی

 ہار جانے پر وفا کی بے بسی دیکھی گئی

بند کمرے میں کسی کی خود کشی دیکھی گئی

آپ نے زنجیر کو چھو کر بنا ڈالا ہے بیل

اور پیڑوں پر خزاں میں تازگی دیکھی گئی

معجزاتی طور پہ دیکھا گیا چہرہ کوئی

آخری لمحوں میں گویا زندگی دیکھی گئی

Friday, 18 September 2020

دیکھ رہا ہوں ٹوٹے کنگن

 نقصان


دیکھ رہا ہوں ٹوٹے کنگن

سوچ رہا ہوں کس نے توڑے

توڑ دیئے تو پھینکے کیوں ہیں

پھینک دیئے تو اب رو رو ہلکان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

سہانی شاموں کے سرد لہجے

 پرانے زخم


سہانی شاموں کے سرد لہجے

مروتوں کی عناد میں ہیں

پرانے زخموں کے ادھ کھلے منہ

دہانے شاید فساد کے ہیں

کسی سے کہنا، کسی کی سننا

کسی کے رستے سے کانٹے چننا

Tuesday, 15 September 2020

یہ میرا فیصلہ ہے جو بتانا چاہتا ہوں

یہ میرا فیصلہ ہے جو بتانا چاہتا ہوں
میں اس کے نام کی بستی بسانا چاہتا ہوں
اتر رہی ہے تری ذات مری رگ رگ میں
مگر میں خون کے رشتے نبھانا چاہتا ہوں
تجھے تو علم ہے وحشت کی دوا کیا ہو گی
طبیبا! یار میں وحشت مٹانا چاہتا ہوں

Monday, 14 September 2020

سورج ڈھلا تو درد اٹھا ہے میں کیا کروں

سورج ڈھلا تو درد اٹھا ہے، میں کیا کروں
میرا یہ ضبط ٹوٹ چکا ہے، میں کیا کروں
ہارے ہوئے وجود پہ خوں خرچ رہا ہوں
منہ کو کلیجہ آن چلا ہے، میں کیا کروں
بڑھتا ہوا سکون کیا طوفان لائے گا
ساون کی طرح حبس ہوا ہے، میں کیا کروں

Sunday, 13 September 2020

رنگ شکستہ ہو تو اس کے در پر جا کر ملتا ہے

دوشیزہ

رنگ شکستہ ہو تو اس کے در پر جا کر ملتا ہے
اور تبسم کے سب اگلے پچھلے روپ اسی کے ہیں
نام جو پریوں کا سنتے ہو، اس کے ہی سب قصے ہیں
ہاں کچھ لوگ ہیں جن کو یہ اعزاز ملا کہ اس کو دیکھیں
ہاں وہ لوگ ہیں، جو پھر کملے ہو کر باتیں گھڑ لیتے ہیں
جا کر کہتے ہیں کہ جھیل کنارے ان کو دید ہوئی ہے

پچھلی بار ملے جب ہم تم

وقت بتاؤ

پچھلی بار ملے جب ہم تم
باتیں کرتے کرتے تم نے
مجھ سے بولا
وقت بتاؤ
تب تو میں نے بن سوچے ہی

Friday, 11 September 2020

وہی ہے حال میرا جو زیاں ہونے سے پہلے تھا

وہی ہے حال میرا، جو زیاں ہونے سے پہلے تھا
وہی ہے غم جو میرے بے نشاں ہونے سے پہلے تھا
دھڑک کر سہہ لیا لیکن، بتانا بھی ضروری ہے
تمہیں کیسے پتا میں دل، زباں ہونے سے پہلے تھا
تمہارے در پہ آ بیٹھا، تمہارے پاؤں بھی پکڑے
میں ایسے فقر کا عادی، یہاں ہونے سے پہلے تھا

کس قدر اذیت ہے

کس قدر اذیت ہے

سانس چل نہیں رہی
دل دھڑک نہیں رہا
چپ سی لگ گئی مجھے
اور تم یہ پوچھو کہ
میرا حال کیسا ہے؟