یاد ہے اب تک مجھے عہد جوانی یاد ہے
دل کے بسنے اور اجڑنے کی کہانی یاد ہے
یاد ہے اب تک کسی کی مہربانی یاد ہے
عارضوں پر اپنے اشکوں کی روانی یاد ہے
بستر حرماں پہ وہ پہلو بدلنا بار بار
غم کی راتوں میں وہ قہر آسمانی یاد ہے
یاد ہے اب تک مجھے عہد جوانی یاد ہے
دل کے بسنے اور اجڑنے کی کہانی یاد ہے
یاد ہے اب تک کسی کی مہربانی یاد ہے
عارضوں پر اپنے اشکوں کی روانی یاد ہے
بستر حرماں پہ وہ پہلو بدلنا بار بار
غم کی راتوں میں وہ قہر آسمانی یاد ہے
شام غم کی سحر نہ ہو جائے
ہر خوشی مختصر نہ ہو جائے
آہ دل پر اثر نہ ہو جائے
ان کی بھی آنکھ تر نہ ہو جائے
راز الفت سنبھال کر رکھیے
ہر کوئی با خبر نہ ہو جائے
دلوں کو توڑنے والو خدا کا خوف کرو
گرے ہوؤں کو اٹھا لو خدا کا خوف کرو
چمک کر اور بڑھاؤ نہ میری سیہ بختی
بڑے گھروں کے اجالو خدا کا خوف کرو
نہ جاؤ کار محبت میں چھوڑ کر تنہا
ذرا سا ہاتھ بٹا لو خدا کا خوف کرو
نہ رہبر نے نہ اُس کی رہبری نے
مجھے منزل عطا کی گُمرہی نے
بنا ڈالا زمانے بھر کو دُشمن
فقط اک اجنبی کی دوستی نے
وہ کیوں محتاج ہو شمس و قمر کا
جِلا بخشی ہو جس کو تیرگی نے
جب تِرا آسرا نہیں مِلتا
کوئی بھی راستا نہیں ملتا
اپنا اپنا نصیب ہے پیارے
ورنہ دُنیا میں کیا نہیں ملتا
تُو نے ڈُھونڈا نہیں تہِ دل سے
ورنہ کس جا خدا نہیں ملتا؟
اک دامن میں پھول بھرے ہیں، اک دامن میں آگ ہی آگ
یہ ہے اپنی اپنی قسمت، یہ ہیں اپنے اپنے بھاگ
راہ کٹھن ہے، دور ہے منزل، وقت بچا ہے تھوڑا سا
اب تو سورج آ گیا سر پر، سونے والے اب تو جاگ
پیری میں تو یہ سب باتیں زاہد اچھی لگتی ہیں
ذکر عبادت بھری جوانی میں، جیسے بے وقت کا راگ