Showing posts with label برق پونچھوی. Show all posts
Showing posts with label برق پونچھوی. Show all posts

Wednesday, 13 March 2024

یاد ہے اب تک مجھے عہد جوانی یاد ہے

 یاد ہے اب تک مجھے عہد جوانی یاد ہے

دل کے بسنے اور اجڑنے کی کہانی یاد ہے

یاد ہے اب تک کسی کی مہربانی یاد ہے

عارضوں پر اپنے اشکوں کی روانی یاد ہے

بستر حرماں پہ وہ پہلو بدلنا بار بار

غم کی راتوں میں وہ قہر آسمانی یاد ہے

Monday, 19 February 2024

شام غم کی سحر نہ ہو جائے

 شام غم کی سحر نہ ہو جائے

ہر خوشی مختصر نہ ہو جائے

آہ دل پر اثر نہ ہو جائے

ان کی بھی آنکھ تر نہ ہو جائے

راز الفت سنبھال کر رکھیے

ہر کوئی با خبر نہ ہو جائے

Wednesday, 14 February 2024

دلوں کو توڑنے والو خدا کا خوف کرو

 دلوں کو توڑنے والو خدا کا خوف کرو

گرے ہوؤں کو اٹھا لو خدا کا خوف کرو

چمک کر اور بڑھاؤ نہ میری سیہ بختی

بڑے گھروں کے اجالو خدا کا خوف کرو

نہ جاؤ کار محبت میں چھوڑ کر تنہا

ذرا سا ہاتھ بٹا لو خدا کا خوف کرو

Tuesday, 31 August 2021

نہ رہبر نے نہ اس کی رہبری نے

نہ رہبر نے نہ اُس کی رہبری نے

مجھے منزل عطا کی گُمرہی نے

بنا ڈالا زمانے بھر کو دُشمن

فقط اک اجنبی کی دوستی نے

وہ کیوں محتاج ہو شمس و قمر کا

جِلا بخشی ہو جس کو تیرگی نے

Saturday, 1 May 2021

جب ترا آسرا نہیں ملتا

جب تِرا آسرا نہیں مِلتا

کوئی بھی راستا نہیں ملتا

اپنا اپنا نصیب ہے پیارے

ورنہ دُنیا میں کیا نہیں ملتا

تُو نے ڈُھونڈا نہیں تہِ دل سے

ورنہ کس جا خدا نہیں ملتا؟

Tuesday, 17 November 2020

اک دامن میں پھول بھرے ہیں اک دامن میں آگ ہی آگ

 اک دامن میں پھول بھرے ہیں، اک دامن میں آگ ہی آگ

یہ ہے اپنی اپنی قسمت، یہ ہیں اپنے اپنے بھاگ

راہ کٹھن ہے، دور ہے منزل، وقت بچا ہے تھوڑا سا

اب تو سورج آ گیا سر پر، سونے والے اب تو جاگ

پیری میں تو یہ سب باتیں زاہد اچھی لگتی ہیں

ذکر عبادت بھری جوانی میں، جیسے بے وقت کا راگ