نشاط و غم سے زمانے کے ہے جو بیگانہ
مِری نگاہ میں ہشیار ہے وہ دیوانہ
یہ کس نے دیکھ لیا مدھ بھری نگاہوں سے
چھلک پڑا ہے تمنا کا میری پیمانہ
نگاہِ شوق سے الفت کی پوچھ کیفیت
زباں سنا نہیں سکتی ہے دل کا افسانہ
نشاط و غم سے زمانے کے ہے جو بیگانہ
مِری نگاہ میں ہشیار ہے وہ دیوانہ
یہ کس نے دیکھ لیا مدھ بھری نگاہوں سے
چھلک پڑا ہے تمنا کا میری پیمانہ
نگاہِ شوق سے الفت کی پوچھ کیفیت
زباں سنا نہیں سکتی ہے دل کا افسانہ
ہم ٹھہر پائے نہ کعبے میں نہ بتخانے میں
عمر گزری دل شوریدہ کے بہلانے میں
آج تک ہو نہ سکے محرم اسرار جنوں
برسیں گزریں ہمیں رہتے ہوئے ویرانے میں
اپنے تو اپنے رہے غیر بھی رو دیتے ہیں
ایسی کیا بات ہے ہمدم مرے افسانے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وجہ سکوں ارمانِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم
جان و دل قربان محمد صلی اللہ علیہ و سلم
شافع محشر، ساقئ کوثر، رحمتِ عالم، ہادئ اُمت
اللہ اللہ شانِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم
نغمۂ وحدت سب کو سنایا سوئی ہوئی روحوں کا جگایا
سبحان اللہ شانِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم
ہجوم غم میں جینا کس قدر صبر آزما ہوتا
اگر دردِ محبت سے یہ دل نا آشنا ہوتا
مِری لغزش نے رنگیں کر دیا ہر نقش ہستی کو
یہاں ہو کا سماں ہوتا اگر میں پارسا ہوتا
تمنا خود فریبی آرزو ہے جان کی دشمن
مسرت دل کو دینا تھی تو بس غم ہی دیا ہوتا