مِرے اس شہر میں کیوں حُسن ہے بازار کی وحشت
جہاں پر باعثِ شمشیر ہے دربار کی وحشت
مخاطب ہو کے یوں شامِ محبت سے مِری وحشت
مجھے کہتی تِرے چہرے پہ ہے بیکار کی وحشت
عجب ایسے جہاں میں جی رہا ہوں پوچھو مت صاحب
جلا دیتی جہاں فنکار کو فنکار کی وحشت
مِرے اس شہر میں کیوں حُسن ہے بازار کی وحشت
جہاں پر باعثِ شمشیر ہے دربار کی وحشت
مخاطب ہو کے یوں شامِ محبت سے مِری وحشت
مجھے کہتی تِرے چہرے پہ ہے بیکار کی وحشت
عجب ایسے جہاں میں جی رہا ہوں پوچھو مت صاحب
جلا دیتی جہاں فنکار کو فنکار کی وحشت
مجھ کو شامل کر کہانی نے بھرم سا رکھ لیا
ایک بوڑھے کی جوانی نے بھرم سا رکھ لیا
دودھ ماں نے کچھ زیادہ ہی دیا بچے کو آج
اس کو کیا معلوم پانی نے بھرم سا رکھ لیا
یہ مکاں اجداد کا ہے کیسے بیچوں میں اسے
باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا
میں یہ گاؤں واسی ہوں سو شہر جانے سے رہے
شہر کی اس آنکھ میں اب اشک آنے سے رہے
تین بیٹوں کو اکیلا ہی وہ پالا کرتا تھا
تین بیٹے بوجھ ابا کا اٹھانے سے رہے
کربلا میں آج تو خود ہی کوئی رستہ نکال
آج ہم اے تشنگی تجھ کو بجھانے سے رہے
حشر کا نام پھر سے بھول گیا
اپنا انجام پھر سے بھول گیا
داد دیں میرے حافظے کو آپ
آپ کا نام پھر سے بھول گیا
دوسری بار پھر محبت کی
پہلا انجام پھر سے بھول گیا
تیری غداریوں سے واقف ہوں
ان اداکاریوں سے واقف ہوں
میں نے مدت سے تیری قید سہی
تیری کمزوریوں سے واقف ہوں
بے وجہ جو حرام کھاتے ہیں
ایسے پٹواریوں سے واقف ہوں