گُماں سے بنتا نہیں ہے یہاں یقیں ہر روز
غزل کہو، مجھے کہتی ہے یہ زمیں ہر روز
قسم خُدا کی خُدا کو بھی تھا گِلہ ان سے
جو تیرے آگے جھُکاتے رہے جبیں ہر روز
ہم ایسے لوگ محبت سے بے نیاز رہے
ہمارے نام پہ مرتے رہے حسیں ہر روز
سنپولیے کو یہاں پالنے سے کیا حاصل
تڑپ تڑپ کے یہ کہتی ہے آستیں ہر روز
کٹھن بہت ہے رہائش یہاں، مگر یہ دل
ہے وہ مکاں جو بدلتا نہیں مکیں ہر روز
نادیہ گیلانی
No comments:
Post a Comment