Showing posts with label نعیم طلب. Show all posts
Showing posts with label نعیم طلب. Show all posts

Saturday, 5 September 2026

مرے اس شہر میں کیوں حسن ہے بازار کی وحشت

مِرے اس شہر میں کیوں حُسن ہے بازار کی وحشت

جہاں پر باعثِ شمشیر ہے دربار کی وحشت

مخاطب ہو کے یوں شامِ محبت سے مِری وحشت

مجھے کہتی تِرے چہرے پہ ہے بیکار کی وحشت

عجب ایسے جہاں میں جی رہا ہوں پوچھو مت صاحب

جلا دیتی جہاں فنکار کو فنکار کی وحشت

Friday, 13 March 2026

باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا

 مجھ کو شامل کر کہانی نے بھرم سا رکھ لیا

ایک بوڑھے کی جوانی نے بھرم سا رکھ لیا

دودھ ماں نے کچھ زیادہ ہی دیا بچے کو آج

اس کو کیا معلوم پانی نے بھرم سا رکھ لیا

یہ مکاں اجداد کا ہے کیسے بیچوں میں اسے

باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا

Thursday, 12 September 2024

میں یہ گاؤں واسی ہوں سو شہر جانے سے رہے

 میں یہ گاؤں واسی ہوں سو شہر جانے سے رہے

شہر کی اس آنکھ میں اب اشک آنے سے رہے

تین بیٹوں کو اکیلا ہی وہ پالا کرتا تھا

تین بیٹے بوجھ ابا کا اٹھانے سے رہے

کربلا میں آج تو خود ہی کوئی رستہ نکال

آج ہم اے تشنگی تجھ کو بجھانے سے رہے

Monday, 17 June 2024

حشر کا نام پھر سے بھول گیا

 حشر کا نام پھر سے بھول گیا

اپنا انجام پھر سے بھول گیا

داد دیں میرے حافظے کو آپ

آپ کا نام پھر سے بھول گیا

دوسری بار پھر محبت کی

پہلا انجام پھر سے بھول گیا

Tuesday, 11 January 2022

تیری غداریوں سے واقف ہوں

 تیری غداریوں سے واقف ہوں

ان اداکاریوں سے واقف ہوں

میں نے مدت سے تیری قید سہی

تیری کمزوریوں سے واقف ہوں

بے وجہ جو حرام کھاتے ہیں

ایسے پٹواریوں سے واقف ہوں